Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بی بی ہم شرمندہ ہیں -----تیرے قاتل زندہ ہیں

تحریر: مختار احمد منگل 24 دسمبر 2019
بی بی ہم شرمندہ ہیں -----تیرے قاتل زندہ ہیں

پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو نے جہاں نئی تاریخ رقم کی وہیں ان کی صاحبزادی محتر مہ بینظیر بھٹو نے وراثت میں ملنے والی اس سیاست کو جلا بخشی جس کی بنیاد پر ملک کے اندر سیاست نے نت نئی کروٹیں لیں اور کئی سیاستداں سیاست کے پرخار میدان میں اتر آئے لیکن آنے والے ان تمام سیاستدانوں میں 1967میں بنائی جا نے والی سیاسی جماعت کو ہی حاصل رہی یہاں تک کے بین الا اقوامی سطح پر بھٹو خاندان کی سیاست کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے کے سبب ایک جرم سمجھا جا نے لگا اور بین الا اقوامی طاقتیں اس خاندان کو مٹانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئیں جس میں انہیں ملک کے اندر میر جعفر اور میر صادق مل جا نے کے باعث کامیابی حاصل ہو ئی اور سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے با نی و پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ناکردہ جرم کے طور پر سزائے موت سنا دی گو کہ انہیں اس بات کا موقع بھی دیا گیا کہ وہ معافی نا مہ داخل کریں اور آمر ضیا کے بتائے ہو ئے راستے پر چلتے ہو ئے نئے انداز کی سیاست کریں مگر اس مرد آہن نے سر جھکا نے پر سر کٹانے کو ترجیح دی اور پھانسی کے پھندے کو چوم کر امر ہو گیا اس کے بعد بھی اس خاندان کے اند راصولوں کی سیاست کے نام پر شہادتوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے تحت 18 جولائی 1985 کو شاہنواز بھٹو کو زہر دے کر قتل کیا گیا تو دوسری طرف میر مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو جو صدمات جھیل جھیل کر بے حال ہو چکی تھیں، انہوں نے 23 اکتوبر 2011 میں دبئی کے ایک اسپتال میں زندگی کی بازی ہار دی۔اور اس خاندان کی شہادتوں کا سفر اسی طرح جاری رہا جس میں کچھ عرصے کا وقفہ ضرور آیا مگر پھر ٹھیک 38 سال بعد بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو جنہیں پاکستان میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

 

 

حکومت کے منع کرنے اور دھمکیاں ملنے کے باوجود نہ صرف پاکستان آئیں بلکہ عوام کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کردیا۔ 27 دسمبر 2017 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تھا جسے تاحیات فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔اس روز بینظیر بھٹو جو کہ ایک معتبر سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ وہ 1988 سے 1990اور 1993 سے 1996 تک وزیر اعظم رہیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ جیسے ہی جلسہ گاہ سے باہر آئیں اور ظالم قوتوں کا نشانہ بن گئیں۔ اس دن جیسے کے ملک کے اندر ایک زلزلہ برپا ہو گیا ہو۔ چاروں صوبوں میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اب پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے، مگر جب سابق صدر آصف علی زرداری اپنے بچوں بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ پاکستان پہنچے تو انہوں نے اپنا غم بھلا کر عوام کا غم باٹنا شروع کر دیا۔ ایسے میں آصف علی زرداری نے ٹوٹتے پاکستان کو بچانے کیلیے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو بچالیا جس کے بعد ملک کے اندر جمہوریت بحال ہوئی۔ آصف علی زرداری نے صدارتی منصب سنبھال کر آئینی مدت پورا کر نے والے پہلے صدرِ پاکستان کا اعزاز حاصل کیا، لیکن ان کا یہ اعزاز اور ملک میں جمہوریت کی بحالی بینظیر بھٹو کی قربانی کے مرحون منت تھی۔مقامِ افسوس یہ ہے کہ جس خاتون نے ملک و قوم کیلیے اپنی جان کی قر بانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا، ہر سال پابندی کے ساتھ ان کی یوم شہادت تو منائی جاتی ہے اور گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام بھی منعقد کیا جا تا ہے مگر پیپلز پارٹی کے وفاقی اور 10سال سے سندھ میں صوبائی حکومت قائم ہونے کے باوجود ان کے قاتلوں کا اب تک پتہ نہیں چلایا جاسکا۔جس کے تحت جیالے نا صرف اکثر و بیشتر بینظور کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر تے نظر آتے ہیں بلکہ وہ آج بھی بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں کے نعرے الاپتے ہیں مگر شاید ان کے نعرے سننے والا کو ئی نہیں بھٹو خاندان نے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے جو نمایاں کارہا ئے انجام دئے اسے قوم تا دم مرگ فراموش نہیں کر سکتی یہی وجہ ہے کہ گڑھی خدا بخش لاڑکا نہ جہاں پہلے ایک معمولی قبرستان موجود تھا بینظیر بھٹو کی کوششوں اور کاوشوں سے اب ایک عالیشان مقبرے میں تبدیل ہو چکا ہے اور جہاں ماضی میں صرف ایک روز یعنی کے 4اپریل کو ملک بھر سے عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کر نے کے لئے آتے تھے وہاں محتر مہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان سے عقیدت ،محبت رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مقبرے کے اطراف میں نا صرف اپنے کچے پکے گھر بنا لئے ہیں بلکہ وہاں با قاعدہ طور پر ایک وسیع بازار بھی بن چکا ہے جہاں ملک بھر سے سینکڑوں زائرین اپنے قائدین کو خراج عقیدت پیش کر نے کے لئے جوق در جوق آتے ہیں اور حیرت اس بات پر ہے کہ بھٹو خاندان کے اس آبائی قبرستان جہاں زائرین کی بڑی تعداد بلا روک ٹوک مزار مبارک پر حاضری دینے کے لئے آتی تھی اس مقبرے کے بننے کے بعد پولیس نے با قاعدہ طور پر چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جہاں لوگوں کو واک تھرو گیٹ سے گزارنے اور مکمل تلاشی کے بعد اندر داخلے کی اجازت دی جا تی ہے جسے دیکھنے کے بعد دل میں یہ خیال پیدا ہو تا ہے کہ اگر یہ لوگ شہید بینظیر کی زندگی میں اسی طرح پوری دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ ان کی حفاظت کر تے تو شاید بینظیر بھٹو ہمارے درمیان ہو تیں اور ملک ترقی کی نئی شاہراہ پر گامزن نظر آتا مگر صد افسوس بینظیر بھٹو شہید کی زندگی میں ان کی حفاظت نہ کر سکنے والے اب مدفون شہدا کی حفاظت کر رہے ہیں کہیں یہ بھی تو کسی سازش کا حصہ نہیں ؟۔

(384 بار دیکھا گیا)

تبصرے