Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی ترا نہ تویاد مگر اسکے خالق کو بھول بیٹھے ہیں ؟

تحریر: مختار احمد جمعه 06 دسمبر 2019
قومی ترا نہ تویاد مگر اسکے خالق کو بھول بیٹھے ہیں ؟

کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسکولوں میں روزانہ اسمبلی میں بچے قومی ترا نہ پڑھتے ہیں جبکہ کوئی بھی قومی دن ہو یا جشن آزادی ما پر مسرت موقع ہو ترا نے کی دھن کا بجا یا جا نا اور پڑھا جا نا لازم و ملزوم سمجھا جا تاہے اسی طرح جب غیر ملکی سربراہان یا وفود پاک سر زمین پر قدم رکھتے ہیں تو ان کا استقبال بھی ترا نے کی دھن بجا کر کیا جا تا ہے جبکہ پریڈ ہو یا سلامی فوجی بینڈ ترا نے کی دھن بجاکر سلامی پیش کیا جا تا ہے جبکہ ملک بھر میں سینما گھروں میں فلموں کے آغاز سے قبل ایک بھاری آواز میںیہ درس دیا جا تا ہے اب آپ اپنے ترا نے کے احترام میں کھڑے ہو جا ئیں اور اس کے بعد اسکرین پر قومی پرچم لہرا یا جا تا ہے اور لوگ سائے خدائے ذوالجلال یعنی کے ترا نے کے اختتام تک ساکت و جامد نظر آتے ہیں مگر شاید ہم سب کو قومی ترا نہ تو یاد ہے مگر ہم اس کے خالق ابوالااثر حفیظ جالندھری کو بھول چکے ہیں ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب کہاں سے آئے تھے، انہوں نے کتنی تعلیم حاصل کی اور ترا نے کے علاوہ کونسی کونسی ادبی خدمات انجام دیں اور کیا ہم انہیں وہ مقام دے پا ئے جس کے وہ حقدار تھے تو اس سلسلے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اور حکومتوںنے انہیںوہ قدر و منزلت نہیں دی جس کے وہ حقدار تھے اس سلسلے میں اگر ان کی زندگی کا احاطہ کیا جا ئے تو ان کا قرآنی نام محمد حفیظ جبکہ تعلیمی نام حفیظ جالندھری تھا جبکہ ان کے استاد مولانا غلام قادر گرا می نے انہیں ابوالاثر حفیظ جالندھری کا نام دیا وہ 14 جنوری 1900جالندھر میں حافظ را نا شمس الدین خان کے گھر پیدا ہو ئے گو کہ انہوں نے واجبی سی تعلیم حاصل کی تھی مگر اچھی صحبت ملنے کے سبب انہوں نے سب سے پہلے بچوں کے گیت تحریر کئے جوکہ ہندوستان ہمارا بھارت کا منظوم کتابی نصاب ہے کے علاوہ نغمے جن میں ابھی تو میں جوان ہوں کو ایک خاص شہرت حاصل تھی اس کے علاوہ بھی انہوں نے مختل مجموعے کلام تصویر کشمیر اور نثریں لکھیں لیکن ان کا سب سے بڑا کارنا مہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا قومی ترا نہ تھا اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود میں آیاتو شدت کے ساتھ ایک قومی ترا نے کی ضرورت محسوس ہوئی اس سلسلے میں ابتدائی طور پر ترانہ نہ ہونے کے سبب اللہ اکبر کے نعروں سے ترانے کا کام چلایا جاتا رہا اور پھر ایک ہندو شاعر پروفیسر جگن ناتھ آزاد، جو کہ ڈسٹرک پنجاب ایسٹ انڈیا میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوئے نے تحریر کیا۔

 

 

اس ترانے کے بول کچھ اس طرح تھے ’’ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک… روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک‘‘۔ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی 14 اگست 1947 کو لاہور ریڈیو اسٹیشن سے نشر کیا گیا یہ ترانہ ایک طویل عرصے تک رائج رہا اور اس کے بعد 14 جنوری 1948 کو کنٹرولر آف براڈکاسٹنگ زیڈ اے بخاری نے اس بات کی تجویز پیش کی کہ کیونکہ پاکستان کا وجود اسلام کے نام پر آیا ہے لہٰذا سورۃ فاتحہ کو قومی ترانہ قرار دیا جائے۔ لیکن سورۃ کی بے حرمتی کے پیش نظر ان کی اس تجویز کو نہیں مانا گیا۔اس دوران پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد ہوئے اور جنوبی افریقہ میں مقیم ایک مسلمان تاجر اے آر غنی نے اس بات کی پیش کش کی کہ قومی ترانہ لکھنے اور اس کی دھن بنانے والے کو 5 ہزار روپے ان کے طرف سے انعام دیئے جائیں۔ 2 جون 1948 کو حکومت پاکستان نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرلیا۔ 14 جولائی 1949 کو وزیر مواصلات سردار عبدالرب نشتر کی زیر صدارت قومی ترانے کیلیے پیش کی گئی دھنوں اور نظموں کا جائزہ لینے کیلیے 2 کمیٹیاں بنائی گئیں اور یہ بات طے پائی کہ ترانے میں مسلم قوم کی روایات کا خاص خیال رکھا جائے گا۔21 اگست 1949 کو ترانے کے ممتاز موسیقار احمد علی غلام علی چھاگلہ، جو کہ میونسپلٹی کراچی کے صدر غلام علی چھاگلہ کے صاحبزادے تھے، نے موجودہ قومی ترانے کی دھن تیار کرلی تو مگر کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس دھن کے معنی اور مفہوم کیا ہیں۔ اس کے باوجود دھن کے اندر رعب اور دبدبہ ہونے کے سبب اسے منظور کرلیا گیا۔ پہلی بار ریڈیو پاکستان میں بہرام رستم جی نے اپنے پیانو پر بجاکر ریکارڈ کرایا۔ دھن کا دورانیہ 80 سیکنڈ تھا اور اسے بجانے کیلیے 21 آلات موسیقی استعمال کیے گئے۔ یکم مارچ 1950 کو شاہ ایران کی پاکستان آمد پر ترانہ نہ ہونے کے سبب پاک بحریہ کے بینڈ نے وارنٹ آفیسر عبدالغفور کی قیادت میں کراچی ایئرپورٹ پر یہی دھن بجاکر سلامی دی۔ مرکزی کابینہ نے 2 جنوری 1954 کو منظوری بھی دے دی۔اس منظور شدہ دھن پر ترانہ لکھوانے کیلیے اس کے گراموفون ریکارڈ ملک کے تمام اہم شعرا کو بھجوانے کے ساتھ ہر رات ریڈیو پاکستان سے روزانہ یہ دھن نشر کی جاتی تھی، تاکہ شاعر اس پر بول لکھ سکیں۔

 

 

بالآخر قومی ترانہ کمیٹی کو کئی مہینوں کی سخت جدوجہد کے بعد 723 ترانے موصول ہوئے۔ جس میں حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع اور زیڈ اے بخاری کی طرف سے بھیجے گئے ترانوں کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ اس کے بعد ان تینوں ترانوں کو دھن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اور ان میں سے ابوالحفیظ جالندھری کے ترانے کو منتخب کرلیا گیا۔4 اگست 1954 کو مرکزی کابینہ نے ابوالحفیظ جالندھری کے ترانے ’’پاک سرزمین شاد باد‘‘ کو منظور کرلیاگیا۔ اس ترانے کو دھنوں کے ساتھ کورس کی شکل میں ڈھالنے کیلیے اس وقت کے معروف گلوکاروں سے رابطہ کیا گیا اور معروف گلوکاروں شمیم بانو، کوکب جہان، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیم شاہین، احمد رشدی، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وسیع العلی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ جس کا دورانیہ ایک منٹ 20 سیکنڈ تھا۔ اس ترانے کو سب سے پہلے 13 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا، جسے دنیا بھر کے ترانوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوا اور اس پر ابوالاثرحفیظ جالندھری کو حسن کارکردگی کے صدارتی اعزاز سے نوازہ گیا مگر اس کے باوجود ان کے طرز زندگی میں کسی قسم کا بدلائو نہیں آیا اور انہوں نے اچھے برے حالات سے سمجھوتہ کر تے ہو ئے اپنی ادبی خدمات کے سلسلے کو آخری دم تک جاری رکھا اور پھر انتہائی علیل ہو گئے جس کے سبب انہیں سروسز ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور 82برس کی عمر میں انتقال کر گئے اور کیو نکہ انہوں نے اقبالیات کے حوالے سے نمایاں کام کیا تھالہذامرنے سے قبل اپنے قریب ترین دوست پروفیسر محمد منور جو کہ جامع پنجاب میں شعبہ اقبالیات کے صدر تھے سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کے پہلو میں دفن کیا جا ئے ان کی نماز جنازہ جو کہ پیر دیول شریف نے پڑھائی مگر اس میں کسی قابل ذکر حکومتی شخصیت یا سیاستدانوں نے شرکت نہیں کی بلکہ محض چند خاص لوگ جن میں الطاف گوہر ،احمد ندیم قاسمی ،ڈاکٹر عبدالسلام خورشید ،عطا الحق قاسمی ،ڈاکٹر محمد باقر ،مجید نظامی ،حفیظ رومانی ،میاں امیر الدین ،خواجہ زکریہ ،ڈاکٹر نذیر احمد ،شہزاد احمد ،چوہدری عبدالحمید ،محمود مرزا ایڈوکیٹ ،حافظ لدھانوی ،منیر نیازی نے شرکت کی جبکہ حکو مت کی طرف سے ایک صوبائی وزیر میاںصلاح الدین ،مسلم لیگ (ن)کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شیخ حفیظ الرحمن نے شرکت کی اور کیونکہ اس وقت جنرل محمد ضیا الحق کی حکمرانی تھی اور وہ ملک سے باہر تھے لہذا یہ طے کیا گیا کہ انہیں امانت کے طور پر ماڈل کالونی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے اور پھر صدر پاکستان کی آمد کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جا ئے کہ انہیں ان کی وصیت کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفن کیا جا ئے یا نہیں اور پھر اس فیصلے پر عمل کرتے ہو ئے انہیںامانت کے طور پر ماڈل ٹائون کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

 

 

اور جب جنرل ضیا الحق وطن واپس لوٹے تو باوجود حفیظ جالندھری سے خصوصی لگائو رکھنے کے وہ بھی انہیں علامہ اقبال کے پہلو میں سپرد خاک کر نے کا فیصلہ نہیں کر سکے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں علامہ اقبال کے مزار کی دوسری طرف سپرد خاک کردیا جائے اور صدر پاکستان کے حکم کی تعمیل کے ساتھ ہی انہیں اقبال پارک کے اندر مینار پاکستان سے کچھ فاصلے پر سپرد خاک کر دیا گیا اور اس عظیم شاعر کا ایک چھوٹا سا مزار بھی بنا دیا گیا جو کہ اکثر و بیشتر ناصرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا بلکہ بارش کی صورت میں ان کا مزار مبارک اندر سے مکمل طور پر ڈوب جا یا کر تا تھا مگر جب گزشتہ دنوں اقبال پارک کو گریٹر اقبال پارک کا نام دے کر شاہی قلعے ،شاہجہانی مسجد ،گردوارے ،مزار اقبال ،مزار حفیظ جالندھری اور ایک بزرگ ہنستی کے مزار مبارک اور مینار پاکستان کو ایک ہی چاردیواری کے اندر کیا گیا تو ترا نے کے خالق کے مزار مبارک کو بھی درست کیا گیا مگر یادگار پاکستان ،شاہی قلعے ،بادشاہی مسجد ،گردوارے و پارک میں تفریح کے لئے آنے والوں کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے مگر وہاں لوگ سفاری ،ٹرامیں ،ٹرینوں ،مصنوعی جھیل میں لانچوں میں بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے ضرور نظر آتے ہیں مگر جس نے ہمیں پاک سر زمین شاد باد کے ترا نے کا تحفہ دیا اس کے مزار کی جا نب سرے سے لوگ رخ ہی نہیں کر تے بلکہ اس حوالے سے شاید ملک بھر میں لوگوں کی اکثر یت اس بات سے بے خبر ہے کہ قومی ترا نے کے خالق کہاں مدفون ہیںمیں بھی اس بات سے بے خبر تھا مگر تلاش و جستجو کی فطرت ہو نے کے سبب جب گزشتہ دنوں لاہور جا نے کا اتفاق ہو نے پر گریٹر اقبال پارک گیا تو شاہی قلعے ،گردوارے ،بادشاہی مسجد ،مزار اقبال کو دیکھنے کے بعد میری جب ایک سمت میں نظر پڑی تو مجھے ملک کو قومی ترا نے کا تحفہ دینے والے ابوالحفیظ جالندھری کا مزار نظر آیا جہاں نہ آدم تھا نہ آدم ذات میں بوجھل قدموں کے ساتھ مزار کی جا نب بڑھا تو وہ ایک چھوٹا سا مزار تھا جس پر سوکھی ہو ئی چند پھولوں کی پتیاں نظر آئیں قبر کے کتبے پر ان کی پیدائش 14 جنوری1900جبکہ تاریخ وفات21دسمبر1982درج تھی مزار مبارک میں گو کہ اب ٹائلیںلگا دی گئی ہیں جہاں عین قبر کے اوپر سلام اور مختلف اشعار لکھے ہو ئے تھے جبکہ مزار کے باہر کی جا نب قومی ترا نہ کنندہ تھا جبکہ مزار کے کچھ فاصلے پر لگی ہو ئی ایک تختی پر ان کا مکمل شجرہ نصب موجود تھا مگر وہاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کر نے یا چادر چڑھانے کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی کر نے والا کوئی نہیں تھا جسے دیکھ کر انتہائی ملال ہوا اسی وجہ سے میں اس تحریر کے ذریعے اہل پاکستان سے اس بات کی اپیل کرونگا کہ وہ صرف ترا نہ نہیں بلکہ ترا نے کے خالق کو بھی یاد رکھیںکیونکہ وہ محسن پاکستان تھے اور جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں وہ کبھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتیں۔

 

 

(643 بار دیکھا گیا)

تبصرے