Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آ رمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع

قومی نیوز جمعرات 28 نومبر 2019
آ رمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت کے حوالے سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشروط توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔

جمعرات کی دوپہر سنائے گئے مختصر فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی موجودہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی اور اس توسیع کا اطلاق جمعرات 28 نومبر 2019 سے ہو گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے گی اور عدالت چھ ماہ بعد اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لے گی۔

پرویزمشرف کو عمران خان سے امیدیں وابستہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، یہ ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں۔ جسٹس منصورنے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھے ہونگے، آپ تجویز کریں آرمی قوانین کوکیسے درست کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ دیکھنا چاہتے ہیں جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو ریٹائرمنٹ کے بعد کتنی پنشن ملی۔انہوں نے ہدایت کی کہ سابق آ رمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات بھی پیش کریں، ان کی ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن کے کیا الفاظ تھے وہ بھی پیش کریں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی۔عدالت نے سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم 15 منٹ میں دوسرے کیسز نمٹاتے ہیں آ پ دستاویزات لے کر آ ئیں۔

درخواست گزار ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ پہنچ گئے، اس موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ آ پ نے اپنی درخواست واپس لے لی یا نہیں؟ریاض حنیف راہی نے جواب دیا کہ درخواست تو یہی چل رہی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ عوامی اہمیت کے کیس میں درخواست گزار کا ہونا ضروری نہیں، اہم نکات ہیں جو پہلی بار عدالتی کارروائی میں آ رہے ہیں

پہلی مرتبہ سپریم کورٹ اس معاملے کو ڈیل کر رہی ہے۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ایک اہم کیس آ پ نے فائل کیا، یہ کیس خود فائل کیا یا آ پ کے پیچھے کوئی تھا؟ریاض حنیف راہی نے جواب دیا کہ خود فائل کیا ہے، ہمیشہ کیس خود ہی فائل کرتا ہوں۔وقفے کے بعد چیف آ ف آ رمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سماعت دوبارہ شروع ہو گئی۔

اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے عدالت کو بتایا کہ دستاویزات کچھ دیر میں پہنچ جائیں گی۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آ رٹیکل 243 کے تحت آ رمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ان سے سوال کیا کہ آ ج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ نئی تعیناتی 243 (1) بی کے تحت کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آ پ کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا کہ اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آ پ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں۔

نواز شریف ، عمران کے بعد ہی واپس آئینگے

انہوں نے کہا کہ آ رمی رولز کی کتاب پر لکھا ہے کہ غیر متعلقہ بندہ نہ پڑھے، کوئی غیر متعلقہ شخص اسے پڑھ نہیں سکتا، کیوں آ پ نے اس کتاب کو سینے سے لگا کر رکھا ہوا تھا؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھارت اور دیگر ممالک میں آ رمی چیف کی تعیناتی اور مدت واضح ہے، اب عدالت میں معاملہ پہلی بار آ گیا ہے تو واضح ہونا چاہیے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آ رمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکمِ ثانی آ رمی چیف تعینات ہو گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے حکومت کو آ ج تک اس معاملے کا حل نکالنے کی مہلت دی تھی۔

(110 بار دیکھا گیا)

تبصرے