Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

2 د سمبر --- سندھی ٹوپی اجرک ڈے

تحریر: مختار احمد بدھ 27 نومبر 2019
2 د سمبر --- سندھی ٹوپی اجرک ڈے

تاریخ کے ان مٹ اوراق یہ بتا تے ہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جب غاروں میں رہتی تھی اور پتوں سے جسم ڈھانپ کر کھا نے کے لئے جنگلی پھل،پھول،پتے تلاش کر کے اپنی بھوک مٹاتی تھی اس وقت سندھ کی تہذیب جسے انڈس ویلی بھی کہتے ہیں میں پکی اینٹوں مکا نات میں رہتے تھے اور ان کی یہ آبادیاں جدید شہروں کی طرح ترتیب کے ساتھ موجود تھیں جہاں گھروں میں باتھ روم بھی ہو تے تھے جبکہ پینے کے پا نی کے لئے ہر گھر کا کنواں علیحدہ ہو تا تھا اور با نی کی نکاسی کے لئے ڈھکی ہو ئی تالیاں ہوتی تھیں جوکہ نکاس ہو نے والے پا نی کو دریا برد کر دیتی تھی اس علاقے کی کھوج سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہاں با قاعدہ طور پر اسکول اور کالجز بھی واقع تھے جہاں لوگ دور دراز سے تعلیم حاصل کر نے کے لئے آیا کرتے تھے اور موہن جودڑو اور ہڑپہ میں رہنے والے جسم کوبہترین کاٹن سے ڈھکتے تھے اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے چادر نما اجرک کا استعمال کیا کر تے تھے

گوکہ ان دونوں شہروں کی کھدائی کے دوران کسی قسم کا کوئی کپڑا یا اجرک تو دریافت نہ ہو سکی مگر اس بارے میں ماہرین کنگ پریسٹ کے ملنے والے مجسمے کے جسم پر بنے ہو ئے پھول کو اجرک کا نشان قرار دیتے ہیں اسی حوالے سے بعض ماہرین کا ماننا یہ ہے کہ دونوں قدیم ترین شہروں سے کسی قسم کی اجرک یا کپڑا تو نہیں ملا ہے مگر پتھروں پر ملنے والی شبیہہ سے اس بات کا اندازہ ہو تا ہے کہ دریافت ہو نے والے ان علاقوں کے لوگ نا صرف کپڑا بنا نا جانتے تھے بلکہ خود بھی کپڑے پہنتے تھے اس حوالے سے ہندؤں کی کتاب مہا بھارت میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے کہ دریائے نیل کی طرح یہاں بھی کثرت سے سفید پھول پا ئے جا تے تھے جبکہ سکندر اعظم نے بھی ان علاقوں میں چاندی کے پھول کاتذکرہ کیا ہے جس پر ماہرین نے اخز کیا ہے کہ ان علاقوں میں کاٹن کثرت سے پیدا ہو تی تھی اور لکڑی کی کھڈیوں پر کپڑا بنا جا تا تھاجسے نا صرف خود یہاں کے واسی استعمال کر تے تھے بلکہ عراق اور مصر میں دریافت ہو نے والی تہذیبوں کے لوگ بھی استعمال کیا کر تے تھے موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیب کو ماہرین 3ہزار300قبل مسیح اور 5ہزار سال پہلے پرانی قرار دیتے ہیں اور ان کا بھی ماننا یہی ہے کہ یہ تہذیبیں قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ و برباد ہو گئیں جس کے بعد اسے کھدائی کے نتیجے میں دریافت تو کر لیا گیا مگر ایسی عظیم اور قدیم تہذیبوں جسے یو نیسکو نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے کے حوالے سے ملک یہاں تک کے صوبہ سندھ میں کوئی دن نہیں منا یا جا تا نہ ہی ہم نے اس تہذیب جس پر ہمیں فخر ہو نا چاہئے کے ترقی یافتہ واسیوں کو یاد کر نے کے لئے کوئی خاص دن منا تے ہیں مگر بھلا ہو سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا جنہوں نے ایک غیر ملکی دورے کے موقع پر سندھی ٹوپی اور اجرک کا استعمال کیا تو نجی چینل کے اینکر نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا جس پر غالبا سندھ میں بسنے والوں کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے 2009 سے با قاعدگی کے ساتھ سندھی ٹوپی اجرک ڈے منا نے کا سلسلہ شروع کر دیا

 

جس کے تحت ہر سال سندھ دسمبر کے سب سے پہلے اتوار (پہلے ہفتہ) میں دنیا بھر میں سندھی ثقافتی دن کا جشن مناتے ہیں اس موقع پر اجرک اور سندھی سندھی پہنے ہوئے لوگ روایتی بلاک پرنٹ شال بہت سارے شہروں میں جشن کے پروگراموں اور ریلیوں کے ساتھ حوصلہ افزائی کرتے ہیں سندھ کے ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے کے لئے سندھی اجرک سے شہروں اور شہروں کو سجایا جاتا ہے سندھ بھر میں لوگوں نے مختلف مراحل میں اجرک اور چوٹی کے تحائف کو تبادلہ خیال کرتے ہیں یہاں تک کہ بچوں اور عورتوں کو اجرک اور سندھی ٹوپی کے تحائف میں بھی شامل ہے اس موقع پر جگہ جگہ اجتماعات منعقد ہو تے ہیں جہاں مشہور سندھی گلوکاروں نے سندھی گانے، نغمے گانا، جس میں سندھ کے امن اور محبت کا پیغام دیتے ہیں اسی روزسندھ کے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی اداروں، سندھ ثقافتی محکمہ اور مختلف اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامیہ کے علاوہ، مختلف قسم کی تقریبات منعقد کر تے ہیں جن میں سیمینارز، مباحثے، لوک موسیقی پروگراموں، ڈرامہ اور تھیٹرکس پرفارمنس، ٹیبلیو اور ادبیات کی نشستیں شامل ہیں جہاں اس سالانہ تہوار پر سندھی ثقافت، تاریخ اور ورثہ پر روشنی ڈالی جاتی ہے جبکہ اس سلسلے میں پورے سندھ بلکہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی سندھی ٹو پی اجرک ڈے کی تقریبات کا آغاز ایک روز قبل رات گئے سے شروع ہو جا تا ہے جس کے تحت سندھ کی ثقافتی تنظیموں کی جا نب سے کراچی پریس کلب کے احا طے میں مچھ کچہری کی تقریب منعقد ہوتی ہے جس کے تحت با قاعدہ طور پر اسٹیج کے قریب ہی آگ جلا کر رات بھر سندھ بھر سے آئے ہو ئے شعرائے کرام اپنے اشعار کے ذریعے سندھ کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے حوالے سے اپنے اشعار کہتے ہیں جن میں سندھ کے مشہور شاعت بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹا ئی کے کہے گئے اشعار کو خصوصی اہمیت حاصل ہو تی ہے جبکہ اس تہوار کی مناسبت سے اس کے دوسرے روز شہر بھر سمیت کراچی پریس کلب کے با ہر مختلف نجی چینلز اور ثقافتی تنظیموں کی جا نب سے رنگ برنگی محفلیں سجائی جا تی ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہو تے ہیں سندھی ٹو پی،اجرک پہن کر ان تقریبات میں شر کت کر تے ہیں جہاں ان تقریبات کا آغاز رات گئے تک جاری رہتا ہے

 

 

جس میں مختلف سیاسی جماعتوں بلکہ قوم پرست اور سماجی جماعتوں کے رہنما اظہار یکجہتی کر تے ہو ئے سندھ کی تاریخ وثقافت پر روشنی ڈالتے ہیں جبکہ اس موقع پر سندھ بھر سے آئے ہو ئے لوک فنکار جن میں شازیہ خشک،ثمن میرانی سمیت لاتعداد فنکار اپنے لوک گیتوں سے محفل کو گر ما تے ہیں اور کیو نکہ قر آن مجید کا سب سے پہلا ترجمہ بارہویں صدی میں سب سے پہلے سندھی زبان میں ہوا تھا لہذا مذہبی حلقے بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں رہتے بلکہ اس مناسبت سے مساجد،مدارس میں خصوصی دعاؤں کا احتمام کیا جا تا ہے جہاں ملک اور سندھ کی ترقی اور خوشحالی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اس طرح یہ دن آئندہ سال تک کے لئے اپنے جوش خروش کے انمٹ نقوش چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اورسندھی اجرک اور ٹوپی پہننے والے اجرکوں کی نقل پہن کر ہی جوش و خروش کے ساتھ یہ دن منا لیتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم بھی نہیں ہو تا کہ یہ اجرکیں اصل اجرکیں نہیں ہیں بلکہ صرف ان کی نقل ہیں اور با آسانی 2سے3سو رو پے میں دریافت ہوتی ہیں اگراصل اجرکوں کی بات کی جائے تو اسے کھڈیوں پر بنے کپڑوں پر بنا یا جا تا تھا اور اسے 100جڑی بوٹیوں سے رنگنے کے بعد انہیں جڑی بوٹیوں کے ذریعے خاص رنگ تیار کر کے ٹھپے لگا کر اجرکیں تیار کی جاتی ہیں جو کہ سردیوں میں گرم اور گر میوں میں سرد رہتی تھیں اور اسے استعمال کر نے والے لوگ سانس سمیت مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے تھے اور اس سے آ نے والی جڑی بوٹیوں کی خوشبو صدا برقرار رہتی تھی گو کہ ماضی میں بننے والی یہ قدیم اجرکیں نا پید ہو چکی ہیں مگر اب بھی حیدر آباد،ہالا اور سن کے در میانی علاقوں میں بعض ہنر مند ایسی اجرکیں تیار کر نے کا کام کر تے ہیں مگر کیو نکہ ایک اجرک کی تیاری میں لگ بھگ 6 ماہ لگ جا نے کے ساتھ ان پر اٹھنے والے اخرا جات بہت زیادہ ہو تے ہیں لہذا ان کی انتہا ئی کم تعداد صرف آرڈر پر تیار کی جا تی ہے اور اس کے کاریگر جو کہ اب لگ بھگ ختم ہو چکے ہیں ان اجرکوں کی قیمت 20سے25ہزار رو پے وصول کر تے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان اجرکوں کی قوت خرید نہ ہو نے کے سبب سندھ سمیت شہرکراچی میں بھی ریشمی کپڑوں پر مشینوں کے ذریعے چھپا ئی کر کے انہیں اجرکوں کا نام دیا جا تا ہے مگر کیونکہ یہ ہماری تہذیب کا حصہ ہے اور اسے عزت کے طور پر مہمانوں کو بطورتحفہ پیش کیا جا تا ہے لہذا مہنگائی کے سبب یہ بھی صحیح ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیب جو کہ ہمارے لئے اثاثے سے کم نہیں اور جس نے دنیا بھر میں ہمارا سر اس تہذیب کی وجہ سے فخر سے بلند کر رکھا ہے اس حوالے سے بھی ایک دن منا نے کی ضرورت ہے۔

(263 بار دیکھا گیا)

تبصرے