Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موہن جودڑو سے ہڑپہ تک

تحریر: مختار احمد جمعرات 21 نومبر 2019
موہن جودڑو سے ہڑپہ تک

میں تو کیا دنیا بھر میں بسنے والے تمام مسلمانوں کا اس بات پر یقین اور ایمان ہے کہ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا پھر با لا آخر دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیبیں بغیر اللہ کے حکم کے کس طرح خاک میں مل گئیںاس حوالے سے قرآن کریم میں مختلف سورتوں میں مختلف اقوام جن میں قوم لوط ،قوم ثمود ،قوم عاد ،بنی اسرائیل ،قوم نوع کے علاوہ قارون اور فرعون کوبھی تباہ و برباد کر نے کا ذکر اور دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنا نے کے حوالے سے توذکر موجود ہے مگر اس حوالے سے سندھ کی تہذیب موہنجودارو اور ہڑپہ کی تباہی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ذخر موجود نہیں حالانکہ قوم ثمود پر اللہ تعالی کا یہ عذاب ایک ہزار سال پہلے یعنی کے 4ہزار سال قبل نازل ہوا اس حوالے سے بعض اسلامی اسکالرز اور محققین اپنے طور پر اس تباہی کو بھی اللہ کی طرف سے تباہی قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ موہنجودارو اور ہڑپہ میںبسنے والے در اصل اصحاب الرس یعنی کے کنویں والی قوم کے لوگ تھے جن کا تعلق حضرت عیسیٰ سے پہلے کا تھا لہذا ان پر بھی اللہ کا عذاب نازل ہوا بعض اسلامی اسکارلرز کا کہنا یہ بھی ہے کہ دراصل اس قوم کو بھی سراط المستقیم پر لا نے کے لئے ایک نبی بھیجا گیا لیکن انہوں نے نا صرف اس کی نا فرمانی کی بلکہ اسے قتل کر کے کنویں میں پھینک دیا جس کے بعد ان پر تباہی نازل ہو ئی لیکن محققین کی تحقیق اور اسلامی اسکالرز کی یہ باتیں اب تک محض باتیں ہیں اور اسے اب تک ثابت نہیں کیا جا سکا جس کی بنیاد پر موہنجودارو اور ہڑپہ کی تبا ہی کے حوالے سے نا صرف دنیا پریشان ہے بلکہ اس پر تحقیق کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ۔

 

 

 

اس حوالے سے وادی سندھ کی ان تہذیبوںکی تبا ہی کے حوالے سے ماہرین آثار قدیمہ یہ بھی عکس نہیں کر سکے ہیں کہ با لا آخر یہ تبا ہی آتشی بارش کے ذریعے ہو ئی یا پھر دریا کے کٹائو،زلزلے ،قحط سالی یا پھر کسی اور وجہ سے ہوئی بہر حال تبا ہی کسی بھی طرح ہو ئی اس نے موہنجودارو اور ہڑپہ کی دریافت کے بعد دنیا کو اس بات پر ہلا کر رکھ دیا کہ 5000سال پہلے لوگ اس حد تک ترقی یافتہ تھے کہ وہ پکی اینٹوں کے بنے ہو ئے مکانات میں رہتے تھے، ان کے گھر اور گلیاں با قاعدہ ایک ماسٹر پلان کے تحت آباد تھے ،پانی کی نکاسی کے حوالے سے انہوں نے زیر زمین ڈھکی ہوئی نالیاں بنا رکھی تھیںاور پینے کے پا نی کے حوالے سے ہر گھر کے اوپری اور نچلی منزل کے لئے ایک ہی سائز کے علیحدہ علیحدہ کنویں بنے ہو ئے تھے انہوں نے ذرعی اجناس اسٹاک کر نے کے لئے گودام بنا نے کے ساتھ ساتھ تجارتی بازار جبکہ بچوں کو تعلیم و تربیت دینے کے لئے اسکول اور کالجز بنا رکھے تھے یہ سب سن کر اور پڑھ کر نا صرف بڑا عجیب سا لگا بلکہ میرے اندر دونوں تہذیبوں جو کہ در اصل ایک ہی تہذیب یعنی کے وادی سندھ کی تہذیب ہے کو دیکھنے کے لئے دل مچلنے لگا لہذا میں نے سب سے پہلے موہنجودارو کا رخ کیا مگر صد افسوس انگریزوں کی جا نب سے موہنجودارو ریلوے اسٹیشن کے باوجود ٹرین نہ رکی اور ٹرین نے مجھے لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن پر اتارا جہاں سے موہنجودارو کا فیصلہ لگ بھگ 27کلو میٹر ہے لہذا میں نے ایک پرائیویٹ گاڑی کے ذریعے دوبارہ سے موہنجودارو کا رخ کیا اور کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد سندھ کی تہذیب موہنجودارو کے اندر پہنچا جہاں لوگوں جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اس تباہ حال شہر کو دیکھنے کے لئے گھوم پھر رہی تھیں ایسے میں میں نے جب موہنجودارو کا اپنی نگاہوں سے مطالعہ شروع کیا تو سب سے پہلے میری نظر اس بدھسٹ اسٹوپا پر پڑی جو کہ سب سے زیادہ بلند و بالا تھا مگر کیونکہ قدامت کے اعتبار سے اب اس کے اندر وہ مضبوطی نہیں رہی تھی لہذا محکمہ آثار قدیمہ نے اس بند کر رکھا تھا لہذا نیچے سے ہی بدھسٹ کی اس عبادت گاہ کو دیکھا اور پھر ایک گائیڈ کی مدد سے چاروں طرف نظر دوڑائی تو موہنجودارو کا تباہ حال شہر جو کہ ماضی میں دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر تھا نظر آیا جس کے ایک جا نب غریبوں کی آبادی کے کھنڈرات نظر آئے جبکہ دوسری جانب امرا کی عمارتوں کے کھنڈرات ،کالج ،مدرسے و دیگر عمارتوں کے کھنڈرات نظر آئے۔

یہ سب کچھ دیکھتا ہوا جب میں موہنجودارو میوزیم پہنچا تو اسے بھی کوئی جدید میوزیم نہیں کہا جا سکتا بلکہ ایک عام سا میوزیم تھا جس میں ایئر کنڈیشن کے ساتھ ہوا کی آمد و رفت کے لئے کوئی کھڑکی ،روشن دان نہ ہو نے کے سبب پسینے یں نڈھال لوگ میوزیم دیکھنے میںمصروف تھے لہذا میں بھی پسینے میں شرابور ہو کر میوزیم میں 5000 سال قبل دریافت ہو نے والے موہنجودارو کی کھدائی کے دوران ملنے والے نوادرات جن میں ڈانسنگ گرل ،زیورات،ذرعی آلات ،پانی رکھنے کے لئے بڑے بڑے مٹی کے برتن،آتش دان ،آئینہ ،کشتی ،شترنج ،لوڈوچھکے،کنگ پریسٹ کے مجسمے ،مٹی کے برتن و دیگر نوادرات شامل تھے دیکھ کر حیرت ہوئی وہاں موجود گائیڈ نے میری رہنمائی کرتے ہوئے بتا یا کہ موہنجودارو کا شہر کوئی عام شہر نہیں تھا بلکہ ایک ترتیب سے بسایا جا نے والا شہر تھا اور آج 21ویں صدی میں اسی فارمولے کے تحت شہر آباد کئے جا رہے ہیں اور اگر یہ کہا جا ئے کہ آج ملک بھر کے پوش علاقے 5000سال قبل دریافت ہو نے والے موہنجوداروکی ترتیب سے بنا ئے جا رہے ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا مذکورہ گائیڈ نے یہ بھی بتا یا کہ آج جو لوگ یوگا کے ذریعے اپنے آپ کو اسمارٹ رکھنے کا جو طریقہ اختیار کر رہے ہیں وہ بھی اسی موہنجودارو کا تحفہ ہے جسے سن کر میں حیرتوں کے سمندر میں غوطے لگا نے لگا اور اس طرح میرے موہنجوداروکو خدا حافظ کہنے کا وقت ہو گیا اور پھر میں ایک بار پھر بذریعہ کار طویل مسافت کے بعد لاڑکانہ پہنچ گیا۔

جہاں ایک روزہ قیام کے بعد میں نے پنجاب کے شہر ساہیوال جہاں ہڑپہ کا تباہ حال شہر موجود ہے کا رخ کیا اور وہاں بھی حیرت اسی بات پر ہو ئی کہ انگریزوں کی جا نب سے ہڑپہ ریلوے اسٹیشن تو ضرور بنا یا گیا ہے مگر ٹرین اس اسٹیشن پر بھی نہیں رکتی لہذا ٹرین نے مجھے ساہیوال شہر میں اتارا جہاں سے ایک بار پھر پرائیویٹ کار کے ذریعے ہڑپہ کا سفر جو کہ لگ بھگ 17کلو میٹر دو رتھاشروع ہوا اور خدا خدا کر کے یہ سفر کئی گھنٹوں بعد ختم ہوا جس کے بعد جان میں جان آئی اور میں ہڑپہ کے تباہ حال شہر میںداخل ہوا جہاں عطا محمد نامی گائیڈ نے میرا استقبال کیا اور مجھے سب سے پہلے تباہ حال شہر جو کہ کچھ ہی فاصلے پر تھا لے گیا اس نے سب سے پہلے مجھے اس اجڑے شہر میں 4ایسے قدیم درخت دکھائے جو کہ لگ بھگ ایک ہزار سال پرا نے تھے اس کا کہنا یہ تھا کہ ان درختوں میں سے ایک درخت اوکا کا ہے اور اوکاڑہ شہر کا نام اسی شہر پر رکھا گیا اس کے علاوہ ان درختوں میں پیلو ،کری ،جنڈھ کے درخت ہیں جو کہ صرف اس بنجر اور تباہ حال علاقے میں ہی اگتے ہیں اس کے بعد تھوڑے ہی فاصلے پر انہوں نے مجھے بلندی کی ایک جگہ سے ہڑپہ کے نچلے حصے کی ایک بستی دکھائی اس کا کہنا تھا کہ اس بستی میں جو کنواں موجود ہے یہ ایک ڈبل کنواں ہے جس میں ایک کنویں کے اندر پانی جبکہ دوسرے کے اندر ریتی بجری ہوتی تھی جس کے سبب پانی ٹھنڈا ہوتا تھا اور آج اسی فارمولے کے تحت پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے واٹر کولر زبنائے جا رہے ہیں جس میں پانی ٹھنڈا ہوتا ہے اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ ہڑپہ جس کی اب تک صرف 2فیصد کھدائی ہو ئی ہے میں کھدائی کے دوران کروڑوں کی تعداد میں مٹی کے گلاس دریافت ہو ئے ہیں ۔

جس کے حوالے سے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا یہ ہے کہ اس شہر میں بسنے والے لوگ میڈیکل سائنس سے پوری طرح واقف تھے یہی وجہ تھی کہ وہ جس گلاس میں پا نی پیتے تھے اسے توڑ دیا کر تے تھے تا کہ اسے کوئی دوسرا استعمال نہ کر سکے اور اس کے جراثیم کسی دوسرے کو منتقل نہ ہو سکیں اسی قسم کی معلوماتی باتوں اور ہڑپہ شہر کا مشاہدہ کر نے کے بعد میرا رخ ہڑپہ میوزیم کی طرف ہوا گو کہ یہ میوزیم زیادہ بڑا تو نہیں مگر اس چھوٹے سے میوزیم میں ہڑپہ کی مکمل تاریخ محفوظ تھی میوزیم کے اندر 5000سال پہلے دریافت ہو نے والے 2ڈھانچوں جس میں ایک مرد اور ایک خاتون کے پنجر تھے کو دیکھ کراس دور کے لوگوں کے قد و قامت کا اندازہ ہوا جو کہ کسی طور پر 6سے ساڑھے 6فٹ سے کم نہیں تھے جبکہ دیگر نوادرات میں موہنجودارو کی طرح وہاں بھی مٹی کے بڑے بڑے برتن ،زیوارات و دیگر نوادرات دیکھنے کو ملے جس میں سب سے منفردبچوں کے ملنے والے کھلونوں کے لئے بنا ئے گئے شوکیس تھا جس میں مٹی کے مختلف اشکال کے کھلونے موجود تھے اس شوکیس کے اندر ایک بہت ہی خوبصورت بچے کی تصویر بھی نمایاں تھی جسے دیکھ کر میں حیران و پریشان ہو گیا جس پر گائیڈ نے بتا یا کہ اس بچے کا ماضی کے اس تہذیب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک ماہر آثار قدیمہ جو کہ ہڑپہ پر تحقیق کر رہے ہیں نے اس بچے کو بانسری بجاتے دیکھ کر اس کی تصویر بنائی اور یہاں نمایاں کر دی ہیں میوزیم کے شوکیسوں میں موہنجودارو میوزیم کے نوادرات سے مماثلت رکھنے والے اور بھی نوادرات تھے لیکن اس میں ایک خاتون کا مجسمہ جو کہ آئینہ پکڑ کر میکپ کر رہی تھیں نمایاں تھا جس کے حوالے سے گائیڈ نے بتا یا کہ کھدائی کے دوران نا صرف عورتوں کے زیوارات ملے ہیں بلکہ خواتین کے بنائو سنگھار کے سامان بھی ملے ہیں جس سے ماہرین نے اس بات کا اندازہ لگا یا ہے کہ خواتین کا بنائو سنگھار آج ہی نہیں بلکہ 5000 سال پہلے سے ہو رہا ہے جسے دیکھ کر مجھے انڈس ویلی سویلا ئزیشن یعنی کے سندھ کی تہذیب جاننے کا موقع ملا اور اس بات پرفخر بھی ہوا کہ میں اس صوبے کا واسی ہوں جہاں کے لوگ اس وقت جب دنیا پتوں اور پھلوں کو کھاتے تھے اور اپنے جسم کو پتوں سے چھپا نے کے ساتھ غاروں میں رہتی تھی سندھ کے مہذب لوگ پختہ مکانوں میں رہتے تھے اور اتنے ترقی یافتہ تھے کہ آج21ویں صدی میں ان کی ٹائون پلاننگ کے تحت نا صرف شہر آباد ہو رہے ہیں بلکہ مختلف نظام میں ان کے قدیم فارمولوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

(158 بار دیکھا گیا)

تبصرے