Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اندھی نگری چوپٹ راج( تحریر :مختار احمد)

ویب ڈیسک اتوار 17 نومبر 2019
اندھی نگری چوپٹ راج( تحریر :مختار احمد)

کہتے ہیں کہ ہر کہانی، ہر پہیلی کا کوئی نہ کوئی پس منظر ضرور ہوتا ہے اور اس کے اندر کوئی پیغام یا کوئی سبق چھپا ہو تا ہے اور یہ بات کسی طور پر غلط بھی نہیں کیونکہ ہم آئے دن موجودہ حالات و واقعات کی نسبت سے پرانی کہانیوں یا پہیلیوں جس کے بارے میں خواہ پتا ہو یا نہ ہو اپنی گفتگو کا حصہ بنا کر سامنے والے سے داد و تحسین وصول کرتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں ہمیں ان کہانیو ںیاپہیلیوں کے پس منظر کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں ہو تی ایسی ہی حقیقی کہانیوں یا پہیلیوں میں اکثر و بیشتر دوران گفتگو میں حکو مت یا اس کے کارندوں کو طنز مارنے کے لئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ملک کے اندر نظام سقہ کی حکمرانی چل رہی ہے جبکہ کبھی ہماری زباں پر اندھی نگری چوپٹ راج کا محاورہ پیش کیا جا تا ہے لیکن در حقیقت یہ دونوں محاورے نہ تو کوئی کہا نی ہیں اور نہ ہی کوئی پہیلی بلکہ یہ محاورے ایک حقیقت ہیں اگر اس سلسلے میں اندھی نگری چوپٹ راج کے محاورے کو ہی لیا جا ئے تو یہ ایک ایسی حقیقی کہا نی ہے جسے آج بھی سندھ کے قدیم شہر سیہون میں الٹی بستی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اس حوالے سے روایت ہے کہ سندھ کے قدیم ترین شہر سیہون جہاں ماضی میں ایک ہندو راجہ کی حکمرانی تھی جو کہ انتہائی ظالم ہواکرتا تھا اور اس سے اس کی رعایا جس میں ہندو مسلمان دونوں ہی شامل تھے انتہائی درجے پریشان تھے اور بادشاہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر وہ کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں تھے کہ جو کہ انہیں بادشاہ کے مظالم سے نجات دلائے بادشاہ نے اپنی حفاظت کے لئے ایک مضبو ط قلعہ تعمیر کر رکھا تھا اسی لئے باوجود تنگ ہو نے کے کوئی بھی راجہ کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔

 

اسی قلعے کے سامنے ایک مضجوب سکندر بودلا نے پہاڑی پر اپنی کٹیا بنا رکھی تھی اور دن رات عبادت میں مصروف عمل رہا کرتا تھا اور یہ دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالی جلد سیہون میں بسنے والوں کو اس بادشاہ کے ظلم و ستم سے نجات دلا ئے اور پھر بالا آخر اس کی دعا رنگ لائی اور مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرنے اپنے ساتھیوں سمیت سندھ کا رخ کیا جس کی خبر سکندر بودلا کو ہو گئی اور اس نے اس بات کا اعلان شروع کر دیا کہ مرشد آرہا ہے مر شد آرہا ہے نیز اس نے لوگوں کو اس بات کی نوید دینا شروع کر دی کہ انہیں جلد ظالم بادشاہ سے نجات ملے گی اس بات کی خبر راجہ کے سپاہیوں نے چوپٹ راجہ تک پہنچائی جوکہ یہ سن کر سیخ پا ہو گیا اور اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر بودلا کو گرفتار کر کے قید خانے میں ڈال دیں جنہوں نے راجہ کے حکم کی تعمیل کے طور پر مضجوب کو فوری طور پر قید خانے میں ڈال دیا مگر قید تنہائی کے خوف کے بغیر بودلا نے قید خانے میں بھی مرشد آرہا ہے کے نعرے بلند کر نے کے ساتھ ساتھ راجہ کے سپاہیوں کو یہ کہناشروع کر دیا کہ راجہ کا وقت قریب آچکا ہے اس بات کی خبر بھی بادشاہ تک پہنچائی گئی تو اس نے انتہا ئی ظالمانہ فیصلے کے طور پر حکم دیا کہ بودلا کو زبح کر کے اس کا گوشت حبشیوں کو کھلا دیا جا ئے اس کے اس حکم کی بھی تعمیل ہو ئی اور بودلا کے زبح کر کے اس کا گوشت پکا کر لوگوں کو کھلا دیا گیا اسی اثنا میں حضرت لعل شہباز قلندر جو کہ ایک قافلے کے ساتھ آ رہے تھے نے بادشاہ کے قلعے سے کچھ دور کھلے میدان میں پڑائو ڈالا اور اچا نک انہوں نے بودلا ،بودلا کی آوازیں بلند کرنا شروع کردیں جس کے بعد روایت کے مطابق بودلا کا گوشت جوکہ بیشتر لوگ کھا چکے تھے ان کے پیٹوں سے اور جس دیگ میں ان کا گوشت پکا یا گیا تھا بوٹیاں اڑ اڑ کر اس میدان میں جمع ہونا شروع ہوگئیں اور یہاں تک کے مجسم بودلا تیار ہو گیا ایسے میں راجہ چوپٹ بھی شور ہنگامہ سن کر باہر کی جا نب نکلا تو حضرت لعل شہباز قلندر نے اسے مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ تو نے بودلا کو قتل کر کے اچھا نہیں کیا اس کی تجھے سزا ضرور ملے گی مگر وہ نادم ہونے کے بجا ئے دوبارہ اپنے قلعے کے اندر چلا گیا۔

جس کے بعد یہ روایت مشہور ہے کہ بادشاہ کو اس غرور ،تکبر اور لوگوں پر کئے جا نے والے ظلم و بر بریت کو دیکھتے ہو ئے حضرت لعل شہباز قلندر نے دعا کی کہ اس ظالم بادشاہ کا غرور و تکبر نیچا ہو جا ئے ان کی اس دعا کے ساتھ ہی بادشاہ کا مضبوط اور عالیشان قلعہ الٹا ہوگیا اور اس میں موجود لوگ آنے والی اس اچا نک اس قیامت کے سبب ہلاک ہو گئے جس کے بعد سے ناصرف یہ قلعہ بلکہ پوری بستی جو کہ سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار مبارک سے کچھ ہی فاصلے پر ہے صدیوں بیت جا نے کے با وجود آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے زائرین نا صرف مزار مبارک پر حاضری دیتے ہیں بلکہ عبرت ناک انجام کو پہنچنے والی اس بستی جس کے اب صرف خدوخال موجود ہیں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ عبرت حاصل کرتے ہیںاس حوالے سے وہ سکندر بودلا کے مزار پر حاضری دینا نہیں بھولتے جو کہ قریب ہی مدفون ہیںکیونکہ یہ مزار مبارک محکمہ اوقاف کے زیر اثر ہے لہذا الٹی بستی یا الٹے قلعے کے بارے میں جاننے کے لئے ان کے ذمہ داران سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماضی میں حضرت لعل شہباز قلندر جوکہ ایک صاحب کرامت بزرگ تھے نے لوگوں کو مظالم سے نجات دلا نے کے لئے راجہ کے قلعے کو الٹاکر نے کے لئے بددعا دی تھی اور جس کے بعد سیہون سے نا صرف مظالم کا خاتمہ ہوا بلکہ ظالم و جابر بادشاہ کے پوری بستی اور قلعہ پلٹ گیا جوکہ آج بھی لوگوں کے لئے دیدہ عبرت بنا ہوا ہے اور جسے دیکھنے کے لئے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

(194 بار دیکھا گیا)

تبصرے