Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھٹوکاآبا ئی قبرستا ن ------سیاست سے روحانیت تک( تحریر :مختار احمد )

ویب ڈیسک منگل 12 نومبر 2019
بھٹوکاآبا ئی قبرستا ن ------سیاست سے روحانیت تک( تحریر :مختار احمد )

یہ 40سال پہلے کی تو بات ہے جب لاڑکا نہ کے شہر کے چھوٹے سے گائوں گڑھی خدا بخش جو کہ رتو ڈیرو اور نوڈیرو کے در میان واقع ہے 4اپریل 1979کو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر سکھر ایئر پورٹ سے فوجی حکام نے گڑھی خدا بخش بھٹو پہنچا یا گیا میت کے ہمراہ سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر سلیم موجود تھے جنہوں نے بھٹو خاندان کے اہم رکن مظفر علی بھٹو سے میت کی تصدیق کرا وا کر صرف دس منٹ میں میت کی تد فین کا حکم دیا جس کی خبر پورے گائوں میں پھیل گئی اور لوگ تمام پا بندیاں توڑ کر گھروں سے با ہر نکل آئے اور انہوں نے فوجی حکام پر زور دیاکہ ہم میت کو اپنی روایت کے مطا بق دفن کریں گے ۔ با لا آخر فوجی حکام گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے جس کے با عث جسد خاکی کو زنان خانے میں لے جایا گیاجہاں شیریں۔امیر بیگم ، مظفر علی بھٹو ، مولا بخش بھٹو اور بھٹو شہید کے منیجرعبدالقیوم خان نے میت کا آخری دیدار کیا پھر مولانا محمود علی بھٹو نے نما ز جنازہ پڑھائی اورٹھیک سا ڑھے دس بجے دن شہید بھٹو کو لحد میںاتار دیا گیااس وقت تک یہ قبرستان ایک معمولی سا قبرستان تھا جہاں اس وقت 39سے40بھٹو خاندان کی قبریں موجود تھیں جس میں ان کے والد سر شاہنواز بھٹو ،ان کی والدہ و دیگر عزیز و اقارب کی قبریں موجود تھیں اورکیو نکہ قبرستان ایک معمولی سے گائوں میں واقع تھا لہذا بھٹو خاندان کے پاس کام کر نے والے کمدار ،ہاری اور کسان کبھی کبھی اس قبرستان میں جا کر مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کر نے کے ساتھ ساتھ اگر بتیاں جلا تے تھے۔

 

مگر ذوالفقار علی بھٹو جن کی عوام میں جڑیں تھیں کی تدفین کے بعد اس معمولی قبرستان کی قسمت ہی بدل گئی اور با وجود فوجیوں کے روک ٹوک کئے جا نے کے باوجود بھٹو شہید کی قبر پر حاضری دینے والوں کا گویا ایک تانتا سا بند ھ گیا ایسے میں 80کی دہا ئی کے بعد جب ہم زمانہ طالب علمی میں تھے ہمیں بھی وہاں جا نے کا ایک موقع ملا جگہ جگہ فوج کی جا نب سے روک ٹوک کئے جا نے کے با وجود بمشکل بذریعہ ٹرین لاڑکا نہ شہر پہنچے اور کیونکہ اس وقت لاڑکا نہ سے گڑھی خدا بخش جو کہ طویل فاصلے پر واقع تھا اور پختہ سڑکیں اور ٹرانسپورٹ بھی نہیں تھی لہذاہم نے طویل مسافت تانگے کے ذریعے طے کی اور چونکہ یہ اپریل کا مہینہ تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منائی جا رہی تھی لہذا اس معمولی سے گائوں میں کئی ایکڑ کے رقبے پر ملک بھر سے برسی میں شر کت کے لئے آنے والے قافلوں کے کیمپ ہی کیمپ نظر آئے قبرستان کے دونوں اطراف میں دو انتہا ئی مخدوش حا لت میں حویلی نما پتھروں کی عمارت نظر آئی جس میں سے ایک عمارت میں رات بھر مشاعرہ ہو تا رہا جبکہ دوسری قدیم عمارت میں ملک بھر سے آنے والے قافلوں کے لئے رات کو مصالحے والے چاول کا لنگر تقسیم کیا گیا اور اس طرح 3 اپریل کی رات لوگوں سے ملتے ملاتے رات جاگتے گزر گئی اور اور کیو نکہ اس وقت ایک جوش ولولہ موجود تھا لہذا صبح کی سپیدی کے طلوع ہو نے کا بھی پتا نہیں چلا اور پھر اچا نک ہی وہیں کھیتوں جہاں ہریالی نہیں بلکہ خشک سالی نمایاں تھی میں ایک بنا ئے گئے عارضی اسٹیج پر جلسہ عام شروع ہو گیا جس سے پیپلز پارٹی کے قائدین نے باوجود پابندیوں کے دھواں دھار تقاریر کیں اور اس طرح جلسہ عام اپنے اختتام کو پہنچ گیا جس کے بعد برسی میں شر کت کے لئے اپنی بسوں ،گاڑیوں ،ٹرکوںاور تانگوںکے ذریعے آنے والے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے جس کے بعد ایک بار پھر گڑھی خدا بخش بھٹو میں مکمل طور پر ویرا نی چھا جا تی اور یہ ویرانی دوسری برسی آنے تک برقرار رہتی تھی۔

 

 

لیکن جب سابق وزیر اعظم محتر مہ بینظیر بھٹو جنہوں نے اپنے زندگی میں اس معمولی سے قبرستان کو ایک شاندار مقبرے میں تبدیل کر دیا تھا جبکہ گڑھی خدا بخش آنے کے لئے پختہ سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہیلی پیڈ تک بنوا دیا تھا کی جب شہادت عمل میں آئی تو انہیں بھی حسب روا یت بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میںسپرد خاک کیا گیا تھا کے بعد اچا نک سے نا صرف مزار پر لوگوں کی آمد و رفت میں انتہا کا اضافہ ہو گیا بلکہ بینظیر بھٹو جنہیں سندھ میں شہید را نی کہا جا تا ہے سے عقیدت ،محبت اورانسیت رکھنے والے لوگوں نے اسی گائوں میں کچے پکے مکا نات بنا کر مستقل رہائش اختیار کر لی اوریہاں تک کے انہوں نے 50سے 60دکانوں کا ایک مکمل بازار بھی قائم کر لیا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر مزار پر پھول نچھاور کر نے کے لئے پھول کی پتیاں ،چادروں ،اگر بتیوں کے ساتھ ساتھ بھٹو خاندان کی تصاویر ،جیولری ،کڑے اور کھلو نے ،چائے کے کپ و دیگر سامان کی فروخت کے ساتھ ساتھ کئی ہوٹلز بھی بن چکے ہیں جہاں کھا نے ،چا ئے اور مشرو بات کی فروخت کی جا تی ہے جبکہ سندھ میں موجود بزرگان دین کے مزارات کی طرح اس مزار پر بھی جوتوں اور چپلوں کی حفاظت کے لئے با قاعدہ طور پر ریکس بنا ئے گئے ہیں جہاں جوتے اور چپلیں رکھنے کے لئے معمولی سا نذرانہ وصول کیا جا تا ہے جبکہ دیگر مزارات کی طرح یہاں بھی ناریل ،مٹھائیاں فروخت کر نے والوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیادوں پر مزار پر آنے جا نے والوں کو چیزیں فروخت کر رہے ہو تے ہیں جبکہ گداگروں نے بھی مزار کے باہر ڈیرے ڈال لئے ہیں لیکن کیونکہ مزار کے اندر داخلے کے لئے اسکینرز سے گزارا جاتا ہے اور یہاں پولیس کے کڑا پہرا قائم ہے لہذا یہ گداگر دیگر مزارات پر لوگوں سے کئے جا نے والا ناروا سلوک برقرار نہیں رکھ پا تے۔

 

 

 

گزشتہ دنوں ایک طویل عرصے بعد مجھے لاڑکا نہ جا نے کا موقع ملا تو میں اپنی یاداشتوں کو تازہ کر نے کے لئے گڑھی خدا بخش کی جا نب چل پڑا مگر اب یہاں تانگے کی جگہ مزدا گاڑیوں ،رکشہ ،چنکچی نے لے لی تھی اور کچی سڑکوں کے بجا ئے پختہ سڑکیں بن چکی تھیں جس نے سفر کو انتہا ئی آسان کر دیا تھا لہذا کئی گھنٹوں کا سفر محض نصف گھنٹے میں طے ہو نے کے بعد جب مزار جا نے کے لئے آگے بڑھا تو ایک مکمل بازار سے گزرنا پڑا جس کے بعد جب میں ماضی کے اس کچے قبرستان کی جگہ پہنچا تو وہاں تو ایک عالیشان مقبرہ جس کے چاروں اطراف نا صرف چاردیواری قائم تھی بلکہ بنجر کھیتوں کی جگہ ایک کشادہ صحن موجود تھا جہاں جلسے کے لئے ایک پختہ اسٹیج پہلے سے تعمیر شدہ تھا کو دیکھتا ہوا جب مزار کے اندر قدم رکھا تو مزار کے اندر لگے اسپیکروں کے ذریعے مسلسل قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی تھی اور زائرین کی ایک بڑی تعداد ذوالفقار علی بھٹو ،بیگم نصرت بھٹو ،محتر مہ بینظیر بھٹو ،میر مرتضی بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کی قبروں پر پھولوں کی چادر چڑھا نے کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی میں مصروف ہو گیا ایسے میں اچا نک مجھے اسی گائوں میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم لیڈر جس نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا اور سر جھکا نے پر سر کٹا نے کو ترجیح دی کی شہادت کے بعد سال میں صرف 2روز گڑھی خدا بخش کے اندر 2روز کی رونق جبکہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سال بھر روزانہ کی بنیادوں پر ہو نے والی رونق اور مزار پر حاضری نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس صدی کے بڑے لیڈر تھے یا پھر ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو ۔

 

لیکن اب تک میں صرف شش و پنج میں مبتلا ہوںاس حوالے سے میں نے وہاں کاروبار کر نے والے مختلف دکانداروں سے بھی اپنے اس سوال کو جاننے کی کوشش کی مگر ان سب کا کہنا یہی تھا کہ بھٹو ہوں یا بینظیر بھٹو دونوں ہی اپنے اپنے وقت کے بڑے لیڈر تھے اور دونوں کو ہی عوام میں ایک جیسی قدر و منزلت حاصل ہے لیکن کیو نکہ بھٹو شہید نے ملک کے عوام کے لئے جان دینے سے گریز نہیں کیا لہذا انہیں آج بھی عوام میں نمایاں مقام حاصل ہے اور پیپلز پارٹی اسی بھٹو کے نعرے کی بنیاد پر 4بار اقتدار حاصل کر چکی ہے اور اب بھی اس کا نعرہ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ہی ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکا جو کہ شہید بھٹو کی جیت ہے ۔

(183 بار دیکھا گیا)

تبصرے