Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موہنجوداڑو سے موہنجوداڑو تک..(تحریر :مختار احمد)

ویب ڈیسک اتوار 03 نومبر 2019
موہنجوداڑو سے موہنجوداڑو تک..(تحریر :مختار احمد)

یہ سندھ دھرتی کی خوش نصیبی ہے کہ اس جگہ سے دنیا کی قدیم ترین تہذیب مو ہنجودڑو کے آثار دریافت ہو ئے جس نے دنیا کو حیران کر دیا گو کہ اس تہذیب کے حوالے سے اب تک اس بات کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکا ہے کہ با لا آخر مو ہن جودڑو کا جدید ترین شہر کب اور کیسے آباد ہوا تھا اور کیو نکر اس کی تبا ہی عمل میں آئی اس حوالے سے مورخین کی اکثر یت کا ماننا یہ ہے کہ یہ تہذیب لگ بھگ 5000سال پرا نی ہے اور اس قدیم تہذیب کے بارے میں سب سے پہلے 1912میں ایک ہندو ما ہر آثار قدیمہ ڈی آر بھنڈر کر نے کھوج لگا یا اور اس کے بعد انہوں نے جس اونچے ٹیلے پر آثار کا کھوج لگا یا تھا اس کی کھدائی کا کام 1922میں برطانوی ما ہر آثار قدیمہ سرجان مارشل کی نگرا نی میں شروع کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ٹیلے سے بدھ مت کا ایک اسٹوپا یعنی کے عبادت گاہ دریافت ہو ئی اس دریافت کے بعد گو یا کہ کام کر نے والے ماہرین کے اندر تلاش کی بجلی سے کونند گئی اور انہوں نے انتہا ئی تیز رفتاری کے ساتھ قدیم تہذیب کی تلاش کا کام شروع کر دیا اور اسی ٹیلے کے نیچے سے خانقاہیں اور ایک ہال دریافت کر لیا جس کے بعد سر جان مارشل جو کہ آثار قدیمہ پر ایک عبور رکھتے نے اپنے تجربات کی روشنی میں اس بات کا دعوی کیا کہ اس ٹیلے کے نیچے ایک قدیم تہذیب مدفون ہے جس کے بعد کھدائی کے سلسلے کو مزید دراز کر دیا گیا اور پھر 5000سال قدیم شہر موہن جودڑو کی دریافت ہو ئی جس نے تقریبا پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا موہنجو دڑو وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہو گیا۔ لیکن ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ ،قحط سالی کے ساتھ ساتھ اسلامی فلسفے کے تحت اللہ تعالی کی آزمائش بھی قرار دیتے ہیں موہنجودڑو کو قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے اسی لئے 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ موہنجودڑو کا پلان ہڑپہ جیسا ہی تھا۔ شہر کے مغرب میں قلعہ ہے۔ شہر کی گلیوں کی ترتیب و مکانات اور اناج گھر سب ہڑپہ جیسے ہیں۔

البتہ یہاں کی منفرد اور سب سے نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے۔ بڑا غسل خانہ، بڑی باؤلی یا عظیم حمام۔ یہ ایک بڑی سی عمارت ہے۔ جس کے وسط میں ایک بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب شمالاً جنوباً 39 فٹ لمبا اور شرقاً غرباً 23 فٹ چوڑا اور آٹھ فٹ گہرا ہے۔ شمال اور جنوب دونوں دو سمت سے اینٹوں کے زینے اندر اترتے تھے۔ جن پر لکڑی کے ٹختے چپکا دیے گئے تھے۔ تالاب کی چار دیواری کی بیرونی سمت پر بھی لک) بچومن (کا لیب کیا گیا ہے۔ لک ہائیدرو کاربن کا قدرتی طور پر نکلنے والا مادہ ہے اور فطرت میں مختلف حالات میں دستیاب ہے، جو اس وقت بھی تھا۔ لک کے لیپ سے تالاب میں سے پانی کے رسنے کا سد باب کیا گیا ہے۔اسی طرح موہنجودڑو تو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔ اس کے ایک طرف دریائے سندھ تھا اور دوسری طرح دریائے سندھ سے نکلنے والا نالہ (جسے نارا کہتے ہیں) بہتا تھا۔ یہ آگے جا کر واپس دریا میں مل جاتا تھا۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا۔ موہنجودڑو میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کے کئی ثبوت ملے ہیں۔ سیلاب کی لائی ہوئی ریت سے اس شہر کی سطح زمین سے تیس فٹ بلند ہوگئی۔ہم جب موہنجودڑو جیسا عالی شان شہر دیکھتے ہیں جس کے مکانات پختہ اور مظبوط، دو دو تین تین منزلہ اونچے ہیں۔ ان میں سڑکیں ہیں، بازار ہیں، ان کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات موہنجودڑو کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں۔ یعنی جب یہاں کے شہر پہلے پہل بنے تب یہاں کی تہذیب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور بعد میں اسے زوال آتا رہا۔موہنجودڑو میں قلعہ اصل شہر اندر ایک منفرد اور ممتاز حثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں ایک جال کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں اور گلیوں کے اس جال میں جگہ جگہ عمارتوں کے بلاک میں قلعہ اور شہر اور قلعے کے درمیان میں ایک واضح خلا ہے۔ ہو سکتا ہے قلعہ کے ارد گرد وسیع اور گہری خندق ہو۔ جس میں پانی چھوڑا گیا ہو یا پھر دریا کا پانی لایا گیا ہو یا قدرتی طور پر دریا کی ایک شاخ نے اس کو جزیرے کی شکل میں گھیر رکھا ہو۔موہنجودڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے جو جنوب میں سطح زمین سے بیس فٹ اونچا ہے اور شمال میں چالیس فٹ۔ آج کل دریائے سندھ کی ایک شاخ اس سے تین میل کے فاصلے پر بہتی ہے۔ جب یہ شہر آباد تھا اس وقت قلعے کی مشرقی دیوار کے پاس سے دریا کی ایک شاخ گزرتی تھی۔

مغربی جانب جو حفاظتی بند تھا۔ اس سے ایک میل دور دریا تھا۔ قلعہ ایک چبوترے پر واقع ہے۔ چبوترا مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ جس زمانے سے اناج گھر اور اشنان گھر تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے نیچے بھی کئی دور رہائش کے مدفون ہیں۔ مگر زیر زمین پانی کی سطح اونچی ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھدائی نہیں ہو سکی۔ تاہم جو کچھ ہو سکا ہے اس کے مطلق اوپر سے نیچے تک سات سطحیں ملی ہیں۔ ساتویں سطح سے نیچے ابھی تک کھدائی نہیں ہو سکی۔ چھٹی اور ساتویں سطح کے درمیان میں بیس فٹ موٹی تہہ مٹی اور اینٹ کے روڑوں کی بچھائی گئی ہے۔ گویا پرانا شہر سیلاب سے تباہ ہوا یا سیلاب آیا تو پورے شہر کے اوپر بیس فٹ اونچا چبوترا بنا کر نیا شہر تعمیر کیا گیا۔ موہنجودڑو کے قلعے کے جو برج بنائے گئے ہیں، ان میں بعض جگہ لکڑی کے شہتیر کا ردا لگایا گیا ہے۔ جو نو فٹ لمبا اور پانچ فٹ چوڑا ہے۔ لیکن بعد میں یہ شہتر گل گئے تو کہیں کہیں اینٹوں کی مرمت کردی گئی۔ شہتیروں کا یہ عجیب و غریب استعمال ہڑپہ کے اناج گھر میں بھی کیا گیا ہے۔ بعد میں آنے والے معماروں نے یہ طریقہ ترک کر دیا۔ دو برج ایک چور دروازے کے دائیں بائیں بنائے گئے تھے۔ بعد میں یہ چور دروازہ بند کر دیا گیا اور یہاں فصیل تعمیر کردی گئی۔ اس فصیل کے اوپر دونوں طرف قد آدم دیواریں بنا کر دونوں برجوں کے یہ چور دروازے کو بند کر دیا گیا۔ اس جگہ سے مٹی کے 100 باٹ ملے ہیں۔ جن میں کچھ چھ اونس وزن کے ہیں اور باقی ماندہ بارہ اونس کے) بالترتیب ایک پاؤ اور آدھا سیر (قلعے کے جنوب میں ایک برج ہے اور اس کے قریب عقبی دروازہ ہے۔ موہنجودڑو قلعے کا دفاعی نظام ہڑپہ کے قلعے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے مگراس قدیم تہذیب کی تعمیرات میں دنیا کو اس وقت حیرا نی میں مبتلا کر دیا جب دریافت ہو نے والے شہر میں گھروں کی تر تیب کو دیکھا گیا گھر اور اس کی گلیاں پوری ترتیب کے ساتھ بلاک سسٹم اور ماسٹر پلان کے تحت تعمیر کی گئی تھی جسے گرڈ سسٹم کہا جا تا ہے جبکہ تمام علاقے میں فرا ہمی آب کے لئے 2 سے3منزلہ مکا نات کے لئے گھر کے اندر اور باہر کنویں دریافت ہو ئے جس کے بارے میں عام خیال ہے کہ گھر کے اندر بنا ئے جا نے والے کنویں کو نچلی منزل کے لوگ جبکہ اوپری منزل پر رہنے والے گھر کے باہر بنا ئے جا نے والے کنویں استعمال کیا کرتے تھے اور اس طرح کے کم و بیش 700سے زائد کنویں دریافت کئے جا چکے ہیںہر گھرکے اندر سے ٹوائلٹ بھی دریافت ہو ئے ہیں جبکہ مدارس ،اسکول اور کالجز کی عمارتیں بھی اس شہرمیں موجود تھیںجبکہ نکاسی آب کے لئے شہر بھر میں نالیاں موجود تھیں جن کے اوپر با قاعدہ طور پر شیڈز تعمیر کئے گئے تھے جبکہ کوڑا کر کٹ کو ٹھکا نے لگانے کے لئے فیلٹ ڈپو تعمیر تھے جس میں وہاں کے بسنے والے اپنے گھر کے کچرے کو ٹھکانا لگا نے کا کام کر تے تھے ۔

دریافت ہو نے والی مو ہنجوداڑو کی قدیم تہذیب جو کہ اب تک سر بستہ راز بنا ہوا ہے مگر اس بات سے پوری دنیا انکار نہیں کر سکتی کہ اس قدیم تہذیب کو رہنے سہنے کے ڈھنگ سکھا ئے آج اگر دنیا بلخصوص نئے نئے بسنے والے شہر جو کہ ماسٹر پلان کے تحت بنا ئے جا تے ہیں اسی کی مرحون منت ہے نیز اسی قدیم اور عزیم شہر نے دنیا کو یوگا کی ورزش ،نکاسی آب ،فراہمی آب ،شترنج کے کھیل ،لوڈو کے کھیل کے تحفے دئے اور اس دور کی جدید تہذیب سے ملنے والے نوادرات جن میں مٹی کے برتن ،آتش دان ،کنگھی ،آئینے ،کشتی،شترنج ،لوڈو کے چھکے ،چکی ،کنگ پریسٹ کے مجسمے ،ڈانسنگ گرل ،ذرعی اوزار ،ٹھیکریاں،مہریں،زیوارات و دیگر اشیا موجود ہیں جو کہ عہد حاضر میں بھی ترقی کے با وجود اب تک زیر استعمال ہیںموہنجوداڑو جس کی دریافت کے لئے کھدائی کا کام 1912 میں شروع ہوا تھا اور 1958،1963اور1964 میں بھی شہر کی دریافت کے لئے مختلف ماہرین کی زیر نگرا نی کھدائی ہوتی رہی۔

سب سے آخر میں 1989میں ڈاکٹر شریف کے زیر نگرا نی میں کھدائی ہو ئی اس کھدائی میں حصہ لینے والے ایک ماہر آثار قدیمہ قاسم علی قاسم سے جب بلاگر نے بات چیت کی تو ان کا کہنا یہ تھا کہ موہن جودڑو کا کل رقبہ 1100ایکڑ سے کہیں زیادہ ہے جس میں سے صرف555ایکڑ کی کھدائی ہو ئی ہے جبکہ اب تک شہر کی دریافت کے لئے 30فٹ کی گہرا ئی تک کھدائی کی جا سکی ہے کیونکہ اتنی گہرا ئی میں ہی پا نی نکل آتا ہے لہذا یہ بات یقین اور وسوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ابھی مکمل طور پر موہن جودڑو کی مکمل تہذیب کو تلاش ہی نہیں کیا جا سکا ہے انہوں نے کہا کہ موہنجوداڑوکی تہذیب عراق میں بابل اور فراط کی تہذیب کی ہم اثر ہے جس دن بھی اس شہر کی تلاش کا کام مکمل کر لیا گیا تو یہ تہذیب دنیا کوحیران کر نے کے لئے کا فی ہو گی اور 21 ویں صدی کے لوگوں کو اس قدیم تہذیب سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا موہنجودڑو کی تبا ہی کے حوالے سے پوچھے جا نے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بھی ماہرین آثار قدیمہ ایک پیج پر جمع نہیں ہو سکے کسی کا کہنا یہ ہے کہ اس شہر کی تبا ہی آتشی بارش سے ہو ئی تو کسی کا ماننا یہ ہے کہ شہر زلزلے یا سیلاب سے تباہ ہوا جبکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ کنویں دریافت ہو نے کے سبب کچھ ماہرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ موہن جودڑو کے باشندے در اصل اصحاب الرس ہیںجن کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ انہیں اللہ کی نا فرمانی کی بنیاد پر تباہ کیا گیا لیکن اس حوالے سے حال ہی میں ہو نے والی جدید تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہو ئی ہے کہ اس شہر کو کسی نے تباہ نہیں کیا بلکہ یہاں کے بسنے والوں نے مون سون کے بگاڑ کی وجہ سے کھیتی باڑی تباہ ہو نے پر یہاں سے ہجرت کی اور ہمالیہ کے دامن میں اور مختلف بستیوں میں آباد ہو گئے اور یہ بات درست اس لئے معلوم دیتی ہے کہ پورے شہر کی کھدائی کے دوران یہاں سے صرف 20سے22انسانوں کی ہڈیاں ملی ہیں جو کہ میوزیم میں اب بھی محفوظ ہیں اور ظاہر کی سی بات ہے کہ اتنے بڑے شہر میں صرف 20سے22لوگ نہیں رہ سکتے لہذا ہو نے والی نئی تحقیق درست معلوم دیتی ہے ۔

(124 بار دیکھا گیا)

تبصرے