Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لاہور عجائب گھربامقابلہ کراچی عجائب گھر (تحریر:مختاراحمد)

ویب ڈیسک جمعه 01 نومبر 2019
لاہور عجائب گھربامقابلہ کراچی عجائب گھر (تحریر:مختاراحمد)

تاریخ کی کتابوں میں اس بات ذکر نہیں کہ لوگوں نے کب ،کیسے اور کیونکر اپنے ماضی کی یادوں کو محفوظ کر نا شروع کیا اور اس کے بعد دنیا میں عجا ئب گھروں کے بنا ئے جا نے کا سلسلہ کب شروع ہوا لیکن اس بارے میں یہ بات مستند ہے کہ جب دنیا وجود میں آئی تو دنیا میں بسنے والے مختلف مذاہب ،رنگ و نسل کے لوگوں نے ابتدائی طور پر اپنے آبائو اجداد کی نشانیوں کے طور پر گھروں میں ہی ان کے زیر استعمال اشیا محفوط کئے اور پھر جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی یہ میوزیم کا درجہ اختیار کر تے رہے جس کے تحت اس وقت دنیا بھر میں 55ہزار سے زائد عجا ئب گھر موجود ہیں جن میں سے صرف امریکا میں عجا ئب گھروں کی تعداد 1500سے زائد ہے جن میں برٹش میوزیم ،نیچرل ہسٹری میوزیم اور لندن کی سائنس میوزیم کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے جبکہ اسی طرح فرانس میں 44،آسٹریلیا میں 25،ڈنمارک میں22،یونان میں19،فن لینڈ میں 15میوزیم قائم ہیں جہاں اس ملک کے ما ضی کے علاوہ تہذیب و ثقافت اور ترقی کے حوالے سے اہم نوادرات موجود ہیں اور جس طرح دنیا بھر میں عجا ئب گھروں کی ایک بڑی تعدادموجود ہے اسی طریقے سے پاکستان میں بھی نا صرف قومی عجا ئب گھر جس میں ملک کے چاروں صوبوں سے ملنے والے نوادرات موجود ہیں بلکہ ہر مذہب ،ہر دور کے مختلف نوادرات موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے فو جی عجا ئب گھر ،شاہی قلعہ عجا ئب گھر ،موہن جودڑو میوزیم ،حیدر آباد بہاولپور میوزیم کے علاوہ حیواناتی عجا ئب گھر ،ذرعی عجا ئب گھر ،انڈسٹریل عجا ئب گھر بھی موجود ہیں جہاں ہزاروںسال پہلے کی تہذیبوں سے ملنے والے آثار نمایاں ہیں مگر ان عجا ئب گھروں میں شہر کراچی کے میوزیم کو قدیم ہو نے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس میں صرف کسی ایک صوبے کے نوادرات نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں کے نوادرات موجود ہیں اس میوزیم کا آغاز بر طانوی دور میں ایک انگریز کمشنر سر بارٹلے فریئر نے 1871 میں اس وقت کے مشہور زمانہ ٹاؤن ہال ’’فریئر ہال‘‘ کی اوپری منزل سے اس کا آغاز کیا۔ابتدائی طور پر میوزیم اور جنرل لائبریری دونوں ہی فریئر ہال کی اوپری منزل پر قائم کیے گئے جہاں شائقین کی ایک بڑی تعداد نہ صرف مطالعے کا شوق پورا کرتی بلکہ تاریخ سے لگاؤ رکھنے والے لوگ ماضی میں استعمال ہونے والی نادر و نایاب اشیا کا مطالعہ بھی کرتے تھے۔اس میوزیم کو اس وقت وکٹوریہ میوزیم کا نام دیا گیا تھا۔

اس وقت جو لائبریری قائم کی گئی تھی وہ جنرل لائبریری کے نام سے مشہور تھی پھر اچانک اس میوزیم آج کے سپریم کورٹ کراچی کے رجسٹری آفس منتقل کر دیا گیااور یہ کافی عرصے تک یہیں قائم رہی لیکن پھر جب یہاں مزید نوادرات رکھنے کی گنجائش ختم ہو گئی تو پھر ایک وسیع و عریض میوزیم قائم کر نے کے بارے میں سوچا جا نے لگا اور پھر برنس گارڈن جو کہ قدامت کے اعتبار سے کراچی کا پہلا با غ تھا، کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا اور باغ کے اندر قومی عجائب گھر قائم کرنے کی منظور ی بھی دے دی گئی۔ جس کے بعد تیزی سے اس کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور جلد ہی ایک 5 منزلہ دیدہ زیب عما رت تعمیر ہو گئی۔اس کے بعد وکٹوریہ میوزیم کے نوادرات جو کہ مختلف وقتوں میں کبھی ڈی جے کا لج اور کبھی سپریم کورٹ کے رجسٹری آفس اور دیگر عمارتوں میں رکھے گئے تھے، سے نوادرات کو اکھٹا کرکے نیشنل میوزیم کراچی کے اندر منتقل کر دیا گیا۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میوزیم کا افتتاح جنرل (ر) یحی خان نے کیا ابتدائی طور پر یہاں 2 یا 3 گیلریاں شروع کی گئیں جن میں قرآنک گیلری ، گندھار،موہن جودڑو،زمانہ قبل از تاریخ ،تحریک پاکستان سمیت مختلف گیلریاں موجود ہیںجن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتارہا اور گیلریوں کی تعداد 12کو پہنچ گئی اور جس میں مزید اضا فے کے لئے 4اضافی گیلریوں کی تعمیر شامل ہے اس وقت ان 12گیلریوں میںزمانہ ماں قبل از تاریخ سے لے کر تحریک پاکستان گیلری بھی شامل ہے اور یہاں چاند کے پتھر کے علاوہ دیڑھ لا کھ سے زائد نادر و نا یاب قیمتی نوادرات جن کی مالیت انشورنس کمپنیاں ماضی میں 43ارب روپے سے زائد بنا چکی ہیںموجود ہیں لیکن ان میں قرآنک گیلری اور مخطوطات گیلری کوان تمام گیلریوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے کیو نکہ یہاں قرآن قریم کے ہاتھوں سے لکھے گئے نسخوں سمیت عبرانی و دیگر زبانوں میں پہلی صدی سے لے کر پانچویں صدی تک کے قرآن مجید محفوظ ہے جبکہ مخطوطات گیلری میں مختلف عہد کے بادشاہوں ،شہنشاہوں کے فرمان سے لے کر تحریک پاکستان کی جدو جہد کے حوالے سے لکھے جا نے والے اہم خطوط بھی شامل ہیں۔

 

مگر کیو نکہ یہ عجا ئب گھر کبھی وفاق کے زیراثر رہا تو کبھی سندھ نے اسے گود لے لیا جس کے باعث وہ عجا ئب گھر جہاں زمانہ قبل از تاریخ گیلری میں 10لا کھ سال پرانے انسانی زندگیوں کے آثاراور مو ہن جودڑو ،ہڑپہ ،ہندو تہذیبوں کے آثار کا ایک خزینہ موجود ہے مگر اس کی موثر انداز میں دیکھ بھال نہ ہو نے ،غیر پیشہ وارانہ عملے کی تعیناتی کے سبب نہ تو ان گیلریوں میں رکھے گئے سامان کو صحیح طور پر ڈسپلے کیا جا سکا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں محکمہ آثار قدیمہ ہو یا محکمہ نوادرات نے عجا ئب گھر میں رکھے گئے نوادرات کی کبھی تشہیر کی ضرورت محسوس نہیں کی جس کے سبب پورے سال میں معمولی ٹکٹ ہو نے کے با وجود ڈیڑھ سے دو سو سے زیادہ لوگوں نے ادھر کا رخ ہی نہیں کیا بلخصوص غیر ملکی سیاحوں کی آمد یہاں نہ ہو نے کے برا بر ہے اور اکثر لوگ جو اس میوزیم کے قریب سے گزر رہے ہو تے ہیں انہیں اس بات کا پتا ہی نہیں کہ یہ کو ئی عجا ئب گھر ہے جہاں لاکھوں سال پرانے تاریخ کے خزانے موجود ہیں جبکہ گزشتہ دنوں میرا اسی تلاش جستجو میں لاہور جا نے کا اتفاق ہوا تو واقعی لا ہور میوزیم جس کی دیکھ بھال صوبائی حکو مت انجام دیتی ہے کی صاف ستھری پرانی عمارت کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا یہ عجا ئب گھر بھی قدامت کے اعتبار سے انتہا ئی قدیم ہے لاہور عجائب گھر 66-1865ء میں بنا جوپہلے ٹولنٹن مارکیٹ کی بلڈنگ میں واقع تھا پھر1894ء میں عجائب گھر کو اس کی موجودہ بلڈنگ جو کہ مال روڈ پر واقع ہے، میںمنتقل کیا گیااس عجا ئب گھر کو بنا نے میںجن لوگوں نے کردار ادا کیا ان میں جون لوک وڈ کپلنگ بھی شامل ہیں جن کی فن کاریگری اور مہارت کو دیکھ کر کو ئی بھی شخص داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا میوزیم کی اس عمارت کو سرگنگا رام نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ میوزیم یونیورسٹی ہال کی قدیم عمارت کے بالمقابل واقع مغلیہ طرز تعمیر کا ایک شاہکار اور ملک کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔عجائب گھر مغل اور برٹش دور کی پیٹنگز، سکوں، پاکستان کی دستکاری، بڑے بڑے بُدھا اور پرانے زمانے کے برتن، ہتھیار اور کپڑوں سے سجایا گیا ہے اور اس میںایک فوٹو گیلری بھی شامل ہے ۔

جو کہ اس قرینے سے سجا ئی گئی ہے کہ ماضی کی تہذیبوں کامکمل مطالعہ کیا جا سکتا ہے میوزیم کے اندر اگر قالین سازی کی مکمل صنعت کا احاطہ کیا گیا ہے تو بدھا کی مکمل لائف ہسٹری بیان کی گئی ہے میوزیم میں کام کر نے والا بیشتر عملہ پیشہ وارانہ مہارت رکھتا ہے جنہوں نے نا صرف میوزیم کو سجا رکھا ہے بلکہ انہوں نے اسکولوں ،کالجوں اور یو نیورسٹی میں مکمل طور پر نا صرف آگا ہی فرا ہم کر رکھی ہے بلکہ انہیں عجا ئب گھر کے دورے کی دعوت دی جا تی ہے جس کے سبب نا صرف اسکولوں ،کالجوں ،یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کا ایک جم غفیر نظر آتا ہے بلکہ میوزیم کا وزٹ کرنے والوں میں غیر ملکی سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد اسے دیکھنے آتی ہے اس میوزیم کو دیکھنے کے لئے بھی نا صرف ٹکٹفروخت کئے جا تے ہیں بلکہ سیاحوں کی آسانی کے لئے یہاں بک اسٹال اور سونیر شاپ بھی موجود ہے جہاں سے میوزیم دیکھنے کے لئے آنے والا کو ئی بھی شخص با آسانی سستے داموں تاریخی نوادرات کی نقل تصاویر ،کلینڈر،کپ اور دیگر اشیا خرید سکتا ہے سال گزشتہ جب یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد معلوم کر نے کے لئے ٹکٹوں کی گنتی کی گئی تو ڈھائی لا کھ سے زیادہ افراد نے میوزیم کا دورہ کیا تھا ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میوزیم جسے اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پاس پورے پاکستان کے سب سے قیمتی نوادرات موجود ہیں کے حوالے سے اس قسم کی منصوبہ بندی کی جا ئے کہ لاہور کے شہریوں کی طرح اہل کراچی بھی نا صرف تاریخ میں دلچسپی لیں بلکہ اپنا رشتہ گزرے ماضی کے ساتھ جوڑ سکیں۔

 

(79 بار دیکھا گیا)

تبصرے