Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لاہور کی مسجد شب بھر ( تحریر :مختار احمد )

ویب ڈیسک جمعرات 31 اکتوبر 2019
لاہور کی مسجد شب بھر ( تحریر :مختار احمد )

لاہور ایک قدیم شہر ضرور ہے مگر اس کا زیادہ تر ذکر اسلامی ادوارکی تواریخ میں ملتا ہے اسی نسبت سے شہر میں مندر ،گرد وارے ،چرچز تو موجود ہیں مگر ان میں مساجد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس کے تحت اس وقت شہر لاہور میں 70 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں جن میں مسجد وزیر خان ،بادشاہی مسجد ،جامع مسجد لاہور ،موتی مسجد،سنہری مسجد سمیت بیشتر مساجد کو قدیم ہو نے کے سبب تمام مساجد پر ایک نمایاں مقام حاصل ہے یوں تو ان میں سے ہر مسجد کی اپنی ایک علیحدہ تاریخ اور کہا نی موجود ہے لیکن ان تواریخ میں لاہور کے شاہ عالم چوک اور موچی گیٹ کے درمیان واقع مسجد شب بھر کو سب سے منفرد مقام حاصل ہے یہ مسجد آج بھی پوری آن بان اور شان کے ساتھ موجود ہے جہاں نمازیوں کی ایک بڑی تعداد پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی کر تے ہیں جبکہ جمعے کے روز نماز جمعہ کا خصوصی اہتمام کیا جا تا ہے جس کے تحت نا صرف مسجد کے اندر بلکہ اس کے با ہر بھی تل دھر نے کی جگہ نہیں ہو تی۔

اس مسجد کی کہا نی ایک ایسی کہا نی ہے جو کہ نا صرف قوت ایما نی کی اعلی مثال ہے بلکہ یہ درس دیتی ہے کہ قوت ایما نی سے ناممکن کو بھی ممکن بنا یا جا سکتا ہے کیو نکہ یہ لاہور شہر کی وہ مسجد ہے جو کہ انگریزوں کے دور حکو مت میں ایک پلاٹ کی صورت میں موجود تھی اور یہاں ہندئوں کی اکثر یت ہو تی تھی کے اچا نک مسلمانوں اور ہندوئوں کے در میان اس زمین جو کہ 3کنال تھی شدت کا تنازعہ پیداہو گیا اور با قاعدہ طور پر دنگے شروع ہو گئے ہندئوں نے اسے مندر کی جگہ قرار دے کر وہاں پو جا پاٹ شروع کر دی تو مسلمان بھی پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے اس جگہ پر نماز پڑھنے کو جہاد سمجھتے ہو ئے نمازوں کی ادائیگی شروع کر دی جس پر اکثر و بیشتر دونوں جانب سے تصادم بھی ہوا کر تا تھا جس کے پیش نظر معاملہ انگریزوں کی عدالت تک پہنچ گیا دونوں فریقین عدالت پہنچ گئے مسلمانوں نے اس زمین پر اپنا حق ملکیت ثابت کر نا شروع کر دی جبکہ ہندئوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ مندر کی جگہ ہے جس پر انگریز جج نے کہا کہ وہ دوسرے روز خود اس جگہ کا معائنہ کرے گا اور یہ معلوم کر نے کی کوشش کرے گا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی ہے یا پھر ہندئوں کی کیو نکہ مسلمانوں کے وکیل با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے لہذا انہوں نے مسلمانوں کے نمائندگان جن میں دنیا کی پہلوانی کی تاریخ رقم کر نے والے گا ما پہلوان بھی موجود تھے کو یہ بتا یا کہ کہ کیو نکہ مذکورہ زمین متنازعہ ہے اب اس پر مسلمانوں کی حق ملکیت کو اس وقت ثا بت کیا جا سکتا ہے ۔

جب یہاں کو ئی مسجد ہو جس پر مسلمانوں نے گا ما پہلوان کے سر پرستی میں اپنی اپنی جمع پونجی لا کر رکھ دی جس سے اینٹیں ،لکڑی و دیگر تعمیراتی سامان خریداگیا اور راتوں رات مسجد کی تعمیر شروع کر دی مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والوں کی لا ئنیں ریلوے اسٹیشن تک موجود تھیں جن میں خواتین بھی شامل تھیں جو کہ پا نی بھر بھر کر لاتی رہیں اور مسجد کی تعمیر پوری رات تیزی کے ساتھ جاری رہی اور جب صبح قرب و جوار کے مساجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہو ئی تو اس مسجد سے بھی ایک نو جوان نے آذان دینی شروع کر دی اور تعمیرات میں حصہ لینے والے مسلمانوں نے نماز فجر کی ادائیگی بھی کی جب دوسرے روز عدالت کا وقت شروع ہوا تو مذکورہ جج نے اس متنازعہ زمین جہاں کے اب ایک مسجد موجود تھی کا دورہ کیا اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں سنا دیا اس بات کی خبر جب شاعر مشرق حضرت علا مہ اقبال ؒ کو ہو ئی تو مسلمانوں کے جذبہ ایمانی سے راتوں رات تعمیر کی گئی مسجد کو دیکھنے کے لئے پہنچے اور دیکھ کر کچھ حیران پریشان بھی ہو ئے اس وقت بھی مسجد میں نماز ظہر کی ادائیگی جاری تھی مگر نمازیوں کی تعداد کچھ کم نظر آئی جس پر انہوں نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا کہ “مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے —- پر من اپنا پرا نا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا “اور ان کے ان اشعار کے بعد ہی مسجد کا نام مسجد شب بھر رکھ دیا گیا۔

پاکستان کے دہلی گیٹ سے بھارت کے لاہوری گیٹ تک (تحریر :مختار احمد)

اور آج بھی اسے اسی نام سے جا نا اور ما نا جا تا ہے موچی دروازے جو کہ قریب ہی واقع ہے وہاں آج بھی قدیم امام بارگاہ موجود ہے جہاں ماہ محرم میں بڑی بڑی مجالس ہو تی ہیں اور عزاداروں کومسجد کے رضا کار پا نی پلا رہے ہو تے ہیں اور آج تک کبھی ان دونوں علاقوں جہاں سنی ،شیعہ کثرت سے موجود ہیں پیار محبت کے ساتھ رہتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ موچی دروازے جہاں یہ امام بارگاہ قائم ہے اسی گلی کے اندر لاہور کی سب سے مشہور سوغات خلیفہ کی نان ختائی اوررفیق مٹھائی کی دکان جو کہ انتہا ئی پرانی ہے موجود ہے اور جہاں ملک بھر سمیت بیرون ملک سے آنے والے لوگ اپنے پیاروں کے لئے برفی ،پتیسے ،گلاب جامن ،قلاقند اور نان ختائی خرید کر اپنے پیاروں کے لئے لے جاتے ہیں اور ایک رات میں تیار کی گئی اس مسجد جو کہ نمایاں نظر آتی ہے کو دیکھے اور داد دئے بغیر نہیں رہتے۔

(135 بار دیکھا گیا)

تبصرے