Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستان کے دہلی گیٹ سے بھارت کے لاہوری گیٹ تک (تحریر :مختار احمد)

ویب ڈیسک بدھ 30 اکتوبر 2019
پاکستان کے دہلی گیٹ سے بھارت کے لاہوری گیٹ تک  (تحریر :مختار احمد)

ویسے تو اگر عمارتوں میں دروازے اور کھڑکیاں لگا نے کے رواج کا تعلق ہے تو یہ کوئی نیا رواج نہیں یہ رواج تو ہزاروں سال پہلے سے قائم ہے جس کے تحت اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جا ئے تو ماہرین آثار قدیمہ 5ہزار سال قبل لگا ئے جا نے والے ایک لکڑی کے دروازے کو دریافت کر چکے ہیں جو کہ آج بھی موجود ہے اس سلسلے میں صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺکی ایک حدیث مبارکہ جس میں انہوں نے یہ فر ما یا تھا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی ؓ اس کا دروازہ تو اس سے بھی دروازے لگا ئے جا نے کے سلسلے کی قدامت کا پتا چلتا ہے جبکہ اس حوالے سے لاڑکا نہ سے دریافت ہو نے والے 5ہزار سال پرانے شہر موہن جودڑو کی دریافت میں ماہرین آثار قدیمہ کو ملنے والے کھنڈرات نما مکا نات سے اس بات کا پتا چلا ہے کہ اس وقت بھی دروازے اور کھڑکیاں مکانوں کی نا صرف زینت ہوا کر تی تھیں بلکہ ٹو ان ون کے طور پر پردے اور حفاظت کا کام انجام دیتی تھی اسی طرح حضرت صالح کی قوم یعنی کے قوم ثمود جو کہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اس قوم کو پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت محلات بنا نے پر ایک خاص مہا رت حاصل تھی وہاں کے محلات اور گھروں سے بھی دروازوں کے آثار ملے تھے ٹھیک اسی طرح جب بر صغیر میں مغل بادشاہوں کی حکمرا نی قائم تھی تو انہوں نے بھی شہر میں داخل ہو نے اور راستوں کی رہنما ئی کے لئے بڑے بڑے دروازے بنا ئے تھے ان میں سے اس وقت بھارت میں ٹھیک اس راستے لاہور کی جا نب جا تا تھا شاہی گزر گاہ کے طور پر لاہوری گیٹ بنا یا جبکہ لاہور سے بھارت کے لاہوری گیٹ تک رہنما ئی کے لئے دہلی گیٹ قائم کیا تھا جو کہ آج بھی دونوں مما لک میں پوری آن بان شان کے ساتھ موجود ہے ۔

کیو نکہ اس وقت پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم نہیں ہو ئی تھی لہذا دونوں ہی دروازے بر صغیر کے اندر تھے اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی رہنمائی کر تے تھے اور صرف یہی نہیں مغل بادشاہوں نے صرف یہی دو دروازے نہیں بلکہ بر صغیر میں لاتعداد دروازے بنا ئے جن میں سے اس وقت بھارت کے شہر دہلی میں 7دروازے جبکہ لاہور کے اندر 13دروازوں میں سے اکثر و بیشتر اب بھی موجود ہیں جو کہ اس وقت کے اعلی فن تعمیر کی مثال پیش کر تے ہیں اس سلسلے میں اگر دہلی کو لیا جا ئے تو وہاں ماضی میں انڈیا گیٹ بنا یا گیا جس کی نا صرف مر مت کا کام انگریزوں نے انجام دیا بلکہ اس گیٹ پر جنگ عظیم اول ،دوئم اور افغان جنگ میں ہلا ک ہو نے والے 82ہزار سپاہیوں کے نام بھی کنندہ کر وائے ہلاک ہو نے والے ان سپاہیوں میں 13ہزار امریکی فو جی بھی شامل تھے اسی گیٹ پر 1971میں جنگ کے دوران شہید ہو نے والوں کے لئے ایک خصوصی آگ کا الائو رو شن کیا گیا جو کہ ہمیشہ روشن رہتا ہے جبکہ دہلی میں ہی کشمیر کی طرف جا نے والے راستے کی رہنمائی کے لئے کشمیری گیٹ تعمیر کیا گیا تھا جسے 1857میں ہو نے والی جنگ میں شدید نقصان پہنچا تھا اسی طرح دہلی میں ہی خونی دروازہ جسے لال دروازہ ،کابلی دروازہ بھی کہا جا تا ہے کے با رے میں یہ کہا جا تا ہے کہ اسی مقام پر انگریزوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دو بیٹے اور ایک پوتے کو قتل کیا تھا جبکہ اس گیٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا جا تا ہے کہ مغل بادشاہ اورنگریزیب نے اپنے بھا ئی کی گر دن کاٹ کر اس کی گر دن اسی جگہ پر لٹکائی تھی۔

ٹھیک انہیں دروازوں کی طرح دہلی میں اجمیری گیٹ بھی موجود ہے جس کے بارے میں بھی یہ مشہور ہے کہ راستہ راجھستان اور اجمیر شریف کی طرف جا تا ہے اور 1857کی جنگ آزادی کا آغاز اسی مقام سے ہوا تھا اس کے علاوہ دہلی میں تر کمان گیٹ اور لاہور گیٹ بھی موجود ہے جس میں سے لاہور گیٹ کے بارے میں لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ راستہ لاہور کے شاہی قلعے کی طرف نکلتا ہے اور اسے 1648میں تعمیر کیا گیا تھا اب جہاں تک پاکستان کے حصے میں آنے والے13 دروازوں کا تعلق ہے تو ان میں بھاٹی گیٹ ،کشمیری گیٹ ،لوہاری گیٹ ،روشنا ئی گیٹ ،شیراں والی ،موچی گیٹ ،ٹیکسالی گیٹ ،اکبری گیٹ ،دہلی گیٹ،موری گیٹ و دیگر شامل ہیں جن میں سے لگ بھگ 7دروازوں میں سے اکثر کے نام و نشان مٹ چکے ہیں مگر 6دروازے اب بھی موجود ہیں جس میں سے دہلی کو جا نے والے راستے پر بنا ئے جا نے والے دہلی گیٹ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور وہ اب بھی درست حالت میں موجود ہے اور لوگ دور دراز سے نا صرف دہلی کی طرف جا نے والے اس راستے کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں بلکہ اس کے اطراف میں قائم بازاروں جہاں قیام پاکستان سے پہلے کی دکا نیں موجود ہیں سے خریداری بھی کرتے ہیں لاہور میں بنا ئے گئے۔

ان دروازوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ پہلے پو را شہر ان داخلی دروازوں کے اندر موجود تھا مگر جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہو تا گیا شہر لاہور ان دروازوں سے با ہر نکل کر دور دراز تک پھیل گیا ہے دہلی گیٹ کے دونوں اطراف میں پرانے طرز تعمیر کی عمارتیں قائم ہیں جہاں با قاعدہ طور پر ایک اسکول بھی قائم ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی شاہی حمام بھی موجود ہے جس کے با رے میں نا صرف علاقے کے بزرگ بلکہ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ دہلی گیٹ ایک شاہی گزر گاہ تھی ماضی میں جب مغل بادشاہوں کی فوج یا شاہی مہمان دہلی گیٹ میں داخل ہو تے تھے تو وہ لاہور میں داخل ہو نے سے قبل مغل بادشاہوں کے بنا ئے گئے اس شاہی حما م میں غسل کر تے تھے اور پھر پوشاک کی تبدیلی کے بعد شہر لاہور میں داخل ہو کر مہمان خانوں کا رخ کر تے تھے گو کہ اب دہلی جا نے والے اس گیٹ پر مغل بادشاہوں کا نہ تو کو ئی اہلکار کھڑا ہے اور نہ ہی ان بادشاہوں کی طرف سے لوگوں پر کسی قسم کی کو ئی پا بندی عائد ہو تی ہے لیکن اس دروازے کو دیکھنے کے لئے ملک بھر سے آنے والے لوگ آج بھی ان بادشاہوںکے جاہو جلال کو یاد کر تے نظر آتے ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور شہر جہاں آج کچھ دروازے مغل بادشاہوں کے یادگار کے طور پر اب بھی موجود ہیں ان کی دیکھ بھال کی جا نب مکمل تو جہ دی جا ئے تا کہ وہ تاریخ کے اوراخ پریادوں کی صورت میں اسی طرح جگمگا تے رہیں۔

(146 بار دیکھا گیا)

تبصرے