Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مر یم سے فون برآمد ہونے کا معاملہ ”دبا“دیا گیا

قومی نیوز هفته 05 اکتوبر 2019
مر یم سے فون برآمد ہونے کا معاملہ ”دبا“دیا گیا

لاہور (ما نیٹرنگ ڈیسک ) کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز سے موبائل فون کی برآمدگی کے معاملہ میں جیل سپر نٹنڈنٹ اور متعلقہ سہولت کار وارڈر کیخلاف تاحال کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز شریف کو چند روز قبل مبینہ طور پر موبائل فون کی سہولت دینے والے جیل اہلکار کیخلاف محکمہ خاموشی اختیار کر گیا۔

مریم نواز پارٹی عہدے کے لیےاہل قرار

سیکیورٹی اداروں کی رات کے وقت کی گئی جیل میں کارروائی میں مریم نواز شریف کی بیرک سے مبینہ فون برآمد ہونے پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے چھاپہ مارنے والے افسروں سے موقع پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی جبکہ اس وقت فون کے اصل مالک جیل وارڈر کو تفتیش کیلئے بھی لیجایا گیا جس نے سہولت کار ہونے کا اعتراف بھی کیا۔

محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل بھی سپرنٹنڈنٹ کی لاپروائی پر بے بس دکھائی دیئے۔ ذرائع کا کہنا ہے جیل میں عملے کی ملی بھگت سے جیمرز بھی” لو “فریکوئنسی پر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر کی مبینہ ملی بھگت سے نیب کے ملزموں بالخصوص مریم نواز شریف کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے موبائل فون کی مبینہ سہولت فراہم کی گئی۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے موبائل فون کے حوالے سے مریم نواز کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے عہدیداروں ، غیر ملکیوں سے رابطے کی مبینہ الزام بازی کا سلسلہ جاری ہے۔

مریم نواز کیخلاف بھی منی لانڈرنگ کی تحقیقات

ذرائع کا کہنا ہے آئی جی جیل خانہ جات کے پاس اپنے محکمے میں کسی بھی ایسے واقعہ پر فوری کارروائی کے اختیارات ہی نہیں۔

سپرنٹنڈنٹ جیل کیخلاف قانونی طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ ہی کسی بھی انکوائری پر عملدرآمد کرتے ہوئے کارروائی کرنے سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب سے منظوری کا پابند ہے۔

کوٹ لکھپت جیل حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے غلطی انسان سے ہو جاتی ہے ،سزا جزا کے عمل کا تعین اعلیٰ افسر کرتے ہیں۔

(1057 بار دیکھا گیا)

تبصرے