Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آرایس ایس نے گاندھی کو بھی نہ چھوڑا ، راکھ چوری کرلی

قومی نیوز جمعه 04 اکتوبر 2019
آرایس ایس نے گاندھی کو بھی نہ چھوڑا ، راکھ چوری کرلی

دہلی (ویب ڈیسک)انڈیا میں مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ پر ان کی یادگار سے ان کی راکھ چرا لی گئی ہے جبکہ یادگار میں آویزاں ان کی ایک تصویر کو مسخ کر دیا گیا ہے۔

سنہ 1948 میں گاندھی کے قتل کے بعد سے ان کی راکھ اس یادگار میں محفوظ تھی جو وسطی انڈیا میں تعمیر کیا گئی تھی۔انتہا پسند ہندو گاندھی کو ان کے ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے حق میں ہونے کی وجہ سے غدار تصور کرتے ہیں۔

کراچی کی اہم شاہراہوں پر نصب مجسمے کہاں گئے؟

مہاتما گاندھی کے خلاف یہ جذبات ان کے ہندو ہونے کے باوجود پائے جاتے ہیں۔انڈیا کی ریاست مدھہ پردیش کے قصبے راوا کی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ چوری کی ایک واردات کی تفتیش کر رہے ہیں جس سے قومی یکجہتی اور امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

باپو بھون یادگار کے منتظم منگلدیپ تیواری نے کہا ہے جہاں یہ راکھ رکھی گئی تھی وہاں چوری کی واردات بہت شرمناک ہے۔

انھوں نے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ انھوں نے گاندھی کی سالگرہ کے موقعے پر صبح سویرے یادگار کا گیٹ کھولا۔ ’میں جب گیارہ بجے رات کو واپس آیا تو وہاں محفوظ گاندھی کی راکھ غاب تھی اور ان کے پوسٹر کو مسخ کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے کانگریس کے ایک مقامی رہنما گرمیت سنگھ کی شکایت پر رپورٹ درج کر لی ہے۔گرمیت سنگھ کا کہنا تھا یہ ’پاگل پن‘ بند ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ راوا کی پولیس سے کہیں گے کہ وہ باپو بھون میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا معائنہ کریں۔مہاتما گاندھی نے برطانوی نوآبادتی حکمرانوں کے خلاف عدم تشدد پر مبنی تحریک کی قیادت کی جس سے پوری دنیا میں آزادی کے لیے چلنے والی تحریکوں کو بھی حوصلہ ملا۔

ٹرمپ مودی کا مذاق اڑاتے ہیں؟ بھارتی میڈیا کوسمجھ آگئی

انڈیا کی اکثریت آج بھی مہاتما گاندھی کو بابے قوم کا درجہ دیتی ہے۔لیکن انتہا پسند کٹر ہندو گاندھی پر ہندو قوم سے دھوکہ کرنے اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور ہندوستان کی تقسیم اور اس دوران ہونے والے خون ریز فسادات کا ذمہ دار بھی قرار دیتی ہے۔

انھوں نے انتہا پسند ہندو نتھو رام گوڈسے نے جنوری سنہ 1948 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔گاندھی کے قتل کے بعد ان کی راکھ کو ہندو عقائد کے برعکس دریا میں بہایا نہیں گیا تھا بلکہ اس کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ان کی راکھ کو ملک کے مختلف حصوں میں قائم مختلف یادگاروں میں بھیجا گیا جن میں باپو بھون بھی شامل ہے۔

(1176 بار دیکھا گیا)

تبصرے