Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 11 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

انڈیا اورپاکستان کی سوشل میڈیا پرلڑائی

قومی نیوز بدھ 25  ستمبر 2019
انڈیا اورپاکستان کی سوشل میڈیا پرلڑائی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)بی بی سی کے مطابق کیا انڈیا کے وزیر اعظم کے جلسے میں جانا پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں گرمجوشی دکھانے سے زیادہ بڑی بات ہے

یہ وہ موضوع ہے جس پر، جنوبی ایشیا کے بہت سے لوگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد بحث کرتے رہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم کے ساتھ امریکی ریاست ٹیکساس میں جلسے میں شرکت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ اس نے انڈیا اور امریکہ میں حملے کرنے والوں کو پناہ دی۔

اس کے ایک ہی دن کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو پاکستان کا ’دوست‘ قرار دیا۔انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ’عظیم لیڈر‘ بھی کہا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بہت سے پاکستانی دوست ہیں اور اس کے علاوہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کے خلاف الزامات کے بارے میں ایک سوال کا براہ راست جواب دینے سے بچتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کا ’نمبر ون‘ دہشت گرد در اصل ایران ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیرمیں50 ہزار مندر کھولنے کا منصوبہ

اس پیشرفت نے یقیناً انڈیا میں سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایک روز قبل ہی ان میں سے بہت سے لوگوں نے صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کی مشترکہ ریلی کو پاکستان کے خلاف ایک اور فتح کے طور پر پیش کیا تھا۔

انڈیا کے بہت سے لوگوں کے سوشل میڈیا اکاو¿نٹس پر عمران خان کے میمز بنائے گئے جن میں وہ بہت مایوس نظر آ رہے تھے اور انہوں ٹیکساس کے جلسے کو پاکستان کے خلاف ایک اور ’سرجیکل سٹرائیک قرار دیا‘۔لیکن عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد صورتحال یقیناً بدل گئی۔

پاکستان میں بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے عمران خان کی تعریف میں میسج لکھنا شروع کر دیے اور انڈیا کے لوگوں کو بھی سخت جواب دیے۔ اس طرح کے ہیش ٹیگ چلنے لگے:انڈیا سے صحافی روہنی سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ ’ہم نے ٹرمپ کے لیے ایک ریلی کی

یہ بھی پڑھیں : پاکستا ن سے کشیدگی نے بھارتی معیشت کوگرا دیا

ان کی پارٹی کے لیے نعرے لگائے، ان کے دوبارہ انتخاب کی حمایت کی، ڈیموکریٹس کو ناراض کیا، کیایہ صرف اس لیے تھا کہ وہ عمران خان اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی تعریف کرے؟انڈین صحافی ایم صدیقی نے ٹویٹ کیا کہ صدر ٹرمپ ’واضح طور انڈیا اور پاکستان سے وہی بات کر رہے تھے جو وہ سننا چاہتے تھے اور ان کی گفتگو کا اصل مرکز افغانستان میں امریکی فوجی اور مفاد تھا۔

انڈیا کے ایک اور صحافی شیکھر گپتا نے ’ٹرمپ وہی کر رہے تھے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ انڈیا سے تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں اور پاکستان سے افغانستان میں مدد۔ اور وہ نوبل انعام بھی چاہتے ہیں۔ انہیں ان دونوں ملکوں کی یا ان کے رہنماو¿ں کی پرواہ نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں بازی انڈیا/مودی کے نام ہی ہو گی۔

(1059 بار دیکھا گیا)

تبصرے