Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

50لاکھ روپے کاسندھ اسمبلی اجلاس ٹافی پربحث کرتا رہا

قومی نیوز بدھ 18  ستمبر 2019
50لاکھ روپے کاسندھ اسمبلی اجلاس ٹافی پربحث کرتا رہا

کراچی (قومی اخبارنیوز)سندھ اسمبلی کے 50لاکھ روپے کے یومیہ اجلاس میں ٹافی کھانے نہ کھانے پربحث،پرائیوٹ ممبر ڈے پر حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ،ہنگامہ آ رائی ، صرف ایک سوال پر 45منٹ صرف، ایوان کی کارروائی بمشکل وقفہ سوالات تک جاری رہ سکی

پرائیوٹ ممبر ڈے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آ رائی کی نذر ہوگیا،شورشرابے اور ہلڑ بازی کے دوران ایوان کی کارروائی بمشکل وقفہ سوالات تک ہی جاری رہ سکی

نصرت سحرعباسی نے کہا کہ امتیاز شیخ ایوان میں بیٹھ کر ٹافیاں کھاتے ہیں۔اس پر امتیاز شیخ نے جواب دیا کہ ان کے پاس کچھ پوچھنے کو نہیں بس بہانے تلاش کرتی ہیں۔یہ جواب سن کر نصرت سحر عباسی نے بے ساختہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ”اوئی اللہ اتنا جھوٹ ! ریپر سمیت ٹافی کھاگئے۔“

نصرت سحر عباسی نے پھر اسپیکر سے مخاطب ہوکراستفسا کیا کہ ” سر ایوان میں کھانے پینے کی اجازت ہے کیا؟“اسپیکر آغا سراج درانی نے جواب دیا یہاں ایوان میں چھالیہ، سپاری، گٹکا، ٹافی کھانا منع ہے۔ کوئی لالی پاپ کھائے یا چاکلیٹ باہر جاکر کھائے۔

یہ بھی پڑھیں : مریم نواز پارٹی عہدے کے لیےاہل قرار

لاڑکانہ، میڈیکل کی طالبہ کی خود کشی قتل قرار

نصرت سحر عباسی نے اپنی بات کو پھر دہراتے ہوئے کہا ”اللہ یہ تو ریپر سمیت ٹافی کھاگئے ان کو اللہ دیکھے گا وہاں تو جواب دیں گے جھوٹ بول رہے ہیں۔اس پر امتیاز شیخ نے کہا آپ ایک سوال کریں اوربیٹھیں۔

نصرت سحر نے کہااسپیکر کو مخاطب کرکے کہا میں انکے کہنے پر نہیں بیٹھوں گی آپکے کہنے پر بیٹھوں گی۔آغا سراج درانی نے کہا اچھا میرے کہنے پر بیٹھیں آخر آپ دونوں کا پرانا تعلق ہے ،دونوں فنکشنل لیگ میں رہے ہیں۔

امتیاز شیخ نے جواب دیا سر پرانا تعلق ہے میرے کہنے پر کیسے نہیں بیٹھیں گی۔ اس مکالمے سے ایوان کشت زعفران بن گیا اور ہال میں قہقہے گونجتے رہے فریقین نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی مجبوراً اسپیکر آغا سراج درانی نے اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو کارروائی کے آ غاز ہی میں حکومت واپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک اور جملے بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا،اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کوئی بات کرنا چاہتے تھے جب انہیں موقع نہیں دیا گیاتو اپوزیشن ارکان نے اس پراحتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ کیا

قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے خبردار کیا کہ اس رویہ کے خلاف میں انٹرنیشنل پارلیمنٹری یونین میں جاﺅنگاجس پروزیرپارلیمانی امور مکیش کمارچاﺅلہ نے کہا کہ ہمیں دھمکیاںنہ دیں جہاں جاناہے چلے جائیں۔

انہوں نے اپوزیشن ارکان کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان چلانا نہیں چاہتے اوراسپیکر کو ڈکٹیٹ کرنے کا طریقہ بند کیاجائے۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ حکومت اپنا رویہ درست کرے،ایوان کی کاروائی کے دوران جب محکمہ توانائی سے متعلق وقفہ سوالات شروع ہوا اس وقت بھی اپوزیشن ارکان وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ کے ساتھ الجھتے رہے۔

(1167 بار دیکھا گیا)

تبصرے