Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سولجر بازار کا1500سالہ مندر ۔۔دو ہفتے بعد

تحریر: مختار احمد منگل 17  ستمبر 2019
سولجر بازار کا1500سالہ مندر ۔۔دو ہفتے بعد

دو ہفتے قبل قومی بلاگ نے سولجر بازار میں 1500سالہ قدیم مندر کے بلاگ کے بعد وہاں ہو نے والی کھدائی میں دریافت ہو نے والے نوادرات کے حوالے سے اپنے دوسرے بلاگ میں اپنی سبقت برقرار رکھی اور کھدائی کے دوران دریافت ہو نے والے نوادرات کے بارے میں انکشاف کیا اور ماہرین آثار قدیمہ کے تجربات کی روشنی میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ مندر اور اس سے دریافت ہو نے والے نوادرات ڈھائی سو سے 300سال پرانے ہیں۔

اس انکشاف کے بعد محکمہ نوادرات جو کہ مندر کے ہیرٹیج میں شامل ہو نے کے با وجود گھوڑے بیج کر سورہا تھا اچا نک سے خواب غفلت سے بیدار ہو گیا اور محکمے کے ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرونے محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شاہ بخاری کی سر برا ہی میں ایک 2رکنی کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے اسی دن مندر کا دورہ کرتے ہو ئے چند گھنٹوں نوادرات پر تحقیق کی اور اپنی رپورٹ میں یہ لکھ کر کہ مندر اور اس میں کھدائی کے دوران ملنے والے نوادرات ڈھائی سو سے 300سال سے زیادہ پرانے نہیں تیار کر کے ڈی جی ثقافت و نوادرات کے ٹیبل پررکھ دی جس پر محکمے میں ماہرین آثار قدیمہ جن کی اکثر یت اب ریٹائر ہو چکی ہے کی کمی کے سبب مندر کی قدامت کے حوالے سے کوئی با ضابطہ اعلان نہیں کیا جا سکا

یہ بھی پڑھیں : 1500 سال قدیم مندر،ماہرین آثار قدیمہ کی دوڑیں

بلاگرنے اپنے طور پر مندر اوردریافت ہو نے والی نوادرات کا خود ہی کھوج لگا نے کا فیصلہ کیا اور بڑی عرق ریزی کے ساتھ محکمے سے ریٹائر ہو جا نے والے ماہرین آثار قدیمہ قاسم علی قاسم اور مندروں کی تحقیق پر خصوصی مہارت رکھنے والے حاضر آفیسر اعجاز الہیٰ کے وسیع تجر بات کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے ازخود ایک رپورٹ تیار کی ہے جو کہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کراچی جس کے قیام کو ابھی 289سال گزرے ہیں منوڑہ پر محض ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے باہر سرے سے آبادی نام کی کو ئی چیز نہیں تھی لہذااس مندر جس کے بارے میں اس بات کا دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ 1500سال پرانا ہے کسی طور پر درست نہےں تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سولجر بازار کا علاقہ در اصل بر طانوی فوج کے 1839میں کراچی پر قبضے کے کئی سال بعدآباد ہوا اور بر طانوی افواج نے اپنے افسران اور سپاہیوں کے لئے شہر کراچی کی اس آخری حد میں ان کی رہائش کے لئے بیرکیں بنائیں جبکہ ان کی عبادات کے لئے سینٹ لارنس چرچ 1931میں تعمیر کیا اور تقریبا پورے علاقے جہاں با قاعدہ طور پرایک ٹاﺅن شپ بھی بنا ئی گئی تھی انگریز فو جیوں کی اکثر یت آباد تھی جبکہ ہندو برادری کے لوگ انتہا ئی کم تعداد میں وہاں موجود تھے جس سے مندر کی قدامت کی نفی ہو تی ہے

بلاگر کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس مندر کی جگہ پہلے ایک چھوٹا سا شنکر مندر تھا جس کی جگہ 1827 میں اس مندر کی تعمیر کی گئی جس کی با قاعدہ طور پر تختی موجود تھی مگر اسے مندر کی قدامت زیادہ ظاہر کر نے کے لئے غائب کر دیا گیا تھا تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس مندر کی متعدد بار تزین و آرائش کی جاتی رہی اور سب سے آخر میں اس کی تزین و آرائش 1926میں بجاج گروپ آف کمپنیز جو کہ اس وقت بھارت کی ایک بڑی سر مایہ دار کمپنی ہے اور اس کی 37 سے زائد کمپنیاں جن میں آٹو مو بائل ،الیکٹریکل و دوسری کمپنیاں موجود ہیں نے کرائی تھی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مندر جو کہ پلاٹ نمبر 5اور اس وقت کے چوہٹ رام روڈ پر موجود تھا کی زمین ماضی میں 99سال کے پٹے پر حاصل کی گئی تھی کی معیاد 1963کو ختم ہو چکی ہے کے بعد مندر انتظامیہ نے سرے سے اس کی تجدید نہیں کرائی

یہ بھی پڑھیں : کراچی کا تا ریخی ویٹر نری اسپتال

اس مندر کے ساتھ ہی مہتاب کا لونی اور روشن کا لونی عرصہ 60سال سے آباد تھی اور با قاعدہ طور پرنا صرف لیز شدہ آبادی تھی بلکہ یہاں رہنے والوں کے حق میں ڈسٹرک کورٹ،سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ فیصلہ دے چکی تھی مگر اس کے با وجود سپریم کورٹ کے اس حکم نا مے جس میں اس نے کہا تھا کہ فوری طور پرشہر کے پارکوں اور اقلیتوں کی زمین پر قائم تجاوزات کا خاتمہ کیا جا ئے کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے اسسٹنٹ کمشنر جمشید کوارٹر نے 3دسمبر2018کو وہاں رہائش پذیر عزیز الرحمن ،دیو انند ،رمیش ،راجو ،مالا ،اعجاز ،عبدالغفار ،وزیر بیگم ،محمد علی اور سردار احمد کو تجاوزات کے خاتمے کے لئے نوٹس جا ری کیا گیا اور پھر کچھ ہی مہینوں بعد اچا نک ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا اور ملبے کو ٹھکا نے لگا نے کے بعد اچانک محمد علی کے مکان کے نیچے سے ہنو مان جی ،درگاما تا،شیو لنگ ،استھیوں کی چند2فٹ کی گہر ئی سے برآمدگی دکھا ئی گئی جس کے حوالے سے نا صرف وہاں رہائش پذیر خاندانوں نے غلط قرار دیا بلکہ اس حوالے سے ماہرین آثار قدیمہ بھی یہ کہتے ہیں کہ آرکیا لو جی کی دنیا میں زمین کی 40پرتھیں ہو تی ہیں اور کبھی بھی اوپر کی پرتھوں سے نوادرات دریافت نہیں ہو تے لہذا دریافت ہو نے والے نوادرات ایک منصوبہ بندی کے تحت زمین میں دبائے گئے ہو نگے

ماہرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ مندر کے احاطے جہاں لوگوں کے 60 سال پرانے پختہ مکا نات موجود تھے انہوں نے ان مکا نات کی تعمیر کے وقت کھدائی کی ہو گی مگر اس وقت ان نوادرات کا نہ ملنا اور بعد میں اچانک بر آمد گی دکھا یا جا نا تعجب خیز ہے ماہرین کے مطا بق محکمہ آثار قدیمہ صرف ان نوادرات کو درست تسلیم کر تی ہے جوکہ آثار قدیمہ کے ماہرین کی نگرا نی میں دریافت کئے جا ئیں اور اگر کو ئی اپنے طور پر آثار قدیمہ کو دریافت کر نے کی کوشش کرے تو اس صورت میں اینٹی کوٹیک کے قوانین کے تحت اسے سزا بھی دی جا سکتی ہے ایکسپریس کے بلاگر کی اس تحقیق کے بعد اب یہ بات ضروری ہو چکی ہے کہ محکمہ نوادرات ماہرین آثار قدیمہ کی نگرا نی میں مندر اور نوادرات پر تحقیق کروائے تا کہ شہر کراچی کی تاریخ مسخ ہو نے سے بچ سکے۔

(319 بار دیکھا گیا)

تبصرے