Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کودوسرا دارالحکومت بنانیکی تجویز

قومی نیوز جمعه 13  ستمبر 2019
کراچی کودوسرا دارالحکومت بنانیکی تجویز

لاہور (قومی اخبارنیوز) دنیا میں متعدد ممالک کے دو یا اس سے زائد دارالحکومت ہیں اگر کراچی کو پاکستان کا دوسرا دارالحکومت بنا دیا جائے تو کیسا رہےگا۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کا یہ مشاہدہ کہ قلت آب کا شکار کراچی کو آ ئین کے آ رٹیکل۔149(4) کو فعال کرتے ہوئے علیحدہ انتظامی اکائی بنا دیا جائے۔ لیکن اس پر ملک کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کراچی کو دوسرا دارالحکومت قرار دینے کے لئے وفاقی حکومت ایک تجویز پر غور کررہی ہے جس سے سندھودیش سمیت کئی نعرے ختم ہوجائیں گے ،کراچی کے نام پر سیاست کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اورکراچی کے مسائل کا بآسانی حل بھی تلاش کیا جاسکتاہے ۔

149(4) پر ردعمل کے پیش نظر فروغ نسیم اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ آرٹیکل 149(4)کا متبادل بھی موجود ہے ادھر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ پیر پگارا بھی کراچی کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حبس اورگرمی دوروز برقراررہے گی

بدانتظامی اور نااہلی کا شکار کراچی اس وقت غلاظت اور کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ نکاسی آ ب کے ناقص نظام سے صحت و صفائی کے سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جن پر سفر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ بجلی کے ننگے تار انسانی جانوں کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

گزشتہ بارشوں میں 31 سے زائد افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے، بے قابو فضائی آ لودگی نے ماحولیاتی مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ 1985ءکے بعد سے اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق کراچی 2030ءتک د±نیا کا تیسرا گنجان آ باد شہر بن جائے گا، لیکن شہر کا انفرا اسٹرکچر بیٹھ گیا ہے، شہری سہولتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔

کراچی میں پہلی حکومت کا قیام 1846ءمیں عمل میں آ یا تھا جب شہر میں ہیضے کی وباءپھوٹ پڑی تھی۔ اس وقت کے گورننگ بورڈ کو 1852ءمیں میونسپل کمیشن میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ 1933ءمیں کراچی میونسپل ایکٹ کے تحت میئر، ڈپٹی میئر اور 57 کونسلرز منتخب کئے گئے۔ 1948ءمیں کراچی فیڈرل کیپٹل ٹیریٹوری قرار پایا۔

یہ بھی پڑھیں : محکمہ اینٹی کرپشن بھی نیب کے” نشانے “ پر

1961ء میں اسے ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ 1976ءمیں کراچی کی میونسپل کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن میں تبدیل کر دی گئی جس کے تحت زونل میونسپل کمیٹیوں کا قیام عمل میں آ یا جو 1994ءتک قائم رہیں۔ اس کے دو سال بعد کراچی کو 5 اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا۔ پھر 2001ءمیں پانچوں ضلعی میونسپل کمیٹیوں کو ضم کردیا گیا۔

2011ءمیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ختم کر کے ایسٹ، ویسٹ، سنٹرل، ساﺅتھ اور ملیر بحال کر دیئے گئے۔ شہر میں 6 کنٹونمنٹ ایریاز کا انتظام پاک آرمی کے پاس ہے۔ 1729ءمیں قلعہ بند کولاچی کے قیام کے بعد اس شہر کی وسعت 3530 مربع کلومیٹرز ہوگئی ہے۔ 2018ءمیں ایک جرمن تحقیقاتی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال میں کراچی کا دنیا میں دوسرا نمبر ہے۔ پاکستان میں مصنوعات سازی کا 30 فیصد کراچی میں ہے۔

جن ممالک کے دو دارالحکومت ہیں ان میں جنوبی افریقا (بلوم فاﺅنٹین، کیپ ٹاﺅن، پریٹوریا)، نیدرلینڈ (ایمسٹرڈم، دی ہیگ)، جنوبی کوریا (سی جونگ سٹی، سیول)، سری لنکا (کولمبو، کوٹے)، تنزانیہ (دارالسلام، ڈوڈوما)، چلی (سانتیاگو، والپریسو)، ملائیشیا (کوالالمپور، پتراجایا) کے علاوہ جارجیا، بولیویا، آ ئیوری کوسٹ، مغربی سہارا، سوازی لینڈ، روس، جرمنی، ہنڈراس اور مونٹی نیگرو کے بھی دو، دو دارالحکومت ہیں۔

(306 بار دیکھا گیا)

تبصرے