Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کشمیریوں کا اسکول، دکانیں کھولنے سے انکار

قومی نیوز جمعه 06  ستمبر 2019
کشمیریوں کا اسکول، دکانیں کھولنے سے انکار

سرینگر(قومی اخبار نیوز)مقبوضہ وادی میں کشمیری بھارت کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے کاروبار بندجبکہ ملازمین احتجاجا دفاتر بھی نہیں جارہے ،اسکولوں میں حاضری نہ ہونے کے برابرہے،دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کشمیر کو بولنے دو“مہم کا آ غاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80 لاکھ زندگیاں داﺅ پر لگی ہیں اور نیا کشمیر کشمیریوں کے بغیر تعمیر نہیں ہوسکتا۔

بھارتی فوجی احتجاجا دکانیں بند رکھنے والے کاروباری افراد پر دکانیں کھولنے کیلئے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے لاک ڈاﺅن ہے اور ہزاروں اضافی بھارتی فوجی بھی تعینات ہیں،مقبوضہ وادی میں تحریکوں پر پابندیاں ہیں جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے،اس کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو قید کیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر میں بھارتی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ دن کے اوقات میں 90 فیصد وادی میں معمولات زندگی بحال ہیں،اس کے علاوہ کچھ لینڈ لائن فون کنکشنز بھی بحال کردیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں اسکول بھی دوبارہ کھل گئے ہیں،اس جزوی صورتحال کے باوجود طلبا کلاسوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں

دکاندار بھی اپنی دکانیں نہیں کھول رہے جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین بھی اپنے کاموں پر نہیں لوٹے،مقبوضہ وادی میں سرکاری ملازمین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وادی میں بھارتی اقدام کیخلاف وہ احتجاج کررہے ہیں،ایک دکاندار کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ہمارا تشخص داﺅ پر لگا ہے اور اس کا تحفظ ہماری ترجیح ہے۔اس اقدام کو واپس لیا جائے تو ہی ہم اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرینگے

یہ بھی پڑھیں:

پاکستان نے اپاچی ہیلی کاپٹر کا بھی توڑ نکال لیا

آخری گولی ،آخری سپاہی، کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، آرمی چیف

ایک طرف سول نافرمانی کی جارہی ہے تو اس کے ساتھ ہی باقاعدگی سے بھارتی اقدام کیخلاف مظاہروں میں بھارتی فورسز کی آ نسو گیس شیلنگ اور پیلٹ گنز کے استعمال کا جواب پتھراﺅ سے دیا جاتا ہے۔اس سے قبل مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کیخلاف باقاعدہ شٹ ڈاﺅن اور مظاہروں کی کال دی جاتی تھی لیکن اس بار تین سابق وزرا اعلی سمیت حریت رہنما اور سینکڑوں سول سوسائٹی رہنماﺅں کو قید کرلیا گیاہے۔

سرینگر بھر میں لگائے جانے والے پوسٹرز میں دکانداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف علی الصبح یا شام کے آ خری حصے میں دکانیں کھولیں تاکہ وادی کے لوگ روزمرہ اشیا کی خریداری کرسکیں۔اس کے سرینگر کے علاوہ کمرشل علاقوں میں دکانوں کی اکثریت مستقل بند ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے دکانداروں سے کاروبار کھولنے کیلئے کہا ہے لیکن تمام دکانداروں نے اپنی دکانیں کھولنے سے صاف انکار کیا ہے۔دکاندار محمد ایوب نے کہا کہ بھارتی فوجی نے ہمیں پورا دن دکان کھلی رکھنے کیلئے دباﺅ ڈالا ہے اور شام میں دکان کھولنے سے منع کیا ہے لیکن ہم صرف شام کو ہی اپنی دکان کھولتے ہیں

اسی طرح سرینگر کے کچھ دفاتر میں حاضری 50 فیصد اور اس سے بھی کم ہے،دوسری جانب دیگر دفاتر میں تو حاضری انتہائی کم نظر آ تی ہے۔اسٹیٹ ہاﺅسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے محکمے میں 300 کے اسٹاف میں سے صرف 30 ملازم ہی دفتر آ ئے۔

سرینگر میں والد جاوید احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے بچوں کو کیسے اسکول بھیجوں؟وادی میں لاک ڈاﺅن ہے اور ہمیں بچوں کا تحفظ عزیز ہے۔کانسل کا کہنا ہے کہ وادی میں 4000 اسکول کام کررہے ہیں اور حاضری میں بہتری آ رہی ہے۔تاہم کچھ علاقوں میں حاضری کم بھی ہے۔دوسری جانب شٹ ڈاﺅن اور پابندیوں نے وادی کے تمام علاقوں میں اثر ڈالا ہے۔

(892 بار دیکھا گیا)

تبصرے