Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 22 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت کو ایک اورجھٹکا،کلبھوشن جاسوسی کے اعتراف پر قائم

قومی نیوز بدھ 04  ستمبر 2019
بھارت کو ایک اورجھٹکا،کلبھوشن جاسوسی کے اعتراف پر قائم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اپنے جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ وہ انتہائی دبائو کا شکار ہے اسی لیے اس نے طوطے کی طرح وہ بیان دیا جو پاکستان کے دعوﺅں کو تقویت بخشے۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں رویش کمار نے کہاکہ کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے کا پاکستان پابند تھا کیوں کہ عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں ایسا کرنے کو کہا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کلبھوشن کو پاکستان کی جانب سے قونصلر رسائی دی گئی تھی، کلبھوشن یادیو کی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کروائی گئی تھی جس میں کلبھوشن یادیو نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے سامنے کہا کہ میں بھارتی جاسوس اور بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر ہوں

یہ بھی پڑھیں :

پاکستان نے شکست دیدی، بھارتی آ رمی چیف کا اعتراف

مقبوضہ کشمیر، ڈی جی آئی ایس پی آرکے پوسٹرز،بھارت میں کھلبلی

مقبوضہ کشمیر کے بعدآسام کا نمبر آگیا

بھارتی ناظم الامورکے سامنے کلبھوشن متعدد باردیئے گئے بیان پر ڈٹ گیا۔اسلام آ باد سے مصدقہ سفارتی ذرائع سے حاصل ہونیوالی تفصیلات کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو گزشتہ روز قونصلر رسائی میں بھارتی ناظم الامور سے ملاقات کے دوران متعددبار دیئے گئے اپنے بیانات پر ڈٹ گیا اور اعتراف کیا کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر ہے اور پاکستان میں ”را“ کیلئے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا رہا ہے

مذکورہ ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو آ ہلو والیا کیلئے یہ صورتحال غیر متوقع تھی چونکہ انہیں اس بات کا بھی علم تھا کہ اس ملاقات کی مکمل ریکارڈنگ ہو رہی ہے جس کیلئے پاکستانی حکام نے انہیں پہلے ہی آ گاہ کر دیا تھا تاہم انہوں نے اس مرحلے پر کلبھوشن یادیو کو ان اقدامات سے آ گاہ کرنا شروع کردیا جو بھارتی حکومت انکی رہائی کیلئے کر رہی ہے

یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ان اقدامات کے نتیجے میں جلد ہی وہ اپنے وطن میں اپنے اہلخانہ کیساتھ ہونگے ، گورو آ ہلو والیا نے کلبھوشن کو موقف بدلنے پر آ مادہ کرنے کیلئے بعض ترغیباتی جملے کہے اور یہ بھی کہاکہ بھارتی سرکار مکمل طور پر آ پکے پیچھے کھڑی ہے۔

(773 بار دیکھا گیا)

تبصرے