Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لیاری ہپ ہاپ میوزک کا گڑھ بن گیا

قومی نیوز جمعه 30  اگست 2019
لیاری ہپ ہاپ میوزک کا گڑھ بن گیا

کراچی (قومی اخبارنیوز) کوئی وقت تھا جب کراچی کے علاقے لیاری کو گینگ وار اور شدید غربت کی وجہ سے پاکستان کا انتہائی خطرناک علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ان مایوس کن حالات کے درمیان فنکاروں کی ایک ایسی نسل بھی پیدا ہوئی ہے جن کی وجہ سے علاقے کو ہپ ہاپ میوزک کا گڑھ سمجھا جانے لگا ہے۔

سمندر سے قربت اور علاقے سے وابستہ اسمگلنگ کی تاریخ کے باعث یہاں مقیم بلوچ کمیونٹی پرتشدد واقعات اور لاقانونیت کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔

سوویت یونین کیخلاف افغان جہاد کے دوران کراچی کو ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، اور یہ لیاری کا علاقہ تھا جو اسلحہ، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ اور ان کے ساتھ جڑے بہیمانہ واقعات اور بلیک مارکیٹنگ کے کاروبار کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : سوشل میڈیا کی ”ہٹ لسٹ“پرآنیوالی اداکارائیں

بھاری اسلحہ سے لیس گینگز اور سیاسی جماعتوں کے قاتل اسکواڈز لیاری کے ایک بڑے حصے پر قابض تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علاقے میں معاشی ترقی نام کی چیز نہیں تھی جبکہ مقامی افراد ان مسائل کے سنگین نتائج کو بھگت رہے تھے جن میں غربت اور منشیات کا بھرپور استعمال شامل تھا۔

ہپ ہاپ نغمے گانے والے ایک مقامی شخص محمد عمر کا کہنا تھا کہ گینگ وار کی وجہ سے لیاری بدنام علاقہ بن چکا تھا جبکہ علاقے سے باہر کے لوگوں یہاں داخل ہونے کا سوچنا بھی محال تھا۔ لیکن حالیہ برسوں میں پیرا ملٹری فورسز کے آ پریشنز کی وجہ سے ا±ن گینگز پر قابو پا لیا گیا ہے جن کی وجہ سے علاقے کی گلیاں اور سڑکیں کسی دور میں میدانِ جنگ بنی ہوتی تھیں۔

ان لڑائیوں کے دوران یہ گینگز سیکورٹی فورسز کیخلاف بلا خوف و خطر راکٹ لانچر، گرینیڈ اور اسالٹ رائفلیں استعمال کرتے تھے، جس سے نہ صرف تعلیمی ادارے بند رہتے تھے جبکہ بچے بھی کھیل کود سے محروم تھے۔ محمد عمر کہتے ہیں کہ جب فائرنگ ہوتی تھی یا دھماکے ہوتے تھے تو بچے روتے تھے

یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش میں ” کنواری لفظ “ختم

غریب لوگ ان گینگ وارز سے متاثر تھے، ہم ان سب واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ لیکن پرتشدد واقعات ختم ہونے کے بعد اب تخلیقی سرگرمیاں جاری ہیں اور پھل پھول رہی ہیں۔ اب یہاں کی وجہ شہرت پرانا تشدد نہیں بلکہ فٹ بال میچز، باکسنگ کے مقابلے اور اب ہپ ہاپ میوزک بھی ہے۔

لیاری میں ہپ ہاپ میوزک کے آ غاز کو ویسے ہی دیکھا جا سکتا ہے جیسے امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے برونکس میں ہوا تھا۔ گلی محلوں میں میوزک پرفارمنس کے واقعات اور شوز بڑھتے بڑھتے اسے ایک الگ پہچان ہی مل گئی تھی۔

پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد پاپ میوزک، بالی ووڈ کے نغمے اور صوفی میوزک کی مداح ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابتدائی طور پر ہپ ہاپ میوزک کو وہ فروغ اور ترقی نہ ملی جو اسے ملنا چاہئے تھی۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شاہین تھری 12منٹ میں تل ابیب کو تباہ کر سکتا ہے

لیاری کا ہپ ہاپ ٹوپاک شکور سے متاثرہ نظر آ تا ہے جس میں اپنے تجربات کو گیت میں ڈھالا جاتا ہے۔ مقامی پروڈیوسر قمر انور بلوچ کہتے ہیں کہ دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی ہپ ہاپ ہے لیکن وہاں خوبصورت خواتین اور گاڑیوں پر شاعری کی جاتی ہے لیکن لیاری کی بات الگ ہے، ہم یہاں حقیقت پیش کر رہے ہیں۔

یہاں پیدا ہونے والے ہپ ہاپ کی پہلی جھلک 2017ءمیں اس وقت سنائی دی گئی تھی جب لیاری انڈر گراﺅنڈ نامی گروپ نے پہلا گیت ”دی پلیئرز آ ف لیاری“ گایا۔ اس میں بیس کے ساتھ مختلف آ لات کا زبردست امتزاج شامل تھا اور اس میں علاقے کے لوگوں کی فٹ بال کی جانب رغبت کی واضح عکاسی شامل تھی۔

مصنف احمر نقوی کا کہنا ہے کہ پہلی بار یہ بات سامنے آ ئی تھی کہ یہاں کے مزدور طبقے کے بچوں میں زبردست ٹیلنٹ چھپا ہے اور وہ لوگ ایسا میوزک تخلیق کر رہے ہیں جسے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے بھی سنتے ہیں۔

(202 بار دیکھا گیا)

تبصرے