Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارتی فوجی اداروں کی گھبراہٹ بڑھنے لگی

قومی نیوز جمعرات 29  اگست 2019
بھارتی فوجی اداروں کی گھبراہٹ بڑھنے لگی

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں تعینات کٹھ پتلی انتظامیہ کے سینئر حکام نے اعتراف کیا کہ مظاہروں کی بڑھتی شدت کے باعث بھارتی فوجی اداروں کی گھبراہٹ بڑھتی جارہی ہے ،وادی گیر پابندیوں،کرفیو ،لاک ڈائون کے باوجودبھی 500سے زائد مقامات پر بھارت مخالف مظاہرے ہوئے ۔

عہدیدار نے کہاکہ کشمیریوں کا غصہ مسلسل بڑھتا جا رہاہے ،اگر پابندی ہٹائیں تو مظاہروں میں بہت زیادہ شدت آجائے گی۔مقبوضہ وادی میں 24روز بھی احتجاج اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مظاہروں نے نسبتاً پرامن کارگل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،کارگل میں شٹر ڈاﺅن کے باعث نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا،وادی میں پرائمر ی کے بعد زبردستی ہائی سکول کھولنے کا ڈرامہ بھی ناکام ہوگیا،طلبا کے بغیر اسکول کھلے رہے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کاجنگی جنون، بھارتی معیشت کا جنازہ نکل گیا

اے ایف پی نے کٹھ پتلی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایاکہ5اگست سے اب تک کشمیر میں500مختلف مقامات پر بھارت مخالف مظاہرے ہوچکے ہیں،250 سے زائد مظاہرے صرف سرینگر میں ہوئے جہاں ہر گھر کے باہر ایک فوجی تعینات ہے

عہدیدار کے مطابق ان مظاہرین سے نمٹنے کیلئے پولیس نے پیلٹ گنز کا استعمال کیا، جھڑپوں میں 100مظاہرین اور پتھرائو سے پولیس کے 300اور پیرا ملٹری فورسز کے 100 اہلکار زخمی ہوئے ،5ہزار افراد کو گرفتار کیاگیا

کٹھ پتلی عہدیدار نے کہاکہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد مظاہروں میں اس سے کہیں زیادہ شدت آسکتی ہے ،لوگوں کا غصہ اور ناراضی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

حالات معمول پر لانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے گئے لیکن فی الوقت کوئی حربہ بھی کام نہیں کر رہا، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں گھبراہٹ بڑھتی جارہی ہے

یہ بھی پڑھیں : پاکستان سے کشیدگی، لاکھوں بھارتی بیروزگار

انہوں نے کہاکہ وادی بھر میں بلیک آئوٹ کا یہ حال ہے کہ سکیورٹی فورسز کو بھی دیہی علاقوں سے اطلاعات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے

سرینگر میں موجود اے ایف پی کے رپورٹر نے کہا کہ کشمیری بھی بھرپور مزاحمت کے طور پر اپنی روزمرہ زندگی دوبارہ شروع کرنے کو تیار نہیں،حکام نے سکول کھولے مگر بچے نہ آئے ،دکانیں کھولنے کی اجازت دی مگر لوگوں نے دکان نہ کھولی

یہ بھی پڑھیں : بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، وزیراعظم

ایک اور حکومتی عہدیدار نے بتایاکہ5اگست سے اب تک فوج پر پتھرائو کرنیوالے 1350افراد کو گرفتار کیاگیاہے۔

دوسری جانب بی بی سی نے وادی کی صورتحال سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ لوگوں میں اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت ہے ، اب حکومت کے لیے مسئلہ بنتا جا رہا ہے کہ 3ہفتے گزر جانے کے بعد بھی وادی میں معمولات زندگی بحال نہیں ہو رہے۔

حکومتی سطح پر اس جمود اور تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وادی میں موجود سرینگر کے نمائندے نے بتایا کہ جن علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی جاتی ہے وہاں اب تک دکانیں نہیں کھولی جا رہی ہیں ، کہیں سے بھی ہڑتال کی کوئی کال نہیں ہے لیکن لوگوں نے رضاکارانہ طور پر ساری کاروباری سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔

اسکول کھولنے کا فیصلہ اسی غرض سے کیا گیا تھا تاکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ سے لگے کہ زندگی بحال ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی حاضری بھی خاصی کم رہی ہے۔

(1241 بار دیکھا گیا)

تبصرے