Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سرینگر جنگی علاقے سے مختلف نہیں،بی بی سی

قومی نیوز جمعه 09  اگست 2019
سرینگر جنگی علاقے سے مختلف نہیں،بی بی سی

سرینگر، نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں اس وقت صورتحال سخت کشیدہ ہے۔ بی بی سی کے نمائندے نے وادی کا دورہ کیا اور اس کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سری نگر کسی بھی جنگی علاقے سے مختلف نظر نہیں آتا۔ دکانیں اور بازار بند ہیں، اسکول اور کالج بھی بند ہیں۔

لوگوں نے اپنے گھروں میں راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ تو کیا ہے لیکن اگر مزید کچھ دن دکانیں نہ کھلیں تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیرکی تقسیم کامنصوبہ ساز اجیت ڈووال نکلا

وادی میں ٹیلیفون لائنز، موبائل کنکشن اور انٹرنیٹ براڈ بینڈ کی سہولیات بند کر دی گئی ہیں۔ پوری وادی انڈین سکیورٹی فورسز کے سخت حصار میں ہے۔

ہر طرف خار دار تار لگے ہیں اور پولیس موجود ہے۔جہاں میں تھا وہاں سے بارہ مولا کا راستہ ایک گھنٹے کا ہے مگر اس سفر کے دوران ہمیں دس سے بارہ مرتبہ روکا گیا۔ہمارے شناختی کارڈ چیک کئے گئے اور پوچھ گچھ کی گئی کہ کہاں جارہے ہیں۔ کیوں جارہے ہیں ، پھرجانے دیا گیا۔

وادی میں آ مدورفت بند ہے سوائے چند ایک علاقوں کے جہا ں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تصاویر اور ویڈیو بنانے کی اجازت دی جاتی ہے ورنہ ایسا کرنا ممنوع ہے اور اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ ایک مرتبہ میرا موبائل چیک کیا گیا اور اس میں موجود تصاویر ڈیلیٹ کردی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی فیصلے کا اثر پوری دنیا پر ہوگا، وزیراعظم

کشمیر میں دفعہ 144نافذ ہے اور پولیس کی گاڑیوں سے لگاتار یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ شہر میں کرفیو نافذ ہے اور جہاں دو سے زائد لوگ نظر آ ئینگے ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

لوگوں کے اندر اس وقت غصہ بھرا ہوا ہے۔بارہ مولہ میں ہم نے 20سے 25لوگوں سے بات کی ان میں غصہ تھا جو ہم پر نکل رہا تھا۔لوگوں کا ایک ہی جواب تھا کہ تم لوگ کیا کرو گے ، ہمار ے بتانے سے کیا ہوگا،یہ سب کچھ آ پ کی ہی وجہ سے ہے۔

کوئی شہری ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ ان کے دل میں ڈر ہے کہ اگر وہ ہم سے بات کرینگے تو شاید ان کو گرفتار کرلیا جائیگا۔لوگ ابھی تک سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرینگر کے طالبعل عاصم عباس کا کہنا تھا ہم پتھر کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ نہیں۔

اس کام کے بہت ہی خطرناک نتائج ہوں گے ، جیسا فلسطین میں ہوا جہاں اسرائیل کی آبادیاں بنائی گئیں، ان (انڈیا) کی پالیسی بھی وہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مولانا طارق جمیل کو تمغہ امتیاز سے نوازنے کا فیصلہ

اقبال نامی ٹریول ایجنٹ یہ غنڈہ راج ہے اور کچھ نہیں۔ آپ اس کو ایک لاواسمجھئے ، جو پھٹنے والا ہے۔ یہ کیسے پھٹے گا یہ انڈیا کو نہیں پتہ۔ کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مسلم رہنما کا کہنا تھا تمام کشمیری ایسے صدمے میں ہیں کہ وہ یہ سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔

ایسا لگتا ہے کچھ عرصے بعد لاوا پھٹنے والا ہے۔دکاندار راشد علی کا کہنا تھا پوری وادی کو کھلی جیل بنا دیا گیا ہے۔ ابھی ہر جگہ کرفیو نافذ ہے لہٰذا لوگوں کیلیے گھر چھوڑنا مشکل ہے۔ جب یہ سب ختم ہو جائے گاتو لوگ سڑکوں پر آئیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے معروف صحافی مزمل جلیل نے دہلی پہنچے پر مقبوضہ وادی کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کی صورتحال 1846ءسے بھی بدتر ہے ، جب انگریزوں نے پوری ریاست جموں وکشمیر محض 75لاکھ نانک شاہی(سکہ رائج الوقت) کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو بیچ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا کوپاکستان کا اہم پیغام چلا گیا

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مزمل جلیل نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہاکہ سرینگر فوجیوں اور خاردار تاروں کا شہر بن چکا ہے۔

مزمل جلیل نے انٹرنیٹ پر اپنی کہانی شیئر کرتے ہوئے کہاگزشتہ روز مجھے اپنے گھر یعنی پرے پورہ سے اپنے دفتر ریذیڈنسی روڈ پہنچتے ہوئے 3گھنٹے لگے جبکہ لینڈ لائن ٹیلیفون اورموبائل فون منقطع اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں اور اے ٹی ایمز میں کوئی پیسہ نہیں۔

سڑکوں پر موجود ناکوں اور فورسز اہلکاروں کو صحافیوں کو آگے جانے سے روکنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔

(1257 بار دیکھا گیا)

تبصرے