Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 11 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کبوتر کی پیغام رسانی سے الیکٹرانکس پیغام رسانی تک

مختاراحمد جمعرات 25 جولائی 2019
کبوتر کی پیغام رسانی سے الیکٹرانکس پیغام رسانی تک

خط ،چھٹی بھیجنے یا پیغام رسانی کی تاریخ بھی کچھ عجیب و غریب سی ہے جس کے تحت پہلے خطوط یا پیغام بھیجنے کے لئے پالتو کبوتروں کو باقاعدہ طور پرتربیت دے کر پیغام بھیجنے کے لئے استعمال کیا گیا جس کے تحت وہ نا صرف دور دراز تک اڑان بھر کر پیغام پہنچانے کا کام کرتے تھے اورانہیں صرف گھروں میں پیغام پہنچانے کے لئے ہی نہیں بلکہ میدان جنگ میں پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا جا تا تھااور اس کے بعدپیغام رسانی کے اس سلسلے کو مختلف انداز میں اپنا یا گیا جس کی ایک تفصیلی تاریخ ہے جس سے ہماری نو جوان نسل تو کیا عمر رسیدہ افراد بھی قطعی طور پر ناواقف ہیں

اگر ڈاک کی تاریخ کو دیکھا جا ئے تو اس نظام کا آغاز خود اللہ تعالی نے حضرت آدم سے لے کر اپنے تمام انبیاء کو پیغامات بھیج کر کیایہاں تک کے آخری نبی حضرت محمد ﷺپر پورا قرآن وحی کی صورت میں حضرت جبرائیل کے ذریعے نازل کیا گیا مگر اس وقت پیغام رسانی کا یہ سلسلہ محض ایک سینہ گزٹ تھا لیکن انسان جسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنا یا اس نے وقت کے حساب سے ڈاک کے نظام میں تبدیلیاں پیدا کیںاگر لفظ پوسٹ پرغورکیاجائے تو یہ لفظ پوسٹ فرانسیسی زبان لفظ پوسٹی سے ماخوزہے اب جہاں تک ڈاک کے تاریخ کی بات ہے تو ڈاک کا آغاز 2000 قبل ازمسیح میں ایک چینی بادشاہ نے کیا تھا اس نے گھوڑوں اور خچروںکی مدد سے ڈاک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سے پہنچانے کا کام کیا مگر ڈاک کا مکمل نظام البرید کے نام سے حضرت عمر ؓنے شروع کیا جسے دیگر خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام نے بھی بتدریج آگے بڑھایا پھر اس نظام کوشیر شاہ سوری نے 1540-1545 تک مزید وسعت دی اور سندہ سے بنگال تک ڈاک کا ایک مکمل نظام تشکیل دیا

اس نظام کے تحت تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تازہ دم گھوڑے پڑائو تبدیل کر تے ہوئے خطوط کو اپنے منزل مقصود تک پہنچاتے تھے مورخین کہتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ نے بھی 1566-1590تک شاہی میل کا ایک باقاعدہ نظام بھی بنایا تھااب جہاں تک سندہ کی بات ہے تو یہاں انگریزوں نے باقاعدہ طور پر اس نظام کو آگے بڑھانے میں نمایاں کر دار اداکیا جس کے تحت ایک انگریز کمشنر سندہ سر بارٹلے فریئر نے نہ صرف مکمل نظام ڈاک بنایا بلکہ 1852میں ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جوکہ سرخ رنگ کا تھا اور اس پر سندہ ڈسٹرک ڈاک درج تھا اس کی قیمت آدھے آنے مقرر کی گئی تھی دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاک کے نظام قائم ہونے سے قبل سندہ میں بھی کبوتروں ، پیادوں،گھوڑوں،خچروں کے ذریعے خطوط بھیجنے کا سلسلہ قائم تھا جوکہ بار ٹلے کے نظام کے بعد مزید ایڈوانس ہوگیا بعد ازاں برصغیر پاک ہند میں پوسٹ آفس ایکٹ 1898کے تحت ڈاک کا نظام قائم کیا گیا اور جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو ابتداء میں برطانیہ کے ہی ڈاک ٹکٹ پر پاکستان کی اسٹیمپ لگا کر کام چلایا جاتا رہا

پھر 9جولائی1948کو پاکستان زندہ آبادکے نعروں سے مزین ٹکٹ چھاپہ گیا اور اس کے بعد گویا ملک میں ڈاکخانوں کی قطاریں لگ گئیں اور خطوط لکھنے والے لوگوں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا1947میں ملک بھر میں ڈاکخانوں کی تعداد 3036تھی بڑھ کر اچانک 12339ہوگئی جبکہ شہر کراچی میںبھی ڈاکخانوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے تحت شہر کراچی میں اس وقت 6 جی پی اوز 10ہیڈ پو سٹ آ فس4ڈویژن اور لگ بھگ 300ڈاکخانے قائم ہیں ۔شہر کراچی میں بھی ڈاکخانوں کی تاریخ نئی نہیں بلکہ 19 ویں صدی کی ہے یہاں بھی مختلف طریقوں سے پیغام رسانی کا کام کیا گیا مگر انگریزں کی آمد کے بعد یہاں باقاعدہ طور پر ڈاکخانے قائم کئے گئے آج جہاں میری ویدر ٹاور موجود ہے اس کے پچھلے حصے میں پتھروں کی ایک دو منزلہ عمارت موجود تھی اس سے ڈاک کے نظا م کو چلایا جاتا تھا

یہ بھی پڑھیں :

پھر 1901میں موجودہ جی پی او جوکہ آئی آئی چندر یگر روڈ پر واقع ہے میں ٹیلی گراف آفس کے ساتھ انگریزوں کی دور کی بنی گئی پرانی عمارتوں کو ٹیلی گراف اور پوسٹ آفس جوکہ پہلے ایک ہی ہوا کرتے تھے استعمال کیا گیا ان میں سے کچھ قدیم عمارتیں آج بھی اپنی زبوں حالی کے ساتھ اپنے ماضی کی داستاں سنارہی ہیں۔آج گوکہ ٹیلی گراف جس کے ذریعے لوگ تار (ٹیلی گرام) بھیجا کرتے تھے جبکہ پوسٹ آفس کا کام لوگوں کو خطوط او مراسلے پہنچانا ہوتا تھا اب یہ دونوں اس وقت سے لے کر اب تک یہ محکمے وزارت مواصلات کے زیر نگرانی رہے مگر اب الگ الگ کام کر تے ہیں مگر آج بھی یہ دونوں اہم محکمے پرانے میکلو روڈاور آج کے آئی آئی چندریگر روڈ پر ساتھ ساتھ واقع ہیںشہر کراچی جسے ایک گنجان شہر کہہ سکتے ہیں یہاں ڈاک کی کھپت سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی لوگ صبح بیدار ہوتے اوردروازوں پر کھڑے ہوکر ڈاکیے کا انتظار کیا کرتے تھے اگر ڈاکیہ کوئی خوشخبری والا خط لے آتا تو لوگ اس کی تواضع کر تے اور انعام واکرام سے بھی نوازتے تھے

اگر کسی محلے میں کوئی ٹیلی گرام آجاتا تو پورے علاقے میںایک کہرام مچا ہوتا تھا کہ کوئی بری خبر آئی ہے کیونکہ لوگ اکثر اوقات صرف کسی کی موت کی صورت میں ٹیلی گرام بھیجا کرتے تھے اس زمانے میں جوکہ زیادہ پرانا نہیں پوسٹ آفس ہر شخص کی ضرورت تھا مگر آج اس کی جگہ انٹرنیٹ اورموبائل نے لے لی ہے جبکہ ملک بھر میں متعدد نجی کوریئر کمپنی بھی ڈاک اور پارسل کی ترسیل کا کام انجام دے رہی ہیںجس سے محکمہ ڈاک کافی پیچھے چلا گیا اور لوگوں نے جدید ٹیکنا لوجی سے اپنے مراسلات اور پیغامات بھیجنے شروع کر دئے جسے دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب شاید محکمہ ڈاک کی ضرورت نہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ محکمہ ڈاک اب بھی ملک بھر میں ڈاک کی ترسیل کا وہ واحد ادارہ ہے جس کے ڈاکخا نے چھوٹے چھوٹے گائوں اور قصبوں بھی قائم ہیں یہاں تک کے اگر کسی کو فوجی بھائیوں کو ان کی چھائونی یا سیاچن گلیشئر پر پیغام بھیجنا ہو تو صرف محکمہ ڈاک ہی یہ کام سر انجام دے سکتا ہے مگر کیونکہ اس محکمے میں بڑے پیما نے پر ہو نے والی کرپشن کے سبب یہ ادارہ اس وقت 8ارب روپے کے خسارے کا شکار ہو کر سفید ہاتھی بن چکاہے اور با وجود وفاقی وزیر ڈاکخانہ جات مرادسعید کے دن رات کی جدو جہد اور نت نئی اسکیمیں روشناس کرا ئے جا نے کے با وجود روبہ زوال ہو رہا ہے

افسران اور ملازمین کی غفلت اور گھوسٹ ملازمین کی بڑی تعداد گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہی ہیں جس کی وجہ سے محکمے کے اندر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام نہیںجس کا نجی کوریئر کمپنی خاطر خواہ فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں ،گائوں دیہات جہاں تک ان کی رسائی نہیں ہے وہاں ڈاک،پارسل کے لئے خود بھاری نر خ لے کر سستے داموں بھیجنے کے لئے محکمہ ڈاک کا سہارا لے کر کروڑوں رو پے کا منافع کما رہی ہیں جبکہ محکمے میں کرپشن بھی عروج بام کو پہنچ چکی ہے جس کے تحت کبھی لوگوں کے پارسلوں کی چوری ،سامان بدلنے کی شکایت ،کہیں یوٹیلیٹی بلز کی چوری کی شکایات عام ہیں جس پر اب تک قابو پا یا نہیں جا سکا جس کے پیش نظر اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ چند سالوں میں یہ محکمہ ناصرف مکمل طور پر ختم ہو جا ئے گا بلکہ لوگ جو کہ پہلے سائیکلوں پر آنے والے باوردی ڈاکیوں جو کہ اب موٹر سائیکلوں پر ڈاک بانٹنے کا کام کر تے ہیں کو مکمل طور پر بھول کر نجی کوریئر کمپنیوں پر اعتماد کر تے ہو ئے پیغام رسانی کے لئے ان کے جدید نظام کو اپنا لیں گے جس کے سبب ناصرف ڈاک کا یہ قدیم ادارہ مکمل طور پر بند ہو جا ئے گا بلکہ اس میں کام کر نے اور اس سے وابستہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جا ئیں گے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکو مت فوری طور پر اس محکمے کی جا نب توجہ دے کر نا صرف خسارے سے باہر لا ئے بلکہ کوریئر کمپنیوں کی طرح زیادہ سے زیادہ الیکٹرانک نظام متعارف کرا ئے تا کہ اس محکمے کے کھوئے ہو ئے وقار کو بحا ل کر نے کے ساتھ ساتھ اسے ایک بار پھر پیروں پر کھڑا کیا جا ئے۔

(343 بار دیکھا گیا)

تبصرے