Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 06 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امریکی صدر مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، فرانسیسی اخبار

قومی نیوز بدھ 24 جولائی 2019
امریکی صدر مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، فرانسیسی اخبار

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیرکے مسئلہ پرثالثی کے عندیہ پر فرانسیسی اخبار 20منٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنازعات ’’حل ہونا چاہئے‘‘، کیونکہ میں نے کشمیر کے بارے میں بہت سنا ہے کہ یہ ایک خوبصورت وادی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست ملی ہے جس کا نئی دہلی نے فوری طور پر انکار کر دیا ہے۔ اخبارنے لکھا ہے کہ اس خطے میں مسئلہ کشمیر، افغانستان حل ہونے سے خطے میں دیر پا امن قائم ہو سکتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ انتہائی اہم اور مثبت قدم ہے جس کو دنیا بھر کے امن پسند قدر کی نظروں سے دیکھیں گے سینئر سفارتکاروں نے کہا ہے کہ عمران خان اور امریکی صدر کی ملاقات کے بعد پاکستان کی امریکہ کیساتھ بارگیننگ پوزیشن مضبوط ہے ، پاکستان افغانستان امن عمل اور کشمیر معاملے کو سائیڈ بائی سائیڈ حل کرنے کی تجویز دے سکتا ہے۔

سینئر سفارتکاروں نے ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش پربیک گرائونڈ انٹرویوز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے افغانستان میں امن عمل کو تیز ٹریک پر ڈالنے سے امریکہ کو جلد بیل آئوٹ ہونے کا موقع ملے گا،جسکی بنیاد پر پاکستان امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انکے ثالثی کے رول کی آفر کو عملی شکل دینے کے لئے دبائوڈال سکتا ہے اور پاکستان ٹرمپ کو افغانستان میں امن عمل اور کشمیر کے معاملے کو سائیڈ بائی سائیڈ حل کرنے کے لئے بھی بات کر سکتا ہے ،امریکہ افغانستان سے آنر ایبل ایگزٹ چاہتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ ایسا پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی اسٹبلشمنٹ کی ہاکش لائن کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کو براہ راست ملاقات کی دعوت دی جس میں انہوں نے پاکستان کے افغانستان میں امن عمل کوششوں کو تسلیم کیا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی شہر چینائی میں پانی کے لئے خوفناک جنگ

پاکستان کی بارگینگ پوزیشن مضبوط ہے جسکی بنیاد پر پاکستان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو افغانستان میں امن عمل اور کشمیر کے معاملے کو سائیڈ بائی سائیڈ حل کرنے کے لئے بات کر سکتا ہے ،سنیئر سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بین الاقوامی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لیڈ رول پر امریکن صدر ایک بڑی سپر پاور کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی لسٹ سے پاکستان کو خارج کرانے کی طاقت رکھتے ہیں ،لیکن وزیراعظم اور صدر ٹرمپ ملاقات کے حوالے سے مختلف امور پر معاملات دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر طے کئے جائیں گے۔

ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے بیان کے بعد بھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی،لوک سبھا میں اپوزیشن نے مودی کیخلاف ہنگامہ کرتے ہوئے واک آ ئوٹ کیا،کانگریس کاکہناہے کہ ٹرمپ سے درخواست کرکے قوم کو دھوکا دیا گیا،بھارتی وزیراعظم پارلیمان میں آ کر امریکی صدر کے دعوے کی وضاحت پیش کریں، لوک سبھا میں’’مودی جواب دو‘‘ کے نعرے لگ گئے، دوسری جانب ٹرمپ کے ہی افغانستان کے حوالے سے بیان پر افغانستان نے امریکی صدر سے ناراض ہوکر وضاحت طلب کرلی ہے،افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ امن کیلئے امریکی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن غیرملکی قوتوں کو افغانستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے کشمیر میں امن کے حوالے سے سوال کیا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت افسوسناک بات ہے کہ پاکستان اور بھارت اس مسئلے کو حل نہیں کرپا رہے، میں دو ہفتے قبل بھارتی وزیراعظم کے ساتھ تھا، ان کیساتھ موضوع پر گفتگو کی اور انہوں(مودی) نے مجھے کہا کہ کیا آ پ ثالث کا کردار ادا کریں گے؟ تو میں نے پوچھا کہاں؟ انہوں نے کہا کشمیر میں کیوں کہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔

اس بیان کے بعد بھارتی اپوزیشن نے بھی وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان میں آ کر ٹرمپ کے دعوے کی وضاحت پیش کریں۔ لوک سبھا میںمودی جواب دو کے نعرے لگائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف کی سزا ختم ہوسکتی ہے‘ تجزیہ کار

کانگریس رہنما سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ غلط بیانی کر رہے ہیں یا بھارتی حکومت جھوٹ بول رہی ہے، نریندر مودی سامنے آ کر حقیقت واضح کریں۔کانگریس پارٹی کے ہی راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کرکے قوم کو دھوکا دیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی۔راہول گاندھی نے کہا کہ ایک کمزور وزارت خارجہ کا انکار کافی نہیں، وزیراعظم کو لازمی طور پر قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی۔

دوسری طرف ٹوئٹر پر بھی بھارتی شہری خوب بڑھاس نکال رہے ہیں اور کشمیر پر امریکی صدر کے بیان اور نریندری مودی کیخلاف ٹوئٹ کر رہے ہیں، ہر کوئی مطالبہ کر رہا ہے کہ نریندر مودی جلد قوم کو سچ بتائیں۔اپوزیشن کے مطالبے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ایوان بالا میں کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔

ادھر بھارتی پارلیمانی اراکین نے مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی تردید یا تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کریں۔ اپوزیشن لیڈر انند شرما اور ڈی راجہ کا کہنا تھا کہ ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے۔ دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امریکا کو ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ باآ سانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں‘ کرنا چاہتے۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کی اپنی پرانی تاریخ ہے اور ماضی میں بھی بڑے بڑے بحرانوں سے گزرا ہے تاہم افغان قوم کبھی کسی بیرونی قوت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ ان کی قسمت کا فیصلہ کرے۔

بیان کے مطابق امریکا کے ساتھ پارٹنرشپ باہمی دلچسپی اور احترام پر مبنی ہے اور امن کیلئے امریکی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں برداشت کرسکتے کہ افغانستان کے حوالے سے فیصلے بیرون ممالک کے قائدین کریں۔

(989 بار دیکھا گیا)

تبصرے