Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 19 جنوری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کے الیکٹرک ناکام‘ بجلی بحران سنگین

قومی نیوز بدھ 24 جولائی 2019
کے الیکٹرک ناکام‘ بجلی بحران سنگین

کراچی (قومی اخبار نیوز) 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود 300 سے زائد میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل بن قاسم ون اور ٹو کے 2 یونٹس کی مرمت مکمل نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے شہر میں بجلی بحران مزید سنگین ہوگیا‘ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے کے الیکٹرک نے پورا شہر لوڈمینجمنٹ پر ڈال دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کا عملہ موسم کی خرابی پرٹربائن پروٹیکشن میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں بن قاسم کے تمام یونٹ ٹرپ کرگئے تھے۔

1810 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے والے جنریشن پلانٹس 16 گھنٹے تک بند رہنے سے بحران نے جنم لیا جس کے بعد بجلی کی آنکھ مچولی پر این ٹی ڈی سی شٹ ڈائون بڑے بریک ڈائون کی شکل اختیار کرگیا‘ نولوڈشیڈ زونز میں بھی لوڈمینجمنٹ کی وجہ سے چند گھنٹوں بعد بجلی معطل اور بحال کی جاتی رہی جبکہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں کے مکین رل گئے۔

لیاقت آباد سمیت کئی علاقوں میں 20 گھنٹے تک بجلی بحال نہ کی جاسکی‘ کاروبار زندگی مفلوج ہونے کے ساتھ ساتھ دفاتر اور اسکولوں میں حاضریاں بھی کم رہیں‘ کئی علاقوں میں مسلسل بندش سے شہریوں نے رات جاگ کر گزاری۔ کے الیکٹرک کی انتقامی نااہلی کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے اور ہلکی بارش نے کراچی کا نظام بٹھادیا۔

یہ بھی پڑھیں : دال میں کچھ تو کالا ہے‘ بلاول بھٹو

ذرائع نے بتایا کہ موسمی تبدیلی پر بن قاسم یونٹ ون اور ٹو کے تمام یونٹس ٹرپ کرگئے جس سے شہر کے ایک بڑے حصے میں بجلی بند ہوگئی۔ کے الیکٹرک کے انجینئرز نے انتظامیہ کو بتایا کہ آلات ڈی رینڈ ہیں جس کی وجہ سے ٹربائن پروٹیکشن نہیں کی جاسکی اور ٹرپنگ کی وجہ سے پروڈکشن بالکل بند ہوگئی ہے

رات گئے دونوں پلانٹ پر بجلی کی پیداوار بند ہونے کے بعد این ٹی ڈی سی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کے ذریعے ایئرپورٹ اور اسپتالوں کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کی گئی‘ بعدازاں نولوڈشیڈ زون میں آنے والے علاقوں کی بجلی 3 سے 6 گھنٹے بعد بحال کی گئی لیکن یہ فراہمی مستقل نہیں تھی

کے الیکٹرک انتظامیہ کو رات گئے بتادیا گیا تھا کہ ٹرپ ہوجانے والے یونٹس کی بحالی میں 10 گھنٹے لگیں گے جس پر کے الیکٹرک کے جنریشن یونٹس کے سربراہ نے انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ پورا شہر ہی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے چلایا جائے جس پر عملدرآمد تاحال جاری ہے۔

(845 بار دیکھا گیا)

تبصرے