Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 22  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دوحاڈائیلاگ ، بدترین دشمن بھی ساتھ بیٹھ گئے

ویب ڈیسک پیر 08 جولائی 2019
دوحاڈائیلاگ ، بدترین دشمن بھی ساتھ بیٹھ گئے

دوحا …دوحا میں انٹرا افغان ڈائیلاگ شروع ہوگئے اور اس میں درجنوں طاقتور افغان شخصیات جن میں ایک دوسرے کے بدترین دشمن بھی شامل ہیں اور یہ ودحا میں طالبان سے ملیں گے۔قطر ی دارالحکومت دوحہ میں افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے افغان اور طالبان وفود کے مذاکرات جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان اور طالبان نمائندوں کے اجلاس میں 70 افراد شامل ہیں جن کی ملاقات کے لیے لگژری ہوٹل میں سخت سیکیورٹی نافذ ہے۔

کانفرنس روم میں داخل ہونے سے قبل تمام افراد کو اپنے موبائل فونز انتظامیہ کے حوالے کرنے تھے۔جرمنی کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان مارکس پوٹزل نے کہا آ ج یہاں کچھ روشن خیال ذہن موجود ہیں جو افغان معاشرے کے ایک حصے کی نمائندگی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ آ پ سب کے پاس پر تشدد کشیدگی کو ایک پر امن مباحثے میں بدلنے کے طریقے تلاش کرنے کا ایک منفرد موقع اور ذمہ داری ہوگی۔طالبان کے نمائندے عباس استانکزئی نے جب کانفرنس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سیکیورٹی گارڈ سے تلخ کلامی ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش کو بڑے مارجن سے ہراناہوگا

عباس استانکزئی نے کہا کہ ’ ہم مذاکرات میں جانا چاہ رہے ہیں لیکن وہ ہمیں جانے نہیں دے رہے جس پر ایک افسر نے کہا کہ ’ ہم آ پ سے مذاق نہیں کررہے ہیں، ہم پر چلّانا بند کریں۔تاہم عباس استانکزئی، طالبان کے دوحہ آ فس کے ترجمان سہیل شاہین سمیت وفد نے مذاکرات سے قبل کانفرنس روم میں اپنی نشستوں پر پہنچے۔

قطری وزات خارجہ کے نمائندہ برائے انسداد دہشت گردی مطلق القحطانی نے کہا کہ ہم تمام افغان بھائیوں اور بہنوں کی دوحہ میں ملاقات پر بہت خوش ہیں۔افغان اور طالبان وفود کو ثالثیوں کی موجودگی میں مذاکرات کے لیے تنہا چھوڑنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم افغانستان کے مستقبل کی راہ کا تعین کرناچاہتے ہیں۔

یہ مذاکرات امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات کے 6 دن بعد ہورہے ہیں جن میں مذکورہ کانفرنس کی وجہ سے 2 دن کا وقفہ دیا گیا ہے جو دو روز بعد دوبارہ شروع ہوں گے۔سابق صدر حامد کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ بات چیت کیلیے تشکیل کردہ اعلیٰ امن کونسل کی رکن اصیلہ وردک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہر کوئی جنگ بندی پر غور کررہا ہے۔

اصیلہ وردک نے مزید کہا کہ عباس استانکزئی نے ’ خواتین کے کردار، معاشی ترقی اور اقلیتوں کے کردار پر طالبان کے موقف سے متعلق بات چیت کی۔

(339 بار دیکھا گیا)

تبصرے