Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پٹیل پارک سے نشتر پارک تک

مختاراحمد هفته 06 جولائی 2019
پٹیل پارک سے نشتر پارک تک

باغات ،پارک اور سبزہ زار عموما تفریحات کے لئے ہوتے ہیں جہاں دن بھر کے تھکے ہارے ذہنی سکون حاصل کر نے یا پھر واک اور ورزش کر نے کے لئے آتے ہیں اور ورزش اور ذہنی آسودگی حاصل کر نے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جس طرح دنیا بھر میں تفریحات کے لئے باغات یا پارک لگانا لازم و ملزوم خیال کیا جا تا ہے ٹھیک اسی طرح پاکستان بلخصوص کراچی میں بھی اس کی ضرورت محسوس کر تے ہو ئے باغات اور پارکس لگا ئے گئے اب جہاں تک شہر کراچی میں باغات لگا نے اور پارکس قائم کر نے کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا تو تالپور دور میں ہی ہو گئی تھی اور تالپوروں نے سب سے پہلے ماضی کی اس لیاری ندی جو کہ صاف و شفاف ہوا کر تی تھی اور آج گندے پانی کے جوہڑوں میںتبدیل ہو چکی ہے کے کنارے کنارے انوائع اقسام کے پھلوں ،پھولوں کے پیڑ، پودے اور درخت لگا ئے جو کہ دیکھ بھال نہ ہو نے کے سبب تبا ہی کا شکار ہو گئے جس پر انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کر نے کے بعد اس جا نب سب سے پہلے توجہ دیتے ہو ئے گارڈن کے علاقے میں وکٹوریہ گارڈن کے نام سے ایک باغ لگا یا جسے آج کراچی چڑیا گھر کے نام سے جا نا جا تا ہے اور اسی دور میں برنس گارڈن ،فریئر گارڈن اور جہانگیر پارک وجود میں آئے جہاں تک پہلے صرف انگریز فوجیوں کے خاندانوں کی رسائی رہی اور پھر مقامی لوگوں کو بھی تفریحی سہولیات کی اجازت فراہم کر دی گئی اور نشتر پارک کا وجود بھی مورخین کے مطابق اسی دور میں وجود میں آیا ۔لیکن شہر کراچی میں ایک پارک ایسابھی ہے جہاںماضی میں انگریز فوجیوںکوپریڈ کرا نے کے ساتھ ساتھ سا بھی دی جاتی تھی اور کیونکہ یہ پارک سولجر بازار کے وسط میں پارسی کا لو نی میں واقع تھا اور اس کے چاروں اطراف پارسی برادری کے تعلیم یافتہ اور نفیس لوگ رہا کر تے تھے جنہوں نے انگریزوں سے کر کٹ کا کھیل سیکھنے کے بعد خود کرکٹ کھیلنا شروع کردی تھی لہذا یہاں بڑے پیما نے پر ناصرف کرکٹ کھیلی جاتی تھی بلکہ اس پارک کے اندرماضی میں فرسٹ کلاس میچز بھی کھیلے جاتے رہے اور اس کے بعد گویا یہ پارک اجڑ سا گیا اور یہاں نام کو ہریالی نہیں رہی بلکہ ایک بنجر پارک بن گیامگر اس اجڑے پارک نے ملک کی سیاست میں ناصرف کئی سیاسی تاریخ رقم کی بلکہ انقلاب برپا کئے اس کے بعد سے یہ پارک لندن کے اس ہائیڈ پارک کی طرح بن گیا جہاں بولنے کی آزادی ہواسی لئے یہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے جلسے منعقد ہوتے رہے بلکہ اس پارک میں کئی سیاسی پارٹیوں کا جنم ہوا ،حکومتیں گرا نے کے لئے کئی اتحادقائم ہو ئے اور یہاں تک کے اسی پارک کے اندر کرکٹ کے کھلاڑی آپس میں دست و گریباں ہوئے اور یہاں تک کے کرکٹ کی ایک ٹیم نے دوسری ٹیم کے کھلاڑی کو ہلاک کر دیا اسی جگہ سیاسی کارکنوں پر ناصرف لاٹھی چارج ہو ابلکہ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں اسی جگہ میلاد مصطفی کانفرنس میں خودکش دھماکہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں 60 سے زائد لوگ شہید اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو ئے یہی وہ پارک ہے جہاں ہر سال یوم عاشور کے موقع پر مجلس عزابپا ہوتی ہے بلکہ عاشور کا مر کزی جلوس بھی یہیں سے بر آمد ہو تا ہے اسی طرح ربیع اول کے موقع پر شہر بھر کے تمام جلوس اس پارک کا رخ کر تے ہیں جہاںہر سال پا بندی کے ساتھ ملاد مصطفی کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس سے ملک کے جید علما ئے کرام خطاب فرماتے ہیں ۔

نشتر پارک کراچی جو کہ انگریزوں کے دور میں قائم ہوا وہاں چند پرا نی پتھروں کی رہائش گاہوں اور اس کے کو نے میں انگریز فوجیوں کے بیٹھنے کے لئے بنا ئی گئی جگہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور اب یہ صرف ایک میدان کا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے اس کے اطراف میں ماضی میں پارسیوں کے بنگلوں کی جگہ فلیٹوں نے لے لی ہے جبکہ سندھ کے قوم پرست لیڈر جی ایم سید کی رہائش گاہ حیدر منزل اب تک موجود ہے جبکہ اس کے علاوہ 1935اور اس سے قبل تعمیر کی گئی پتھر کی چند عمارتیں اب بھی موجود ہیں مگر کسی کو آج کے نشتر پارک کی تاریخ کا کوئی علم نہیں یہ پارک ماضی میں کانگریس کے ایک لیڈر ولی بھا ئی پٹیل جن کے کے نام سے پٹیل پاڑہ بھی موسوم ہے بنا یا گیا تھا اور کیونکہ یہ اس وقت شہر کراچی کی سب سے پوش آبادی پارسی کالونی میں موجود تھا لہذا ابتدا میں جمشید کوارٹر کے درمیان اس پارک کے اندر قرب و جوار کے لوگ تفریحی سہولیات حاصل کر نے کے لئے آتے تھے اور اس وقت تک یہ پارک ایک سر سبز و شاداب پارک تھا جہاں دوسری قومیتوں اور مذاہب با قاعدہ طور پر تقریبات منعقد کر تے تھے قیام پاکستان کے قبل تک اسے پٹیل پارک کے نام سے ہی جا نا اورما نا جا تا تھا مگر جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا تو پاکستان مسلم لیگ (نیشنل گارڈ)کے مطالبے پر اس پارک کا نام تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما اور سابق گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر کے نام سے موسوم کر دیا گیا اور کیو نکہ سردار عبدالرب نشتر ایک بہادراور کرامتی شخصیت تھے ان کے نام سے اس پارک کو موسوم کئے جا نے کے بعد اس پارک کے اندر ملک کی سیاست کے حوالے سے بڑے بڑے جرات مندانہ فیصلے کئے گئے جو کہ آج ایک تاریخ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

نشتر پارک شاید ملک بھر میں وہ واحد پارک ہے جس نے ملک کی سیاست میں نا صرف ہلچل پیدا کی بلکہ اسی پارک سے کئی حکومتوں کے گرا نے اور بنا نے کے فیصلے بھی ہو ئے اس پارک میں ملک کی بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں نا صرف وجود میں آئی بلکہ ان کا خاتمہ بلخیر بھی ہوا سب سے پہلے 1964میں جب ایوب خان نے صدارتی انتخا بات کا اعلان کیا تو مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح نے اسی پارک سے اپنی انتخا بی مہم کا آغاز کیاجبکہ ماضی میںسابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ،شیخ مجیب الرحمن ،مولانا مودودی ،مولانا بھاشانی ،مولانا مفتی محمود،نواب زادہ نصر اللہ خان ،بیگم نصرت بھٹو ،محتر مہ بینظیر بھٹو ،میر مرتضی بھٹو ،مولانا شاہ احمد نو را نی ،مولانا شاہ تراب الحق سمیت بڑے بڑے رہنمائوںنے نا صرف بڑے بڑے جلسے کئے بلکہ اس پارک کے اندر ملک کی سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جن میں بنگا لی رہنمائوں شیخ مجیب الرحمن کی رہائی کا فیصلہ کافیصلہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکو مت کیخلاف اٹھنے والی قومی اتحاد جسے 7 پارٹیوں کے اتحاد کے سبب 7ستارے کہا جا تا تھا نے بھی اسی مقام سے تحریک کا آغاز کیا ۔

نشتر پارک جو کہ آج پارک تو نہیں بلکہ ایک میدان کا روپ دھار چکا ہے اسے بڑے بڑے سیاسی فیصلوں کے سبب اسے ایک نمایاں مقام حاصل ہو نے کے ساتھ ساتھ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے مجھے بھی بحیثیت سیاسی طالب علم ہو نے کے مشاہدے کے کئی مواقع ملے جس میں سب سے پہلے میں نے 8 اگست 1986کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مہاجر قومی موئومنٹ کے نام پر تبدیلی ہو نے کے حوالے سے ایم کیو ایم کا جلسہ دیکھااس سے ایک روز قبل شہر بھر میں موسلا دھار بارشیں شروع ہو گئی تھیں جو کہ 8اگست کو بھی مسلسل برستی رہی ایم کیو ایم کے کارکنان بالٹیوں اور دیگچیوں سے جمع ہو نے والے پا نی کو پارک سے باہر نکال کر پھینک رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ شاید بارشوں کے سبب یہ جلسہ منسوخ کر دیا جا ئے گا مگر ایسا نہیں ہوا اور مہا جر قومی موئومنٹ کی پوری کابینہ جلسے سے پہلے ہی جلسہ گاہ پہنچ گئی جبکہ نشتر پارک کے میدان میں عوام کے سر ہی سر نظر آ رہے تھے ایسے میں متحدہ کے با نی جو کہ بارش کے پا نی سے شرابور تھے نے نا صرف مہا جر قوم کے حق میں نعرے لگوائے بلکہ اپنے خطاب میں دیگر اقوام کیخلاف زہر فشانی کی اس روزنشتر پارک تو کیا اس کے اطراف کی تمام سڑکیں یہاں تک کے نمائش تک عوام کا جم غفیر جمع تھا جو کہ باوجود بارشوں کے گھر جا نے پر تیار نہیں تھا اس روز متحدہ کے با نی نے پہلی بار مہا جر قوم کے اتحاد کو ثا بت کر نے کے لئے ون ٹو تھری کا نعرہ لگا یا اوران کے اس نعرے پر مجمے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کہ انہیں سانپ سونگھ گیا ہو اسی دوران پی آئی اے کا ایک طیارہ عین نشتر پارک کے اوپر سے گزر رہا تھا جسے دیکھ کر انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان انٹر نیشنل ایئر لا ئن نہیں بلکہ پنجاب انٹر نیشنل ایئر لا ئن کا طیارہ ہے اور اس کے بعد اسی پارک میں متحدہ قومی موئومنٹ کے بھی جلسے منعقد ہو ئے اور تمام قوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا جبکہ جب 22 اگست2016کو متحدہ کے با نی نے پاکستان کیخلاف زہر فشا نی کی تو متحدہ (پاکستان) کی بنیاد رکھنے والے ڈاکٹر فاروق ستار و دیگر رہنمائوں نے ان سے لاتعلقی کا اعلان کیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہا جر قوت اسی پارک میں بنی تھی اور اسی پارک کے اندر اس کا خاتمہ بلخیر ہوا اس پارک میں پیپلز پارٹی کا ہو نے والا وہ جلسہ بھی مجھے یاد ہے جس میں پیپلز پارٹی (شہیدبھٹو) کے کارکنان اسٹیج پر قابض ہو گئے تھے اور پارٹی کے تمام قائدین بے نظیر بھٹو کو بذریعہ فون اس بات کا مشورہ دے رہے تھے کہ وہ جلسہ گاہ نہیں آئیں کیو نکہ یہاں قبضہ ہو چکا ہے مگر ان کی جرات مندی کو سلام انہوں نے اور بیگم نصرت بھٹو نے اس بات کی پرواہ کئے بغیر نا صرف جلسہ گاہ پہنچی بلکہ انہوں نے اسٹیج پر جا نے کے لئے ان سیڑھیوں پر قدم رکھا جس پر شہید بھٹو کے کارکنان قابض ہو چکے تھے

مگروہ جیسے جیسے سیڑھیاں عبور کر تی رہیں کارکنان چھٹتے رہے اور یہاں تک کے وہ ڈائس پر پہنچ گئیں اور تمام چیزوں کی پرواہ کئے بغیر اچانک سے دھواں دھار خطاب شروع کر دیا ایسے میں شہید بھٹو کے کچھ کارکنان ڈائس کے سامنے آ کر مرتضی بھٹو کی تصویر لہرا نے لگے جسے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ بیٹے اسے ہٹائو کیونکہ یہ دہشت گرد ہے کی جا نے والی اس تقریر میں متحدہ کے با نی کو یاد دلا یا کہ آپ نے کبھی عوام کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا تھا کہ ٹی وی بیچو کلاشن کوف خریدو آپ کے اس نعرے سے شہر کے نو جوان تباہ ہو رہے ہیں اور اسی طرح انہوں نے اپنی پوری تقریر مکمل کی اور جلسے گاہ سے روانہ ہو گئیں جس نے پورے مجمے کو حیران کر دیا تھا اور ایک عرصے تک کارکنان پیپلز پارٹی ،محتر مہ کے اس جرات مندی اور بہادری کی مثالیں پیش کر تے نظر آتے تھے اسی پارک کے اندر مجھے تحریک انصاف کے سر براہ اور وزیر اعظم عمران خان ،جماعت اسلا می اور قومی اتحاد کے اکا برین سمیت متعد دسیاسی پارٹیوں کے جلسوں کے مشاہدوں کا بھی موقع ملا جو کہ ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگراب شہر کراچی کے ہائیڈ پارک کو شاید کسی کی نظر لگ گئی ہے جس کی وجہ سے اب یہاں سیاسی جلسے تو نہیں ہو تے بلکہ یہ میدان نما پارک مجالس محرم اور میلاد مصطفی کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے اور صرف محرموں یا ربیع اول کے مہینے میں اس میں کچھ سر گر میاں نظر آتی ہیں ورنہ اطراف میں رہنے والے بچے کرکٹ اور فٹ بال کھیہل رہے ہو تے ہیں جبکہ عوام کی سہو لت کے لئے بنائی گئی سردار عبدالرب نشتر لائبریری جہاں کتابوں کا فقدان ہے لوگوں کی انتہا ئی کم تعداد مطالعے کے لئے آتی ہے حیرت انگیر امر یہ ہے کہ تحریک پاکستان کی جدو جہد سے لے کر اب تک کی مکمل سیاسی تاریخ رکھنے والے اس پارک کو محکمہ آثار قدیمہ نے ہیر ٹیج میں شامل نہیں کیاہے جس کے سبب یہ دن بدن تبا ہی کی طرف بڑھ رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر کراچی کے اس ہائیڈ پارک کو محفوظ کر نے کے ساتھ ساتھ اس کی مکمل تاریخ کو لائبریری کی زینت بنا یا جا ئے ۔

(195 بار دیکھا گیا)

تبصرے