Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 17 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دجلہ کنارے ”عہد کانسی“ کا پراسرار محل دریافت

قومی نیوز جمعرات 04 جولائی 2019
دجلہ کنارے ”عہد کانسی“ کا پراسرار محل دریافت

کراچی (نیوز ڈیسک) ماہرینِ آ ثار قدیمہ نے عراق میں دریائے دجلہ کے کنارے کھدائی کے دوران کانسی کے عہد (برونز ایج) میں تعمیر کیے جانے والے محل کی ایسی باقیات تلاش کی ہیں، جسے ”سنسنی خیز“ دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق، یہ محل پراسرار متانی سلطنت کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے لا سکتا ہے۔ متانی سلطنت 1500 سے 1300 سال قبل مسیح میں شمالی شام اور جنوب مشرقی اناطولیہ (ترکی) میں قائم حکومت تھی۔

بابل کی بربادی اور اشوریہ بادشاہوں کی جانب سے پیدا کیے جانے والے خلا کے بعد متانی سلطنت قائم ہوئی تھی۔ اس سلطنت کے لوگ ہوریان زبان بولتے تھے اور ان کے بادشاہوں کے نام سنسکرت زبان سے لیے گئے تھے اور یہ لوگ انڈو آ رین تھے۔

سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا، زرداری

کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ مہابھارت کے بعد نقل مکانی کرکے یہاں پہنچے جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ لوگ وید کی میترانی شاخ کے ماننے والے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ میتانی سلطنت کا غلبہ شمالی میسوپوٹیمیا اور شام کے علاقوں پر تھا لیکن ان کے متعلق زیادہ معلومات موجود نہیں اسلئے دریافت ہونے والا محل اس سلطنت کے حالات و واقعات پر روشنی ڈال سکتا ہے۔

عراق کے حصے کردستان میں موصل ڈیم کے قریب اس مقام کا نام کیمون ہے اور ماہرین آ ثار قدیمہ تقریباً ایک دہائی سے اس علاقے میںکھدائی کر رہے ہیں۔ کرد اور جرمن ماہرین پر مشتمل ٹیم اسلئے یہ محل دریافت کر پائی کیونکہ ڈیم میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔

عراقی کردستان میں دوہوک یونیورسٹی کے ماہر حسان احمد قاسم کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں بعد یہ خطے کی اہم ترین دریافت ہے جس میں محل کی اندرونی دو میٹر موٹی دیواریں اور ساتھ ہی پلاسٹر شدہ حصے، پینٹنگز اور مٹی سے بنی تختیاں ملی ہیں جن پر نقوش اور عجیب لکھائی موجود ہے۔

ماہرین نے ان تختیوں (ٹیبلیٹس) پر لکھے ہوئے الفاظ کی شناخت اور ترجمے کا کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ترجمے کے بعد علاقے کی سیاست، رہن سہن، معیشت اور نقل و حرکت جیسی اہم باتوں کا علم ہو سکے گا۔

(207 بار دیکھا گیا)

تبصرے