Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

1500سال پرانا سولجر بازار کا قدیم ترین مندر

مختاراحمد اتوار 30 جون 2019
1500سال پرانا سولجر بازار کا قدیم ترین مندر

یوں تو شہر کراچی کی قدامت کے حوالے سے کسی کو انکار نہیں ماہرین کہتے ہیں کہ اس شہر نے پتھر ،تانبے،کانسی سمیت تمام ادوار دیکھے لیکن مستند تاریخ یہ ہے کہ اس شہر کا آغاز چاروں طرف سمندر کے بے رحم موجوں میں گھرے ایک چھوٹے سے جزیرے منوڑہ سے ہوئی جس کی بنیادر 1729میں بھو جو مل نا می تا جر نے اس وقت رکھی جب کھرک کی قدرتی بندر گاہ ریت اور مٹی سے بھر گئی جس کے بعد بھوجومل نے وہاںسے ہجرت کر تے ہو ئے اس جزیرے پر نا صرف قدم رکھا بلکہ اپنے خاندان اور بستی کے لوگوں کو یہاں لاکرآباد کیااور انہیں بحری قذاقوں سے بچا نے کے لئے اس کے چاروں اطراف فصیل شہر تعمیر کروائی جسے انگریزوں نے 1860میں فصیل شہر کو مسمار کر دیا اور شہر با ہر کی طرف نکل گیا ابتدائی طور پر کیماڑی ،کھارادر ،میٹھادر ،لیاری ،رنچھوڑ لا ئن ،صدر کے علاقے آباد ہو ئے جبکہ اس کا اختتام ماضی کے مکھی چوہٹ رام روڈ اور ڈولی کھا تہ جو کہ گارڈن کے ساتھ منسلک تھا پر ہوا اور اس علاقے کو بر طانوی فوجیوں کی رہائش کے سبب سولجر بازار کا نام دیا گیا لیکن بعض مورخین کا دعوی ہے کہ شہر کراچی جسے مختلف ناموں سے جا نا اور ما نا جا تا رہا انتہا ئی قدیم ہے جس کی زندہ مثال سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی کا مزار مبارک ہے جسے 1258برس گزر چکے ہیں انہیں ماہرین کا دعوی یہ ہے کہ جس طرح یہ مزار قدیم ہے ٹھیک اسی طرح سولجر بازار میں واقع پنچ مکھی ہنومان مندر بھی ہے جس کے بارے میں ہندو برادری کے ماننے والوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اس مقام پر ایک سادھو کی عبادت کے سبب پنچ مکھی ہنومان زمین کی 7ویں تہہ سے سفر کرتے ہو ئے یہاں تک پہنچے اور انہوں نے سادھوں کو بشارت دی کہ وہ 7مٹھی مٹی موجودہ قدیم مندر کی جگہ سے نکا لیں جس پر سادھو نے جیسے ہی مٹی نکا لی پنچ مکھی ہنومان کی مورتی زمین سے باہر آگئی ۔

جو کہ آج بھی موجودہے اور دور دراز سے لوگ پوری دنیا سے ناصرف یہاں آتے ہیں بلکہ 5 بار ،15 اور51بار اس کا طواف کر کے اپنی تمام پریشانیوں کو دور کر دیتے ہیںاس مندر کے مہاراج جو کئی پشتوں سے چلے آ رہے ہیں ان دنوں شری رام ناتھ ہیں اور ان کا بھی ماننا یہ ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد مندر ہے جہاں خود پنچ مکھی ہنومان کا ظہور ہوا اور اسی حوالے سے اسے دنیا بھر میں خاص شہرت حاصل ہے اور لوگ دور دراز سے مندر کے درشن کر نے یہاں آتے ہیں گوکہ اس علاقے میں 3 سے زائد مندر ہیں مگر قدامت کے لحاظ سے اس مندر کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اس مندر کا ذکر ویسے تو ہندو برادری کے تمام لوگ کر تے ہیں مگر اس حوالے سے تاریخ داںبھی یہ دعوے کر تے ہیں کہ یہ مندر کم از کم 1500سال قدیم ہے اور اس کا ذکر ہندئوں کی مقدس کتاب رامائن اور البیرو نی میں بھی درج ہے جبکہ اس کی قدامت پتھروں سے بنے اس مندر کی تعمیرات سے بھی کیا جا سکتا ہے اور آج بھی مندر کے اوپر بنے ہو ئے گنبد جس پر مختلف بھگوان اور اوتار کے مجسمے موجود ہیں دیکھنے والوں کو ایک لمحے کے لئے محبوط کر دیتی ہے اس مندر میں ناصرشری پنچ مکھی کی مورتی نصب ہے جس میں مندر کے اندر شیراں والی ماتا جی ،مری ماتا سمیت لاتعداد بھگوان اور اوتاروں کے بت علیحدہ علیحدہ بنا ئے گئے مندروں میں موجود ہیں جن کی ایک طویل عرصے سے ہندو برادری دن رات پوجا کر تی ہے انہیں مندروں میں رادھے کرشن کی مورتی بھی نصب ہے جو کہ ماضی میںمکمل طور پر چند ن کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی جو کہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جبکہ مندر کے اندر رکھی گئی دیگر مورتیاں بھی اپنے قدامت کی دلیل پیش کر تی ہیں

اس حوالے سے بعض مورخین کا دعوی یہ بھی ہے کہ پہلے یہ مندر ایک جزیرے پر بنا یا گیا تھا اور لوگ کشتیوں کے ذریعے دور دراز کا سفر کر کے پوجا پاٹ کے لئے یہاں آیا کر تے تھے مگر یہ دعوے کسی طور پر درست نہیں کیونکہ ماضی میں کبھی اس علاقے میں جزیرہ نہیں تھا بلکہ اس کا شمار پہاڑی علاقوں کے طور پر کیا جا تا تھا اور یہ شہر کا آخری سرا ہو تا تھا ۔گوکہ تالپور دور میں کیپٹن ہارڈ نے بھی اپنی کتاب میں اس مندر کا ذکر کیا ہے اور 150سال قبل انگریز الیگزینڈر جان ایف بیلی نے بھی اس مندر کی قدامت کا ذکر کیا ہے مگر اس حوالے سے بیشتر تاریخ داں اس بات سے متفق نہیں لیکن اس کے با وجود آج بھی اس مندر میں دنیا بھر اور دور دراز سے لوگ آتے ہیں اور شام ہو تے ہی ناصرف اس مندر پر پوجا پاٹ کر نے والوں کا رش لگ جا تا ہے بلکہ لوگ بڑے پیما نے پر پرشاد کی تقسیم کر نے کے ساتھ ساتھ گوشالہ میں گائیوں کو چارہ کھلا رہے ہو تے ہیں ۔

(369 بار دیکھا گیا)

تبصرے