Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کے شہری سہولتوں سے محروم ہیں

قومی نیوز هفته 29 جون 2019
کراچی کے شہری سہولتوں سے محروم ہیں

اسلام آباد …… ورلڈ بینک نے پاکستان کے لئے 722 ملین ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی ادارے سے ملنے والی رقم کا زیادہ حصہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری اور شہری سہولتوں کے 3 منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ شہر قائد کی بحالی‘ عوام کے لئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور انہیں بہتر معیار زندگی دینے کے لئے 10 ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ شہر کی ترقی کے لئے کام کرنے والے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان‘ انتظامی کمزوریوں‘ غیر واضح اور مبہم قواعد نے شہریوں کے مسائل کو مزید بڑھادیا ہے۔ امریکی شہر واشنگٹن میں قائم عالمی ادارے کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیے کے مطابق 722 ملین ڈالر میں سے ورلڈ بینک نے 652 ملین ڈالر کراچی کے منصوبوں پر لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت شہری اداروں کو مضبوط بنانے، بلدیاتی سروسز اور شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کا کام کیا جائے گا۔ ورلڈ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس قرض کی منظوری ایک روزقبل یعنی جمعرات کو دی تھی۔

اس کے علاوہ ورلڈ بینک نے خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھی 70 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔ ورلڈ بینک حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے منصوبوں میں صاف پانی کی شہریوں کو فراہمی، پبلک ٹرانسپورٹ، صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں تاکہ کراچی کے شہری بہتر ماحول اور اچھے معیار زندگی میں رہیں۔ عالمی ادارے کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق شہر کراچی کو آئندہ 10 سال میں 9 سے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی شہری مسائل کو حل کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق وسائل کی کمی کی وجہ سے شہریوں کو وہ سہولتیں نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شہر کے اپنے وسائل بہت کم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی سے جمع کیا جانے والے پراپرٹی ٹیکس کا حجم مایوس کن ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب نے کراچی سے چار گنا زیادہ ٹیکس وصولی کی ہے۔ ورلڈ بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر الانگو پاچاموتھو (Illango Patchamuthu)کا کہنا ہے کہ ہم کراچی کے شہریوں کو بہتر سے بہتر معیار زندگی فراہم کرنے اور انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے پُر عزم ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر شہر میں 20 سے زائد محکمے شہر کی ترقی، صفائی اور عوام کو سہولتیں پہنچانے کے کاموں کو دیکھ رہے ہیں لیکن منصوبہ بندی اور رابطو ں کے فقدان کی وجہ سے شہر کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں، اس کے علاوہ شہر کی ضروریات کے مطابق سرمایہ کاری بھی نہیں کی جارہی۔ انتظامی کمزوریوں ، مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان زمین کے تنازعات اور اداروں کی محدود استعداد کار بھی شہر کے مسائل بڑھنے کے اسباب ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق شہریوں کے معیار زندگی کے حوالے سے عالمی انڈیکس میں کراچی نیچے سے 10ویں نمبر پر ہے۔ گنجان آبادی والے کراچی میں جہاں ایک مربع کلومیٹر پر تقریباً20ہزار افراد رہتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کی جامع پالیسی نظر نہیں آتی لیکن روزانہ ہزاروں نئی گاڑیاں ضرور شہر کی سڑکوں پر آجاتی ہیں۔عالمی رپورٹ کے مطابق کراچی پانی اور صفائی ستھرائی کے سنگین بحرانوں سے گزررہا ہے جس کی بڑی وجہ مایوس کن حکومتی اقدامات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں روزانہ پانی کی فراہمی کے تناظر میں صرف 55فیصد ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

(321 بار دیکھا گیا)

تبصرے