Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 16  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سوئس بنکوں میں پاکستانی کی رقوم34فیصد کم

ویب ڈیسک جمعه 28 جون 2019
سوئس بنکوں میں پاکستانی کی رقوم34فیصد کم

لندن … سوئس بنکوں میں پاکستانی شہریوں اور کاروباری اداروں کی جانب سے رکھی گئی رقوم 2018 میں 33فیصد کم ہوکر 744 ملین سوئس فرانک رہ گئیں۔ جمعرات کو شائع ہونے والے سوئس نیشنل بنک کے سالانہ اعدادوشمار کے مطابق یہ رقوم گزشتہ چار سال میں پہلی بار انڈین فنڈز سے بھی کم ہوگئیں۔

سوئس بنکوں میں رکھی گئیں پاکستانی رقوم 2017 میں 20فیصد کم ہو کر1115ملین ہوئیں جبکہ2016 میں 6 فیصد کم ہوگئیں۔ قبل ازیں 2015 میں ان فنڈز میں 16 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ رپورٹ میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ گزشتہ چار سال میں پہلی بار پاکستان نے پڑوسی ملک بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کی کل رقوم 572 ملین سوئس فرانک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عمر شریف کواچانک دل کی تکلیف

رپورٹ میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی گئی کہ کیا یہ فنڈز غیر قانونی ذرائع سے حاصل کئے گئے تھے۔ یہ امر دلچسپی سے نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ ایس این بی نے ان اعدادوشمار میں وہ رقوم شامل نہیں کی ہیں جو سوئس بنکوں کے غیر ملکی کلائنٹس شیل کمپنیوں کے نام پر رکھتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں یہ امر یقینی ہوگا کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے سوئٹزرلینڈ میں رکھے گئے بنک اکائونٹس کے بارے میں مالیاتی معلومات اس کے برعکس خودکار بنیاد پر ہر سال شیئر کی جائیں گی۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک 2020 سے بنکنگ اعدادوشمار جمع کرنا شروع کریں گے اور 2021 سے سالانہ بنیاد پر ان کا تبادلہ کیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا نے ایک روز قبل رپورٹ دی تھی کہ سوئٹزرلینڈ سے بینکنگ معلومات کا خودکار تبادلہ شروع ہوگیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے ٹیکس امور میں باہمی انتظامی امداد پرکثیر ملکی کنونشن پر پہلی بار 2014 میں دستخط کئے تھے۔ سوئس پارلیمنٹ نے ڈیل کی منظوری 2015 میں دی جس کی تصدیق 2016 میں کی گئی اور اسے یکم جنوری 2017 سے نافذ کیا گیا۔

(1986 بار دیکھا گیا)

تبصرے