Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

40 ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی خریدوفروخت بند

ویب ڈیسک جمعه 21 جون 2019
40 ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی خریدوفروخت بند

لاہور … اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو 40 ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی فروخت سے منع کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ فوری طور پر 40 ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی فروخت بند کردیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز تمام کمرشل بینکوں نے اسٹیٹ بینک کا حکم نامہ ملنے کے بعد 40 ہزار مالیت کے پرائز بانڈز کی فروخت کے ساتھ ساتھ خرید بھی فوری طور پر بند کردی۔

اس اطلاع پر 40 ہزار روپے والے پرائز بانڈز رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شہر کے مختلف بینکوں میں پہنچ گئی‘ تاہم شہری اپنے پاس موجود 40 ہزار کے پرائز بانڈز بینکوں کو واپس فروخت نہ کرسکے۔

ایک بینکار کے مطابق 40 ہزار کے پرائز بانڈز کی خریدو فروخت پر پابندی سے ملک کی ما یاتی منڈی میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 40 ہزار سال قدیم بھیڑیے کا منجمد سر مل گیا

اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ای سی سی کے ایک اجلاس جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ نے کی‘ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 40 ہزار روپے والے پرائز بانڈز کی خریدو فروخت کو ریگولیٹ کیا جائے گا جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی جبکہ ذرائع کو موصول ہونے والے خط کے مطابق پابندی عائد کردی گئی ہے‘ واضح رہے کہ حکومت پہلے ہی 40 ہزار روپے مالیت کے بانڈز کی رجسٹریشن کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

حکومت نے 40 ہزارروپے کا پرائزبانڈ رکھنے والوں کو اپنے پرائزبانڈ رجسٹر کروانے کیلئے 31 مارچ 2020ء تک کی مہلت دیدی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ ای سی سی کے فیصلے کے مطابق40ہزار روپے والے بیئر رپرائز بانڈہولڈر کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ اپنے بانڈز کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک، ایم سی بی بینک، الائیڈ بینک آف پاکستان، حبیب بینک آف پاکستان اور بینک الفلاح کی مجازبرانچزسے رجسٹرڈ پرائز بانڈ میں تبدیل کروا سکے گا۔

اعلامیہ کے مطابق 40 ہزارروپے کا بیئرر پرائز بانڈ رکھنے والوں کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ اس کے بدلے میں ڈیفنس سیونگز سرٹیفیکٹس یا سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس سٹیٹ بینک آف پاکستان، کمرشل بینکس کی مجاز برانچوں یا مراکز قومی بچت سے حاصل کرسکتے ہیں۔

(1517 بار دیکھا گیا)

تبصرے