Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈولی کھاتہ سے سولجر بازار تک

مختار احمد جمعرات 20 جون 2019
ڈولی کھاتہ سے سولجر بازار تک

اتوار کا دن تھا میں ماضٰ کے ڈولی کھاتہ اور آج کے سولجر بازار سے گزر رہا تھا کہ اچا نک مجھے بر صغیر پاک و ہند کے وہ معروف گلوکاریعنی کے محمد رفیع بے ساختہ یاد آئے جن کے گلے میں سر بولتا تھا مجھے بلخصوص اس علاقے کو دیکھ کران کا دنیا کے تمام بیٹیوں کے لئے گا یا ہوا وہ گا نا اٹھو رے ڈولی— اٹھائو کہار —پیا ملن کی رتھ آئی ہے یاآیا جو کہ ماضی میں دلہن کی ڈولی کے ذریعے رخصتی کے ساتھ اب قیمتی گاڑیوں میں رخصتی میں بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا کے ماضی میں تھا یہ گیت محمد رفیع کا وہ گیت تھا جس کے انہوں نے پیسے بھی نہیں دئے تھے اور گا نا اس جذباتی انداز سے گا یا کہ اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں پاسکے

انہوں نے اس گا نے کو بیٹیوں کے لئے تحفہ قرار دیتے ہو ئے اسے شادی شدہ زندگی میں قدم رکھنے والی لڑکیوں کے لئے ٹریبیوٹ کردیا جس کے تحت آج بھی عموماشادی بیاہ کے موقع پر پورے جذبات سے گا ئے جا نے والی اس گا نے کی ریکارڈنگ ہو تی ہے لیکن کیو نکہ اب دلہنوں کی رخصتی کے لئے ڈولیوں کا استعمال نہیں کیا جا تا لہذا نا صرف یہ ڈولیاں ختم ہو چکی ہیں بلکہ اسے اٹھا نے والے کہار بھی یا تو موجود نہیں یا پھر انہوں نے دوسرا پیشہ اختیار کر لیا ہے سولجر بازار کا علاقہ جو کہ ماضی میں ڈولی کھاتہ کہلا تا تھا یہاں ایک مخصوص علاقے میں ہر گھر کے آگے ماضی میں نا صرف دیدہ زیب سجی سجا ئی ڈولیاں رکھی نظر آتی تھیں بلکہ اسی جگہ بڑی تعداد میں یہ کہار آباد تھے

جنہیں دلہن کی ڈولی اٹھا نے کے لئے شہر کراچی کے مختلف علاقوں سے لوگ آکر ان کی بکنگ کر تے تھے اور پھر شام میں 4کہار کبھی اس سے زیادہ سرخ اور سبز وردیوںمیں دلہن کے گھر پہنچ جا تے تھے جہاں نا صرف ایک بارپھر اس ڈولی کو پھولوں سے سجا یا جا تا تھا بلکہ دلہن کو اس ڈولی میں بٹھا کر میکے سے سسرال رخصت کیا جا تا تھا اس موقع پر مشرقی روایات کے مطابق باپ ،بھائی ،بہن اور رشتہ دار نا صرف ایک دوسرے سے گلے لگ لگ کر رو تے تھے ۔

جس کے تحت انتہا ئی جذباتی مناظر کے ساتھ دلہن کی رخصتی عمل میں آجا تی تھی اور اس کے عیوض ان کہاروں کو ڈولی اٹھا نے اور ڈولی کے کرا یے کے طور پر کچھ رقم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مٹھا ئی اور کھا نے بھی دئے جا تے جس کے تحت حلال کی روزی کما نے والے یہ کہار اپنے خاندانوں کے ہمراہ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے مگر جیسے جیسے ترقی کا عمل شروع ہوا اور دلہنیں ڈولیوں کے بجا ئے مہنگی ترین کاروں میں رخصت کی جا نے لگیں نا صرف ڈولیاںختم ہو گئیں بلکہ اسے اٹھا نے والے کہار بھی یا تو با قی نہ رہے یا پھر انہوں نے اپنا پیشہ تبدیل کر لیا لہذا اب نہ تو ڈولیاں بچی ہیں اور نہ وہ کہار لیکن اب بطور فیشن کچھ شادی کے انتظامات کر نے والی کچھ خواتین نے دوبارہ سے ڈولیوں میں رخصتی کے اس حسن کو واپس لا نے کے لئے دلہنوں کی میرج گارڈن کے اندر سے باہر گاڑی تک رخصتی کے لئے اس کا استعمال پھر سے شروع کردیا ہے جو کہ ظاہر ہے ماضی کی طرح اب تک مقبولیت حاصل نہ کر سکی اور محض چند پوش خاندان ڈولیوں کے ذریعے بیٹیوں کی رخصتی کر رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برا بر ہے اب جہاں تک ماضی کے ڈولی کھا تے کا تعلق ہے تو یہ بستی اب بھی اپنی پرانی جگہ پر ہی موجود ہے لیکن اسے شہر کے آخری سرے جہاں 1839میں برطانوی فوجیوں نے سندھ پر قبضے کے بعد اپنے فوجیوں سولجر بازار کا نام دے کر بسایا تھا اب مکمل طور پر سو لجر بازار میں تبدیل ہو چکا ہے اور قیام پاکستان کو طویل عرصہ گزر جا نے کے با وجود اس کے نام کو اب تک مسلمان نہیں کیا جا سکا ہے سولجر بازار کا شمار شہر کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں کیا جا تا ہے ۔ سولجر بازار کے اس علاقے میں کو ئی عام افراد نہیں بستے تھے بلکہ اس کا شمار شہر کے پوش علاقوں میں ٹھیک اسی طرح کیا جا تا تھا اور اسے آج کے ڈیفنس کے علاقے کی طرح پوش علاقوں میںشمار کیا جا تاہے ابتدائی طور پر تو یہاں صرف بر طانوی افواج کے افسران اور سپا ہی آباد ہو ئے مگر دھیرے دھیرے پر سکون علاقہ ہو نے کے سبب صاحب حیثیت لوگوں نے یہاں رہائش اختیار کر نا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے سولجر بازار کے اس علاقے بلخصوص اس سے ملحق عامل کا لو نی میں شہر کے مشہور و معروف لوگوں جن کا تعلق پارسی ،عیسائی اورہندو و دیگر مذاہب سے تھا اس علاقے میں رہائش اختیار کر نا شروع کر دی یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس علاقے کے اندر قدیم مندر ،چرچز ، مساجد اورامام بارگاہ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور مختلف رنگ و نسل و مذاہب کے لوگ یہاں آباد ہیں جن میں اس وقت سب سے کثیر تعداد مسلمانوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سر کلر ریلوے غریبوں کی خوشحالی یا بربادی؟

جو کہ آج بھی ایک دوسرے پر محبتیں نچھاور کر تے ہیں سولجر بازار کا یہ علاقہ جو کہ ماضی میں ایک پوش علاقے کے طور پر جا نا جا تا تھا اور یہاں پارسیوں ،انگریزوں ،یہودیوں اور مسلمانوں نے رہائش کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک بنگلوزاور عمارتیں تعمیر کر وائیں جو کہ آج بھی لوگوں کو چند لمحوں کے لئے مہبوط کر دیتی ہیں اور انہیں دیکھنے والا حیرت کے سمندر میں غوتے لگا تا ہے کہ با لا آخر 100 سے150 سال قبل تعمیرات کے لئے مشینیں بھی موجود نہیں تھیں تو آخر کس طرح ان دیدہ زیب عمارتوں کی تعمیر کی گئی تھی گو کہ آج بھی یہ قدیم عمارتیں لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں مگر آج پارسی کالونی ،کیتھولک کا لو نی سمیت دیگرعلاقوں کے اندر ماضی میںذوق و شوق سے عمارتیں تعمیر کر وانے والے لوگ آباد نہیں ان میں سے بیشتر عمارتوں پر یا تو دوسرے قابض ہو گئے ہیں جبکہ بعض دیدہ مکانوں کو تو لینڈ گریبرز نے مکمل طور پر توڑ پھوڑ کر تے ہو ئے تباہ و بر باد کر دیا ہے جن میں 86 سال قدیم اسکول جوفل ہیرسٹ اسکول بھی شامل ہے ۔کیو نکہ سولجر بازار کا یہ علاقہ فو جیوں کا علاقہ تھا لہذا انہوں نے پورے علاقے کو انتہا ئی تر تیب کے ساتھ آباد کیا جہاں ماضی کے وکٹوریہ گارڈن جو کہ آج کا چڑیا گھر ہے میں باغات لگوائے جہاں انگور ،سیب ،آم و دیگر پھلوں کے بڑے بڑے درخت تھے جن کے پھلوں کو نا صرف فوجیوں کو دیا جا تھا تھا بلکہ ان کی فروخت سے بھاری آمدن بھی حاصل کی جا تی تھی انگریز سرکار نے ہی یہاں کئی ہسپتال ،ڈسپنسریاں ،بیکری اور کلب قائم کئے جہاں یہاں کے بسنے والوں کو تمام تر تفریحی سہولیات حاصل تھیں یہی وجہ تھی کہ اس علاقے میں شہر کے سب سے زیادہ معزز لوگ جن میں تاجر ،سیاستداں ،بینکر ،ججز آباد تھے اس علاقے نے لا تعداد سپوتوں جنہوں نے آگے چل کر ملک و قوم کا نام روشن کیا کو پیدا کی جن میں سابق وزیر اعظم محتر مہ بینظیر بھٹو شہید بھی شامل ہیں جو کہ اسی علاقے میں ڈاکٹر پینٹو کے ہسپتال میں پیدا ہو ئیں جو کہ آج ہسپتال تو نہیں ایک کمپائونڈ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں لوگ رہائش پذیر ہیں ۔

اس علاقے میں انگریزوں نے اپنے فو جیوں کو خرید و فروخت کی سہو لیات فرا ہم کر نے کے لئے سولجر بازار کے نام سے ایک مارکیٹ آباد کی جہاں ابتدا میں تو مقامی افراد کو خرید و فروخت کی اجازت نہیں تھی اور صرف فو جی یا ان کی بیگمات خریداری کر سکتے تھے مگر جب اس علاقے جس کا شمار شہر کے مہنگے ترین علاقے میں کیا جا تا تھا اور یہاں صرف اعلی شخصیات اور معزز خاندان آباد تھے لہذا کچھ عرصے بعد انہیں بھی اس مارکیٹ سے خریداری کی اجازت دے دی گئی اسی مارکیٹ میں انگریزوں نے سب سے پہلے ایک بیکری بھی قائم کی جہاں سے تمام فوجی چھائونیوں میں ڈبل روٹی ،کیک و دیگر اشیا کی سپلا ئی دی جا تی تھی جبکہ اس علاقے میں یہاں کے بسنے والوں کو سفری سہولیات مہیا کر نے کے لئے وکٹوریا ٹیکسیاں ،بسیں اور یہاں تک کے ٹرامیں چلا ئی گئیں اور یہ ٹرا موں کا آخری اسٹاپ بنا کیو نکہ اس علاقے سے آگے ماسوائے جھاڑ جھنکاڑ یا دو چار کچی آبادیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھالہذا شہر کا آخری کو نا ہو نے کے نا طے اس علاقے میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام کئے گئے مگر آج ماضی کا ڈولی کھا تہ آج کے سولجر بازار کے متعدد علاقے تبا ہی و بربادی کے مناظر پیش کر رہے ہیں اور بیش قیمت عمارتیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں جن کا کو ئی پر سان حال نہیں ۔

(376 بار دیکھا گیا)

تبصرے