Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

صنعتیں بند بے روزگاری بڑھے گی

ویب ڈیسک بدھ 12 جون 2019
صنعتیں بند بے روزگاری بڑھے گی

اسلام آباد……. پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2019-20 کا بجٹ پیش کردیا جس کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے جبکہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

قو می اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف نے شدید احتجاج اور ہنگامہ کیا ‘اپوزیشن ارکان نے سیاہ پٹیاں باندھ کراجلاس میں شرکت کی ، اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر لہرائیں،اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان دھکم پیل ہوئی اور ہاتھاپائی ہوئی‘مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید عباسی اور تحریک انصاف کے شاہد خٹک آپس میں گتھم گتھا ہوگئے

اس لڑائی میں دیگر حکومتی اور اپوزیشن اراکین بھی کود پڑے ‘ وفاقی وزرانے وزیراعظم عمران خان کے گرد حفاظتی حصار بنایا اورا سپیکر ڈائس تک اپوزیشن اراکین کو حکومتی بنچوں کی طرف آ نے سے روکنے کیلئے حفاظتی زنجیر بنائی اور اپوزیشن کو پیچھے دھکیلتے رہے‘ اپوزیشن اراکین نے گو نیازی گو ، گلی گلی میں شور ہے علیمہ باجی چور ہے ، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیاز ی کے نعرے لگائے، اپوزیشن اراکین کے پاس پلے کارڈ ز پر “چندہ چور نیازی ، نا منظور،آئی ایم ایف کی پالیسیاںنامنظور،عوامی استحصال نامنظور،مہنگائی بم نا منظور ،جھوٹے وعدے نا منظور،پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کا بجٹ نامنظور،کٹ پتلی تماشہ نامنظور،ایسی تبدیلی نامنظور کے نعرے درج تھے

حکومتی اراکین نے چور مچائے شور، کراچی کو پانی دو کے پلے کارڈز اٹھائے اور اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی کی،بجٹ تقریر ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور اپوزیشن کی جانب وکٹری کا نشان بنایا۔ حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔

بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے، مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سے بڑھاکر 13 فیصد جبکہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سے بڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپے کلوبڑھے گی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانے کے فیصلہ کیا گیا ہے۔بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آم کی برآمدات کا آغاز 20مئی سے ہوگا

وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جبکہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گازیرمملکت نے بتایا کہ دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسے مقدم ہے، سول اور عسکری حکام نے اپنے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے تاہم دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا، حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب اور بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں، سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔بجٹ میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے 59 ارب 10 کروڑ جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 4ارب،79کروڑ67لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

وزیرمملکت نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے،بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہیاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیدوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے اور فاٹا کے علاقوں کے لیے 152ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرمملکت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے21 تک کیملازمیں کیلئیپانچ فیصد اضافہ کیاگیا ہے جب کہ وفاقی کابینہ کے وزرانے اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، ادویات کی پیداوارکے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری کیلییچیزوں میں سیلزٹیکس 17 سے کم کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔نان فائلرز پر 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کردی گئی اب نان فائلرز بھی بھاری مالیت کی جائیداد خرید سکے گا۔ اسی طرح نان فائلرز پر گاڑی خریدنے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ پر تاجر برادری کا کہنا ہے کہ5550 ارب محاصل کا ہدف حاصل کرنا بہت مشکل ہے، چینی، سیمنٹ کی قیمت اضافے سے ریلیف دینے کا حکومتی دعویٰ غلط ثابت ہوا، عمران خان سے امیدیں تھیں پورا نہیں اترے، سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ سے اپنا گھر بنانے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، نئے بجٹ کے نتیجے میںصنعتیں بند اور بیروزگاری بڑھے گی

روز مرہ استعمال اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہونے سے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی جبکہ کاشتکار رہنمائوں کا کہنا ہے کہ آلو، پیاز، زرعی پیداوار پر ٹیکس سے کسا ن اور عوام متاثر ہوں گے۔ کراچی چیمبر کے صدر جنید اسمعیل مکڈا سابق صدر سراج قاسم تیلی، زبیر موتی والا، ہارون فاروقی، انجم نثار، شمیم احمد فرپو، اور جاوید بلوانی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں دیگر تاجروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں کئی اقدامات خوش آئند کیے ہیں اور 5 ہزار 550 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف طے کیا گیا جو گزشتہ سال سے 1550 سے 1600 ارب زیادہ ہے تاہم ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : کاروباری برادری کے 315 ارب روپے ڈوب گئے

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں چینی کی قیمتوں پر لگنے والے ٹیکس میں اضافے سے حکومت کا عام آدمی کو ریلیف دینے کا دعوی غلط ثابت ہوا جبکہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنا گھر بنانے کے خواہش مند افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے جو عمران خان سے امیدیں رکھی تھیں اس پر وہ پورا نہیں اترے ڈالر کی وجہ سے صنعتوں کا پہلے ہی برا حال ہے صنعت کار اتنا ٹیکس کہاں سے دیں، موجودہ صورتحال کے تناظر میں خطرہ ہے کہ کئی صنعتیں بند ہوجائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس صنعت پر وہ ٹیکس لگارہے ہیں کیا اس کی اتنی استطاعت ہے کہ وہ اضافی ٹیکس ادا کرسکے۔

انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ میں تبدیلیاں کرنی چاہیے۔اقتصادی ماہرین نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے عام آدمی ہی نہیں متوسط طبقہ بھی متاثر ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ بجٹ تجاویز میں آئی ایم ایف کا ہاتھ واضح نظر آرہا ہے اور حکومت نے چھ ارب ڈالر کی وصولی یقینی بنانے کے لیے پیشگی سخت شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے بجٹ میں کڑی تجاویز کو جگہ دی۔

سینئر ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بجٹ پر صاف الفاظ میں کہا ہے کہ پیش کردہ بجٹ بالکل قابل عمل نہیں ، 5,550ارب کا ہدف حاصل کرنا قطعی ناممکن ہے۔ بجٹ میں کوئی ٹارگیٹ پیش نہیں کیا گیا ،جی ڈی پی کا ہد ف 2.4فیصد حاصل کرنا’مشن امپوسیبل ‘ ہے ماضی میں کبھی بھی 40فیصد اآمدن کا ہدف نہیں رکھا گیا ، اس کا مقصد ہر گھر کو 65ہزار روپئے سالانہ ہر گھر پر بوجھ ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ پچاس ہزار روپئے تک کی تنخوا دار افراد کو دو تنخواہوں کی قربانی دینی ہوگی جس سے ٹیکس بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف میں ساٹھ فیصد رقم صرف قرضے سروسنگ میں چلی جائے گی۔افراط زر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف خیال ہے افراط زر اس سے کہیں زیادہ بڑھے گی۔ ایکسپورٹ سیکٹر پر 17فیصد ٹیکس لگا نے کا مطلب پاکستانی ایکسپورٹ کو تباہ کرنا ہے۔

(311 بار دیکھا گیا)

تبصرے