Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پانی ‘ بجلی غائب‘ شہریوں کا پارہ ہائی

راؤ عمران اشفاق بدھ 29 مئی 2019
پانی ‘ بجلی غائب‘ شہریوں کا پارہ ہائی

کراچی… شہر میں گرمی کا پارہ ہائی ہوتے ہی پانی غائب ہوگیا‘ رمضان المبارک میں پانی کی قلت کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہوگئے‘ آج صبح لیاری کے مکینوں نے ماڑی پور روڈ پر دھرنا دے کر کراچی بندرگاہ جانے والے راستے بند کردیئے‘ نارتھ ناظم آباد‘ بورڈ آفس‘ ضیاء الدین اسپتال‘ سرجانی‘ اورنگی ٹائون میں بھی مشتعل شہریوں کی ہنگامہ آرائی‘ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے ایم ڈی واٹر بورڈ آفس کا گھیرائو کرلیا

وزیر بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ کی برطرفی کا مطالبہ‘ لیاری میں مکینوں نے واٹر بورڈ کا علامتی جنازہ نکال دیا، اطلاعات کے مطابق شہر میں گرمی کا پارہ ہائی ہوتے ہی پانی کا بحران بھی سنگین ہوگیا ہے‘ پانی کی قلت کے باعث شہری روزے کی حالت میں سڑک پر نکل آئے۔

آج صبح سحری کے وقت لیاری‘ کھڈا مارکیٹ‘ مچھر کالونی‘ کلری کے علاقوں کے سینکڑوں خواتین‘ بچے اور مرد ماڑی پور روڈ پر نکل آئے‘ خواتین ہائے ہائے پانی کے نعرے لگارہی تھیں‘ مشتعل افراد نے پتھرائو کرکے ٹریفک معطل کردیا۔

اس موقع پر مشتعل افراد نے ایم ڈی واٹر بورڈ کا پتلا نذر آتش اور واٹر بورڈ کا علامتی جنازہ بھی نکالا‘ احتجاج کے باعث کراچی بندرگاہ جانے والے راستے بند ہونے سے بندرگاہ پر بھی عارضی طور پر کام رک گیا‘بدترین ٹریفک جام ہوگیا‘مظاہرین نے 4 گھنٹے تک احتجاج کیا۔

ادھر سرجانی ٹائون کے مکینوں نے ناردرن بائی پاس پر دھرنا دے کر پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کیا۔ جبکہ اورنگی ٹائون میں بھی پانی کی قلت پر مکین سڑکوں پر نکل آئے۔

ناظم آباد کے علاقے میٹرک بورڈ آفس کے اطراف کی آبادیوں میں رہائش پذیر شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑک پر نکل کر احتجاج شروع کردیا ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بھی علاقے میں نہ بجلی اور نہ پانی ہے ، علاقہ مکین مہنگے داموں پانی خرید کر پینے پر مجبور ہوگئے ہیں

یہ بھی پڑھیں :

مظاہرے کی وجہ سے مذکورہ سڑک اور اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا ، حیدری کے علاقے ضیاء الدین اسپتال کے قریب روڈ پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد پانی کی بندش اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر نکل آئی اور بجلی انتظامیہ اورپانی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی ، جس کی وجہ سے مذکورہ سڑک اور اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا

احتجاج کی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کرنے کی کوشش کی، جس پر مظاہرین منتشر ہوگئے جس کے بعد پولیس نے ٹریفک کی روانی کو بحال کروایا۔علاوہ ازیں کراچی میں پانی کی قلت کے خلاف تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی نے منگل کو ایم ڈی واٹربورڈ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا

اپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی اور خرم شیرزمان نے کہاکہ اس وقت پورے شہر میں پانی موجود نہیں اگر مل رہا ہے تو 5ہزار روپے کا ٹینکر ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیربلدیات سعیدغنی کو برطرف، ایم ڈی کو تبدیل کیا جائے، دوسری جانب ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا ہے کہ شہر کے کونے کونے میں پانی کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔

تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی نے کہاہے کہ اگر کراچی میں پانی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی حکومت نہیں کرسکے گی ،کے فور منصوبہ کی اصل لاگت 25ارب روپے تھی جواب بڑھ کر 200ارب ہونے جاری ہے، وفاقی حکومت اب تک 12 ارب روپے دے چکی ہے، منصوبے کو سندھ حکومت نے مکمل کرنا ہے،

خرم شیرزمان نے کہاکہ جن گھروں میں تھوڑا بہت پانی سپلائی کیا جارہا ہے وہ آلودہ ہے،سندھ میں رہنے والا ہر بچہ جانتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بیڑاغرق کردیا ، آج کراچی کے ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے احتجاج کررہے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو صاف ستھرا پانی دیا جائے منصفابہ تقسیم کا نظام بنایا جائے ٹینکرمافیا کا خاتمہ کیا جائے، 11سال کے دوران جتنے بھی ایم ڈی بینک اکائونٹ اور جائیداداوں کی تحقیقات کی جائے۔

(366 بار دیکھا گیا)

تبصرے