Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جزیروں کی سحری -----جزیروں کی افطاری

تحریروتحقیق: مختاراحمد جمعه 24 مئی 2019
جزیروں کی سحری -----جزیروں کی افطاری

رمضان المبا رک کا مقدس مہینا شروع ہو تے ہی دنیا بھر میں استقبال رمضان کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو جا تی ہیں اور اس ضمن میں چاند رات کوہی نماز تراویح سے رمضان المبا رک کا استقبال شروع ہو جا تا ہے جس کے بعد لوگ کچھ دیر آرام کر تے ہیں اور پھر دنیا بھر میں مختلف اقوام و قبا ئل کے لوگ سحری جگا نے اور سحری پکا نے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیںاس سلسلے میں کہیں توپ داغ کر روزہ رکھنے اور کھلنے کا اعلان کیا جا تا ہے تو کہیں کہیں ڈرم اور بگل بجا کر سحری جگا نے کی روایت قائم ہے لیکن اسلامی روایات کے مطابق مسلمانوں کے اولین مساہراتی (منادی کرنے والے) حضرت بلال حبشی تھے جو اسلام کے پہلے موذن بھی تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کی ذمہ داری لگائی تھی کہ وہ اہل ایمان کو سحری کے لیے بیدار کریںمکہ المکرمہ میں مساہراتی کو زمزمی کہتے ہیںوہ فانوس اٹھا کر شہر کے مختلف علاقوں کے چکر لگاتا ہے تاکہ اگر کوئی شخص آواز سے بیدار نہیں ہوتا تو وہ روشنی سے جاگ جائے اسی طرح سوڈان میں مساہراتی گلیوں کے چکر لگاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ان تمام افراد کی فہرست ہوتی ہے جن کو سحری کے لیے آواز دے کر اٹھانا مقصود ہوتا ہے مصر میں سحری کے وقت دیہاتوں اور شہروں میں ایک شخص لالٹین تھامے ہر گھر کے سامنے کھڑا ہوکر اس کے رہائشی کا نام پکارتا ہے یا پھر گلی کے ایک کونے میں کھڑا ہوکر ڈرم کی تھاپ پر حمد پڑھتا ہے اسی طرح ایشیا اور بلخصوص پاکستان میں بھی سحری جگا نے کے لئے نت نئے طریقے آزما ئے جا تے ہیں جس کے تحت کہیں تو ڈھول ،ڈف،کنستر بجا کر سحری میں لوگوں کو جگا یا جا تا ہے تو کہیں کہیں نو جوان لڑ کے ٹولیاں بنا کر رات بھر گلیوں میں گھومتے ہو ئے بلند آواز میں حمد و ثنا کر کے لوگوں کو جگا تے نظر آتے ہیں اور کم و بیش افطاری کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں نا صرف نت نئے انداز اپنا ئے جا تے ہیں بلکہ اپنے اپنے علا قوں یا روایت کے مطابق افطاری کا اہتمام کیا جا تا ہے اس سلسلے میں سعودی عرب میں رمضان خیموں کی تنصیب عمل میں آتی ہے جہاں پر مختلف قومیتوں کے لوگ روزہ افطار کرتے ہیںیہ روایت روس میں بھی قائم ہے ملک کی مفتی کونسل کی جانب سے ماسکو میں اجتماعی افطار کے لیے رمضان خیمہ کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ ایران میں افطاری کچھ مخصوص اشیا سے کی جاتی ہے جن میں چائے، ایک خاص طرح کی روٹی جسے ’نون‘ کہا جاتا ہے، پنیر، مختلف قسم کی مٹھائیاں، کھجور اور حلوہ شامل ہے۔

اور سب سے عجب روا یت ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو میں جہاں مسلمانوں کی آبادی صرف 6 فی صد ہے میںمساجد میں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے مختلف خاندان مساجد، کمیونٹی سینٹرز یا مساجد میں روزہ افطار کروانے کا اہتمام کرتے ہیں ہر خاندان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران ایک بار روزہ ضرور افطار کروایا جا تا ہے جبکہ اس سلسلے میں پاکستان بھر میں مساجد شہر کے تمام شاپنگ سینٹروں ،با زاروں،شاہراہوں اور فٹ پا تھوں پر روزے داروں کے لئے افطاری کا خصوصی اہتمام کیا جا تا ہے لیکن اس سلسلے میں شہر کراچی جہاں ایک ساتھ جڑے 3جزائربا با بھٹ ،با با آئی لینڈ ،پیر شمس میں بالکل ہی انوکھے انداز میں استقبال رمضان ہو تا ہے جہاں کے غریب و اسیوں جن کی اکثریت مچھلی کے شکار کا کام کر تی ہے خود چاند دیکھ کر جشن منا نے کی کوشش کر تی ہے لیکن اگر چاند نہ بھی دکھے اور ٹی وی ،ریڈیو سے اس کا اعلان ہو جا ئے تو یہ غریب ما ہی گیر نماز تراویح کے بعد ہلہ گلہ کر کے ڈھول اور ڈف کی تھاپ پر جشن منا تے ہیں اور یہ سلسلہ سحری کے اوقات تک جا ری رہتا ہے اس کے بعد جا مع مسجدشمس جسے ان ما ہی گیروں نے کروڑوں رو پے کی ما لیت سے اپنی مدد آپ کے تحت بنا یا ہے سے سحری کے اعلان شروع ہو نے کے ساتھ ساتھ تلاوت کلام پاک شروع ہو جا تی ہے جس کے بعد کچے پکے گھروں میں رہنے والے ما ہی گیر اپنے گھروں میں جا کر شکار کی ہو ئی تازہ مچھلیوں اور روٹی سے سحری کر تے ہیں اور پھر مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد چھوٹی بڑی لا نچوں میں رسک کی تلاش میں نکل کھڑے ہو تے ہیں چھوٹی لا نچیں چونکہ قرب و جوار کے علا قوں میں ہی شکار کر تے ہیں لہذا وہ افطاری سے پہلے پہلے واپس آکر شکار کی گئی مچھلیوں کو فروخت کر نے کے بعد اس سے حاصل ہو نے والے پیسوں سے نا صرف روزانہ کی بنیادوں پر مسجد کو چندہ دیتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے لئے روزانہ کی بنیادوں پر افطار کے لئے معمولی پھل فروٹ خرید کر گھر میں خواتین اور بچوں کے لئے افطاری کا اہتمام کر واتے ہیں جبکہ خود مسجد میں آ کر اجتما عی طور پر روزہ کھولتے نظر آتے ہیں ۔

مہنگائی سے پریشان عوام بجٹ سے خوفزدہ

اور افطاری کے بعد جزیرے کے چاروں طرف ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے خوفزدہ ہوئے بغیر لڑ کے با لے رات گئے تک مختلف انداز سے رمضان کے مقدس مہینے کی خوشیاں منا تے نظر آتے ہیں کیو نکہ جزیرہ پیر شمس پرمشہور صوفی بزرگ حضرت شمس پیر کا مزار مبا رک بھی ہے لہذا نو جوان اور بز رگ ٹولیاں بنا بنا کر ناصرف حاضری دیتے ہیں بلکہ رات گئے تک سمندر کے انتہا ئی قریب واقع اس مزار پر نو جوان نعت خوا نی کر نے کے ساتھ ساتھ سحری کے اوقات کا بے صبری سے انتظار کر تے ہیں گو کہ یہ جزیرہ زیادہ بڑا تو نہیں اور صرف 400 سے کچھ زیادہ گھرا نو پر مشتمل ہے مگر ہر گھر سے اس مقدس مہینے میں اللہ ہو کی صدائیں سنا ئی دیتی ہیں۔

اس سلسلے میں جب مختار احمد نے جزیرے پر رہنے والے دو ما ہی گیر عبدالمجید اور محمد حنیف سے بات چیت کی تو ان کا کہنا یہ تھا کہ جزیروں پر غر بت ضرور ہے لوگ بجلی ہو نے کے با وجود لوڈشیڈنگ کا شکار رہتے ہیں جبکہ جزیرے پر پا نی کی لا ئنیں اور پلانٹ نصب ہو نے کے با وجود یہاں کے واسیوں کو کیماڑی سے لا نچوں کے ذریعے آنے والے پا نی خرید کر پینا پڑتا ہے مگر اس کے با وجود ان کے اندر موجزن اسلام کے جذ بے میں کسی قسم کی کو ئی کمی نہیں یہی وجہ ہے کہ جزیرے پر رہنے والے گھرا نوں کی اکثر یت دین دار ہے اور رمضان المبا رک کا بے صبری سے انتظار کر تی ہے جس کے لئے رو زانہ کی بنیادوں پر شکار کر نے والے تو مسجد میں لوگوں کے ساتھ مل کراجتماعی روزہ کھو لتے ہیں لیکن جو لوگ 15روز یا ایک ماہ کے لئے شکار پر جا تے ہیں وہ بھی عبا دت سے غا فل نہیں ہو تے اور پا بندی کے ساتھ روزہ اور نما زکرتے ہیں اور کیونکہ دور دراز سمندر میں سوائے سمندر وں کے شور کے اذان یا سائرن کی آواز نہیں آتی لہذا یا تو لوگ آسما ن کو دیکھ کر افطار کے وقت کا پتا لگا لیتے ہیں ور نہ گھڑیوں کے ذریعے افطار کا وقت معلوم کر تے ہیں اور اس سلسلے میں با قاعدہ طور پر لا نچوں پر سحری اور افطاری کا خصوصی اہتمام کے ساتھ ساتھ شکار پر جا نے والی ما ہی گیروں کی اکثر یت طوفانوں میں گھیرے ہو نے کے با وجود بھی با جماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کر تے ہیں اور یہ نماز ہی کی بر کت ہو تی جس کے سبب بڑے سے بڑے سمندری طو فان کا خطرہ ٹل جا تا ہے اور با وجود طوفانوں میں گھیر جا نے کے با وجودوافر مقدار میں مچھلیوں کا شکار بھی ہو جا تا ہے جس سے ما ہی گیر وں کے نا صرف رمضان المبا رک کے اخرا جات پو رے ہو جا تے ہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ عید کی خوشیاں بھی منا لیتے ہیں ۔

(296 بار دیکھا گیا)

تبصرے