Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رکھو روزہ پڑھو نماز ------یہ ہے محمد کی آواز

تحریر :مختار احمد جمعرات 16 مئی 2019
رکھو روزہ پڑھو نماز ------یہ ہے محمد کی آواز

مجھے یاد ہے ہے ذرا ذرا جب میں چھوٹا تھا تو سحر و افطار کے رنگ کچھ اور جبکہ بڑھا پے میں اس کے رنگ اور ہیں بچپن یعنی کے پینتیس چالیس سال قبل جب پاکستان ٹیلی وژن عام نہیں تھا اور لوگ ریڈیو کے ایک ہی بینڈ یہ ریڈیو پاکستان ہے پر اکتفا کیا کر تے تھے اور لوگوں کی معلومات کا کل ذریعہ ریڈیو یاچند اخبارات ہوا کر تے تھے مگر اس تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہو تی تھی لہذا لوگ رمضان المبارک ،عید ،بقر عید اور محرم چاند دیکھ کر منا تے تھے

جس کے لئے رمضان المبا رک کی آمد اور استقبال کے لئے ملک کے تمام گائوں ،دیہات اور شہروں میں لوگ چاند دیکھنے کا اہتمام پہاڑوں یا اونچے مقامات پر کر تے تھے اور جیسے ہی چا ند نظر آ جا تا چاروں طرف خوشیاں بکھر جاتی تھیں اور لوگ آمد رمضان کے استقبال کے لئے اپنے گھروں کے قریب مساجد میں تراویح کا اہتمام کیا کر تے تھے اور ان چھوٹی مساجد میں تراویح پڑھنے والوں کی اتنی بڑی تعداد ہو تی کہ تل دھر نے کی گنجائش نہیں ہوتی اس طرح عبادت سے رمضان کے مقدس مہینے کا آغاز ہو جا تا اور جب سحری کا وقت آتا کیو نکہ کوئی ریڈیو ٹی وی تو تھا نہیں لہذا سحری جگا نے کے لئے نو جوان ٹولیاں بنا لیتے اور ڈھول اٹھا کر اورذری سے سجے بینر اور گیس بتی جسے پیٹرومیکس کہا جا تا تھا اٹھا کر کر یا کر یا گلی گلی گھومتے ہو ئے ڈھول بجا کر اور نعتیں پڑھ کر لوگوں کوسحری جگا نے کا کام کر تے تھے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈھول ،ڈف اور کنستر بجا کر بھی یہ سحری جگے لوگوں کو جگا نے کا فریضہ انجام دیتے تھے ایسے ہی ایک جگے میں محمد نا می ایک شخص جس کی آواز آج بھی میرے کا نوں میں گونجتی ہے جو کنستر بجا نے کے ساتھ ساتھ چلا چلا کر یہ اعلان کر تا کہ رکھو روزہ پڑھو نماز یہ ہے محمد کی آواز جسے سن کر ہمارا خاندان تو کیا پورا علاقہ جاگ جا یا کر تا تھا اور کیو نکہ اس وقت قناعت تھی لوگ سادہ زندگی گزارنا پسند کر تے تھے لہذا سحری بھی انتہا ئی معلولی یعنی کے روٹی اور اس کے ساتھ سالن ہوا کر تا تھا

جو ممتول گھرا نے تھے وہاں اس وقت بھی لچھے ،کھجلا ،پھینی سے سحری کا اہتمام کیا جا تا تھا مگر ایسے گھرا نے خال خال تھے اس طرح رمضان المبا رک کے سفر کا آغاز ہو جا تا لوگ عبادت کا مہینہ ہو نے کے سبب دن بھر یا تو نماز کی پا بندی کر تے یا پھر تلاوت قرآن پاک کی جا تی تھی اور جیسے ہی افطار کا وقت قریب آتا تو اس میں بھی کو ئی خاص اہتمام نہیں ہو تا تھا اور محض خربوزے ،تربوز،آم ،کھجور ،پکوڑے سے گھروں میں دسترخوان سج جا تے تھے مگر اس دستر خوان پر کسی بے روزے دار کو دیکھنے کی بھی اجا زت نہیں ہو تی تھی اور افطاری ہو نے سے قبل لگ بھگ بیشتر گھرا نوں سے مساجد میں پیش امام اور موذن کو نا صرف افطاری بلکہ کھا نے بھجوانے کا اہتمام کیا جا تا تھا

یہ بھی پڑھیں : مسجدوں کا آغازکب اور کیسے ہوا

ایسے میں میری ڈیوٹی بھی قریب ہی واقع ایک مسجد جس کے موذن انتہا ئی ضعیف ہوا کر تے تھے اور جو کہ گول فریم کاچشمہ لگا یا کر تے تھے کو پورے مہینے افطاری اور رات کا کھانا پہنچا نے کی لگا ئی جا تی تھی اور میں یہ کام خوشی خوشی انجام دیا کر تا تھا اس کے علاوہ گھروں سے مسجدوں میں افطاری بھیجنے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جا تا تھا جہاں نا صر ف مسافر روزہ کھو لا کر تے تھے بلکہ ہم جیسے بچوں کے گروپ بھی اچھے افطاری کے آسرے میں مسجد پہنچ جا تے مگر تمام اچھی افطاری مولوی حضرات اپنے اپنے سامنے رکھ لیتے جبکہ بچوں کو کچھ کھجوریں اور پکوڑے بھی بطور احسان سامنے رکھ دیتے تھے جس میں کبھی کبھی جلیبی اور سموسوں کا بھی اضا فہ کر دیا جا تا تھا اسی طرح رمضان المبا رک کے 29یا30روزے روح پرور منا ظر کے ساتھ رخصت ہو جا تے اور پھر سے چا ند دیکھنے کا اہتمام کیا جا تا تھا اور اگر چاند نظر آگیا تو ملک کے تمام شہروں ،گائوں ،دیہاتوں میں خوشیوں کی انجانی لہر دوڑ جا تی اور لوگ انتہائی سادگی کے ساتھ نئے ملبوسات جن کی قیمتیں کچھ زیادہ نہیں ہو تی تھیں پہن کر دمکتے چہروں کے ساتھ عید منا تے ایسے میں بچوں کی خوشیاں قابل دید ہو تی تھی پھر عید کے روز سویوں کے کھا نے کے بعد ملنے ملا نے اور عیدی دینے اور وصول کر نے کا سلسلہ شروع ہو جا تا تھا مگر اس وقت کی عیدی بھی سکوں یا ٹکوں میں ہوا کر تی تھی اس طرح عید کے 3 پر مسرت روز خوشیاں بانٹنے اور خوشیاں سمیٹنے میں گزر جا یا کر تے تھے

پھر جب میں بڑا ہوا تو ماضی میں ملنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں مفقود ہو گئیں نہ وہ رمضان رہے اور نہ ہی وہ عیدین نظر آئی جو روزہ باعث رحمت ہوا کر تا تھا اسے ہم لوگوں نے باعث زحمت بنا دیا اور رمضان المبا ر کے اس مقدس مہینے کو ایک اسٹیٹس سیمبل بنا کر سب کچھ تبدیل کر دیا جس کے تحت آج چاند دیکھنے کے لئے کو ئی پہاڑوں یا اونچے مقامات پر چڑھ کر دعائیں نہیں مانگتا بلکہ ٹیلی ویژن پر آنے والے لاتعداد چینلز سے رویت ہلال کمیٹی کے سر براہ مفتی منیب الرحمن چاند دیکھ کر اس کا اعلان کر دیتے ہیں جس کے بعد شہر بھر کے بازاروں ،شاپنگ سینٹروں پر خریداروں کا ہجوم لگ جا تا ہے جو کہ کسی غریب کے گھر میں خوشیاں بانٹنے ک لئے خریداری نہیں کر تے بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کی عید کو دوسروں سے ممتاز کر نے کے لئے نت نئے ملبوسات اور جوتوں کی خریداری کر رہے ہو تے ہیں اسی طرح رمضان المبا رک میں مساجد میں افطاری بھجوا نے کا کام بھی لگ بھگ ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ شہر کے سڑکوں ،فٹ پا تھوں اور شاپنگ سینٹروں میں افطاری کی ٹیبل سجانے کا رجحان ہو چکا ہے جس پر غریب افراد کم صاحب حیثیت لوگ ہی افطاری کر تے نظر آتے ہیں

اب شاید مسجد کے پیش امام اور موذن بھی اتنے صاحب حیثیت ہو چکے ہیں کہ انہیں افطاری ،سحری، کھا نے کی ضرورت نہیں رہی لہذا وہ اپنی تمام تر توجہ تراویح کی شیرنی ،مسجد کی خراب ٹوٹی ،پنکھوں کی خرا بی یا پھر مسجد کی تعمیر و توسیع کے نام پر اپنی تمام تر تو جہ چندوں کی وصولی پر دے رہے ہو تے ہیں جبکہ اسی طرح سحری جگا نے والے بھی تقریبا غائب ہو چکے ہیں اور یہ کام بھی یا تو گھڑی کے الا رم یا پھر ٹی وی والے انجام دے رہے ہیں جس سے رمضان المبا رک کا وہ روح پرور مہینہ جسے عبادت کا مہینہ بنا یا گیا ہے سے عبادت ختم اور دکھاوا زیادہ ہو نے لگا ہے جس کا عملی مشاہدہ افطاری کے اوقات میں شہر کی سڑکوں ،فٹ پا تھوں سے کیا جا سکتا ہے جہاں جگہ جگہ افطاری کی ٹیبلیں سجی ہو تی ہیں جبکہ بیشتر مقامات پر لوگ افطاری کے ڈبے اور جوس کے پیکٹ لے کر افطار سے کچھ وقت قبل ٹریفک کے سامنے آجا تے ہیں اور گاڑیوں میں افطاری کا سامان اور جوس و پا نی کی تقسیم شروع کر دیتے ہیں جسے میں روزانہ شہر کی سڑکوں،شاہراہوں پر دیکھتا ہوں یہ سب کچھ دیکھ کر میرا ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ رمضان المبا رک کا تقدس احترام پہلے تھا یا اب ہے لیکن میرا ناتواں ذہن آج تک اس سوال کا جواب حاصل کر نے میں ناکام ہے ۔

(297 بار دیکھا گیا)

تبصرے