Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کالا دھن سفید کرانے کی اسکیم منظور

ویب ڈیسک بدھ 15 مئی 2019
کالا دھن سفید کرانے کی اسکیم منظور

اسلام آباد …وفاقی کابینہ نے اندرون وبیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثوں کو ڈکلیئر کرنے کیلیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی،اسکیم 30جون 2019تک کیلیے ہوگی جس کے تحت کالے دھن اوربے نامی اثاثوں کو بھی سفید کرایا جاسکے گا،بے نامی اثاثے رکھنے والوں کے لیے یہ آخری موقع ہے اس کے بعد سخت کارروائی ہوگی

اسکیم کے تحت رئیل اسٹیٹ کے علاوہ اندرون اور بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو 4فیصد شرح ٹیکس کی ادائیگی پر سفید کرایا جاسکے گا‘نقد رقومات کو بنک اکائونٹس میں رکھ کر ڈکلیئر کرایا جاسکے گا‘ رئیل اسٹیٹ ( پراپرٹی ) ایف بی آر ویلیوکی ڈیڑھ گنا قیمت پر 1.5فیصد کی شرح سے ٹیکس کی ادائیگی پر ڈکلیئر ہو گی ، بیرون ملک دولت کو ملک کے اندر لانا ہوگا اور بیرون ملک اثاثہ جات ملک میں نہ لانے کی صورت میں دوفیصد مزید ٹیکس جمع کرانا ہوگا اور انکے لیے مجموعی ٹیکس کی شرح 6فیصد ہو گی ‘ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ہر صورت ٹیکس فائلر بننا ہوگا۔

ڈاکومینٹیشن کو بہترکرنے کے لیے کتابوں میں اثاثہ جات کو لانے کی اجازت ہوگی اور اپنے اثاثوں اور بیلنس شیٹ کو دوبارہ بنا سکیں گے ‘ایسے تاجر جو سیلز ٹیکس کے نظام سے باہر ہیں ان کو شامل کیا گیا ہے وہ اس اسکیم سے استفادہ کر کے اپنی پرانی سیلز ٹیکس کی ذمہ داریوں سے مبرا ہو سکیں گے‘پاکستان کی معیشت میں کچھ بڑے نقائص ہیں جنہیں دورنہ کیاتوپھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے‘آئندہ ساڑھے چار سال میں ٹیکس نظام کو وسیع کیاجائے گا۔

ان خیالات کا اظہار مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اوروزیرمملکت ریونیوحماداظہار نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعدایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں چیئرمین ایف بی آرشبرزیدی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف خود جیل جائینگے

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اسکیم سے ماضی و حال میں عوامی عہدے رکھنے والے لوگ اوران کے زیر کفالت افراد مستفید نہیں ہو سکیں گی جبکہ سرکاری عہدہ رکھنے والے اور ان کے زیرکفالت افراد بھی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے‘اسکیم کا مقصد ریونیو جمع کرنا نہیں معیشت کو دستاویزی بنانا ہے ‘بیل آؤٹ پیکج کے نتیجے میں بجلی اورگیس کی قیمت کا بوجھ غریب عوام پر پڑنے نہیں دیا جائے گا‘آئندہ بجٹ میں بجلی کی مد میں 216 ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی ‘اس وقت وہ کر رہے ہیں جس کی ملک کو ضرورت ہے

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا بنیادی مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیںبلکہ اثاثوں کو معیشت میں شامل کر کے انہیں فعال کرنا ہے ،انہوں نے کہا کہ کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم بہت آسان ہو تاکہ لوگوں کو دقت نہ ہو اور اس پر عملدرآمد بھی آسان ہو ‘کیونکہ اس کے پیچھے فلسفہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ قانونی معیشت میں حصہ ڈالنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ اس اسکیم میں پبلک آفس ہولڈر ز کے علاوہ ہر پاکستانی حصہ لے سکے گا

حفیظ شیخ نے کہا کہ بے نامی اثاثوں کوبھی سفید کرایاجاسکے گا، بے نامی قانون جو حال ہی میں منظور ہوا اس کے تحت بے نامی اثاثہ جات ضبط کیے جاسکتے ہیں اور جیل میں بھی بھیجا جاسکتا ہے اسلیے ان کو ایک موقع دیا جارہا ہے ‘یاد رہے کہ یہ قانون 2017 سے وجودمیں تھا مگر لاگونہیں تھا ‘بے نامی قانون کوتحریک انصاف کی حکومت نے فروری 2019 میں لاگوکردیاہے‘وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ سال جو اسکیم آئی تھی اس میں اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو ٹیکس فائلر بننے کی کوئی شرط نہیں تھی لیکن نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ہر صورت ٹیکس فائلر بننا ہوگا۔ ڈاکومینٹیشن کو بہترکرنے کے لیے کتابوں میں اثاثہ جات کو لانے کی اجازت ہوگی اور اپنے اثاثوں اور بیلنس شیٹ کو دوبارہ بنا سکیں گے ۔

(2368 بار دیکھا گیا)

تبصرے