Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بجلی کے نرخوں میں 20فیصد اضافے کا فیصلہ

ویب ڈیسک منگل 14 مئی 2019
بجلی کے نرخوں میں 20فیصد اضافے کا فیصلہ

اسلام آباد … حکومت نے آئی ایم ایف ہدایت پر بجلی کے نرخ میں 20 فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا‘ بزنس ریکارڈر نے باخبر سرکاری ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ابتدائی ڈکٹیشن پر 25 فیصد کے بجائے حکومت اور عالمی ادارے میں 20 فیصد اضافے پر اتفاق ہوا ہے جس کا اطلاق 300 سے زائد ماہانہ یونٹس خرچ کرنے والے صارفین کی بلنگ پر ہوگا۔ اضافے کے نتیجے میں فی یونٹ 2.60 روپے نرخ بڑھ جائیں گے۔

پہلے مرحلے میں یکم جولائی سے 1.30 روپے فی نرخ قیمت میں اضافہ کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں یکم ستمبر سے مزید 1.30 روپے نرخ بڑھادیئے جائیں گے۔ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لئے سبسڈی برقرار رہے گی‘ تاہم 300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے کے لئے فی یونٹ نرخ اس اضافے کے بعد 12.98 روپے سے بڑھ کر 15.58 روپے فی یونٹ ہوجائیں گے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 20 فیصد اضافے میں تیل کی قیمت میں تغیر کا تذکرہ نہیں۔

آئی ایم ایف معاہدے کے تحت حکومت تیل کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اضافی رقم قومی خزانے سے ادا نہ کرسکے گی اور اس اضافے کو بھی بجلی کے بلوں پر منتقل کردیا جائے گا۔ ایسی صورت میں بلوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہ ہوگا۔

دریں اثناء کاروباری حلقوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے اسٹاف لیول معاہدے پر بیک وقت امید اور اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ بڑے سرکردہ بزنس مین جہاں اسے طویل المیعاد بنیادوں پر ملکی معیشت کے لئے سود مندقرار دے رہے ہیں‘ وہیں سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے معاہدے کی زبان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام کسی بھی ملک کی معاشی ساکھ بہتر بنانے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ اسے پارٹنرز کی رائے اور ایف اے ٹی ایف کی کلیئرنس سے مشروط کرنا صریح ناانصافی ہے۔ معاہدے کی منظوری کو شرائط پر عملدرآمد سے مشروط کیا گیا ہے اور این ایف سی ایوارڈ‘ صوبوں کی کارکردگی کی شرط رکھی گئی ہے حالانکہ این ایف سی ایوارڈ ایک آئینی معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : میرا اسپتال کے عطیات جمع کرنے پہنچ گئیں

معاہدے میں تجارت سے متعلق جو زبان استعمال کی گئی اس کے نتیجے میں حکومت کو درآمدات پر قدغن کے لئے اقدامات واپس لینا پڑسکتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں نہ کی جاسکیں گی۔ لامحالہ اس کے نتیجے میں دفاعی بجٹ پر ضرب پڑے گی۔ ایکسپورٹ سیکٹر کے سرکردہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ریروریٹڈ چھوٹ کم یا ختم ہونے کا خطرہ ہے جس سے پاکستان کی ایکسپورٹ کا گراف مزید نیچے آجائے گا۔

ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ پروگرام ایک مذاق ہے‘ اس قرض سے پرانے قرضے کی اقساط ادا کی جائیں گی‘ اسے ملک کی ترقی کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا اگر ایسا ہوگا تو حفیظ شیخ اپنی سابقہ وزارت خزانہ کے دو رمیں ایسا کرنے میں کیوں کامیاب نہ ہوئے۔

ڈاکٹر ندیم الحق کے مطابق قرض پروگرام صرف زرمبادلہ ذخائر کا توازن برقرار رکھنے کے لئے لیا جاتا ہے‘ ا سے ملک کی ترقی و اصلاحات میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی تحقیق کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام آزاد و شرح مبادلہ پر بنایا گیا ہے۔ اس طرح آئندہ جون تک ڈالر 147 روپے اوردسمبر تک ایک ڈالر 152 روپے کا ہو جائے گا۔

آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے ساتھ ہی شرح نمو تین فیصد پر مستحکم ہو جائے گی جبکہ متوسط طبقہ شدید دبائو میں آئے گا اور 80 لاکھ افراد کے غربت کی لکیر کے نیچے چلے جانے کا خدشہ ہے۔

(231 بار دیکھا گیا)

تبصرے