Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 15 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر معاہدہ طے

قومی نیوز پیر 13 مئی 2019
آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر معاہدہ طے

اسلام آباد….. حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ‘ پہلے اقدامات کروکی سخت ترین شرائط پر آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو6 ارب ڈالر قرض دینے کا معاہدہ طے پا گیا‘ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مطابق ورلڈ بینک ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی 2 سے 3 ارب ڈالر قرضہ دیںگے

آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ کے دوران اقساط میں جاری ہوں گے‘ عالمی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد معاہدے پر عملدر آمد شروع ہوسکے گا‘ ماہر اقتصادیات اشفاق حسن خان کے مطابق آئی ایم ایف اعلامیے کے زہان غیر واضح ہے

شاید ایسا جان بوجھ کر رکھا گیاہے‘معاہدے کی درست تفصیلات کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے سیاسی پالیسی اور معاشی یادداشت کا انتظار ہے‘ خطرناک بات یہ ہے کہ معاہدہ آئی ایم ایف انتظامیہ ‘ اس کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوریوں ‘ سابقہ اقدامات کے وقت پر عملدرآمد اور بین الاقوامی پارٹیز کے مالیاتی وعدوں کی تصدیق سے مشروط ہے

اقتصادی اورمالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق معاہدے کیلئے رجوع کرنے میں تاخیر کے باعث پالیسی سازوں کو قابل عمل پروگرام کے حصول میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑا‘ وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پروگرام سے قبل ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کیلئے ابتدائی اقدامات میں 700 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنا شرح مبادلہ کی تبدیلی کی اجازت دینا ‘ بجلی کے نرخوں اور پالیسی ریٹ میں اضافہ کرناشامل ہیں

یہ بھی پڑھیں : مہنگائی مزید بڑھاؤ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

ذرائع کے مطابق ابتدائی آئی ایم ایف نے لچک دکھائی‘ پھر سخت شرائط پیش کرلیں‘ جن میں 200 بیس پوائنٹ میں اضافہ اور کرنسی میں 20 سے30 فیصد بے قدری ‘ اخراجات میں کمی‘ آمدنی میں اضافے کے ذریعے اضافی 1120 ارب روپے جمع کرنا شامل تھیں‘سرکاری حکام کے مطابق پہلے سال یکم جولائی سے حکومت کو 600 ارب روپے کے نئے ٹیکسیز کی وصولیاں کرنا ہوگی‘ بجلی کے نرخوں پر 100 ارب روپے اضافی بلنگ کرنا ہوگی اور کم از کم 2 ایل این جی پلانٹس کی نجکاری سے 280 روپے (12 ارب ڈالر) اکٹھے کرنا ہوںگے

تاکہ مالیاتی ایڈ جسٹمنٹ کیلئے 10 کھرب روپے سے زائد کی رقم جمع کی جاسکے ‘ ماہر معاشیات مزمل اسلم کے مطابق آئی ایم ایف نے مہر ثبت کردی کہ پچھلے 5 سال میں پاکستانی معاشی کارکردگی بدترین ہے‘ فرخ سلیم کے مطابق معاہدے کے بعد اب ورلڈ بینک اور عالمی مارکیٹ میں جاسکتے ہیں‘ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق یہ پروگرام کام نہیں کرسکے گا‘ جزوی عملدرآمد کے بعد معطل ہوجائے گا‘ ماہرین کے مطابق سخت شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آئی ایم ایف پاکستان کو ایک یاد واقساط والے ممالک کی درجہ بندی میں دھکیل سکتاہے۔
آئی ایم ایف مذاکرات

(450 بار دیکھا گیا)

تبصرے