Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 19 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مہنگائی مزید بڑھاؤ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

قومی نیوز هفته 11 مئی 2019
مہنگائی مزید بڑھاؤ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

اسلام آباد …آئی ایم ایف حکام نے 8ارب ڈالر کے پیکیج کے لیے مہنگائی مزید بڑھانے کی کڑی شرائط پیش کردی ہیں جس کے بعد معاہدے میں تاخیر ہورہی ہے، اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب آمدن میں اضافے کیلئے 600سے700ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 100ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی شرط عائد کی ہے جبکہ پٹرول، بجلی گیس سمیت دیگر شعبوں میں ٹیرف کو کنٹرول نہ کرنے کی شرائط بھی عائد کردی ہیں جس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ یقینی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجلی ، گیس ، ڈالر اور شرح سود کا تعین مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوگا، جبکہ تمام شعبوں میں سبسڈیز ختم کردی جائے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کی کئی کڑی شرائط تسلیم کرلی ہیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے ڈو مور کا مطالبہ جاری ہے جس کی وجہ سے مذاکرات کا سلسلہ اب مزید دو روز جاری رہے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کے حکام آئی ایم ایف کے وفد کو منانے کی کوششیں کررہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ پیر تک معاملات طے کرلیے جائیں گے۔

حکومت نے ڈالر کی قیمت کو کنڑول نہ کرنے سمیت عالمی مالیاتی ادارے کی متعدد شرائط کو مان لیا ہے تاہم مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے چار فیصد پر لانے اور جی ڈی پی کے مقابلے میں شرح ٹیکس 13.2 فیصد پر لانے کے لیے مجوزہ اقدامات پر اختلافات برقرار ہیں کیونکہ حکومت کئی شرائط میں نرمی چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کا دوبارہ آنا سانحہ ہوگا، امریکی جریدہ

علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے درمیان ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے کے مسودے کو مسترد کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس استثنا سے متعلق آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے جبکہ ٹیکس وصولی ہدف کم کرنے کے لیے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی چاہتے ہیں۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزارت خزانہ اور اآئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے مکمل کرچکے تھے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم بات چیت آئندہ دو روز تک جاری رہے گی۔

(393 بار دیکھا گیا)

تبصرے