Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 19 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

معصوم ٹارکٹ

قومی نیوز جمعه 03 مئی 2019
معصوم ٹارکٹ

6 اپریل کو شہر کے مصروف ترین علاقے صفورا چوک پر موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار فائرنگ کرتے ہوئے گزر گئے‘ 2 موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کیوں کی‘ کسی کو معلوم نہیں ہوا‘ پولیس اہلکار تھانے گئے‘ وہاںڈیوٹی ختم کرکے گھر بھی چلے گئے‘ انہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ انہوںنے جو گولی چلائی ہے‘ اس سے ایک معصوم بچہ اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگیا‘ پولیس اہلکاروں کی گولی رکشے میں سوار کپڑے کے تاجر کاشف راجہ کے 9 ماہ کے بیٹے احسن کے سینے میں لگی‘ گولی لگنے کے بعد معصوم بچے کی چیخ بھی نہ نکل سکی‘ اس کی ماں کو بچے کے کپڑے گیلے محسوس ہوئے تو اس نے دیکھا کہ معصوم احسن کے کپڑے خون میں لت پت ہیں‘ اس کی آنکھیں کھلی ہیںاور اپنی ماں کو دیکھ رہاتھا‘ کاشف راجہ کی اہلیہ نے بچے کو سینے سے لگایا وہ فوری طورپر میمن میڈیکل سینٹر پہنچے‘ جہاں ڈاکٹروں نے احسن کی موت کی تصدیق کردی‘ بچے کی موت پر کاشف راجہ حواس کھو بیٹھا تھا‘ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا‘ پولیس والوں نے اس کے بچے کو مار دیا‘ پولیس فائرنگ سے بچے کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی‘ رواں ماہ میں دوسرا بچہ پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوا‘ جبکہ رواں سال میڈیکل طالبہ سمیت 4 افراد پولیس فائرنگ سے ہلا ک ہوچکے تھے‘ گزشتہ برس بھی 13 اگست کی رات کو جب شہر ی آزادی کا جشن منانے میں مصروف تھے‘ ڈیفنس خیابان اتحاد کے سگنل پر 10 سالہ بچی امل پولیس گردی کا نشانہ بنی تھی‘ اس بچی کی ہلاکت پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس بھی لیاتھا‘ اس واقعہ کے بعد پولیس والوں کی تربیت بھی کی گئی کہ عوامی شکایات پر اگر اس طرح کا واقعہ ہوجائے تو کس طرح نمٹا جائے گا‘ پولیس کو بڑے ہتھیار کے ساتھ چھوٹے ہتھیار کی استعمال کی تربیت بھی دی گئی

پولیس کے ریفرنس کورسز بھی ہوئے ‘ لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا‘ 22 فروری کو انڈا موڑ پر میڈیکل کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرہ بیگ اور پھر 6 اپریل کو قائد آباد میں 12 سالہ بچہ سجاد ‘ پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوا‘ معصوم سجاد نے دوسری جماعت کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کی تھی‘ وہ اپنی بیمار والدہ کیلئے دوا لینے جارہا تھا‘ قائد آباد کے علاقے مسلم آباد کالونی میں پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا‘ ڈی ایس پی قائد آباد اعجاز مغل کے مطابق پولیس نے منشیا ت فروشوں کی اطلاع پر ملزمان پر فائرنگ کردی‘ فائرنگ کی زد میں آکر معصوم اعجاز ہلاک ہوگیا۔سجاد کے والد عدالت خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کرائے کا رکشہ چلاتے ہیں اور محنت کرکے اپنے بیٹے کو اسکول میں پڑھا رہے تھے‘ پرسوں بیٹے کا رزلٹ آیا تھااور وہ اس کیلئے کتابیوں لے کر آرہے تھے کہ انہیں پتہ چلا کہ بیٹا مقابلے میں مارا گیا‘ غم سے نڈھال باپ کا کہنا تھا کہ پولیس کو سب معلوم ہے کہ علاقے میں کون چرس اور ہیروئن بیچتا ہے‘ ہر علاقے کی پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کون کون جرائم پیشہ ہے اور وہ کیا بیچتا ہے‘ زخمی حالت میں گرفتار ملزم اور اس کے والدین علاقے میں ہی رہتے ہیں‘ پولیس جھوٹ بول رہی ہے کہ ملزم علاقے سے گائوں فرار ہوگیاتھا‘ پولیس اس کو پکڑنے اس کے گھر نہیں جاتی بلکہ مقابلہ کرنے محلے میں آجاتی ہے‘ یہاں بے گناہ لوگ مار ے جاتے ہیں۔مقتول سجاد کے بہنوئی محمد صدام نے بتایا کہ وہ آج ہی گائوں سے واپس گھر آئے تھے

فریش ہی ہوئے تھے کہ پتہ چلا کہ باہر کھیلتے ہوئے سجاد کو گولی لگ گئی ہے‘ انہوںنے کہا کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ رہائشی علاقے اور محلے میں کیسے پولیس مقابلہ ہوااور کس نے مقابلے کی اجازت دی‘ سجاد کا کیا قصور تھااور اسے کیوں مارا گیا‘ ہمیں انصاف کون دے گا؟ صرف ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے 10 ‘10 چکر لگانے پڑرہے ہیں‘ شبہ ہے کہ سجاد کو پولیس کی گولی لگی ہے‘ انہوںنے بتایا کہ میت گھر لانے کے بعد انہوںنے جائے وقوعہ کا معائنہ کیاتو وہاں واقعے کے 8 گھنٹے بعد بھی گولیوں کے خول پڑے ہوئے تھے‘ اس کا مطلب پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی‘ علاقے میں جو بھی کام ہورہا ہے‘ وہ پولیس کی سرپرستی میں ہورہا ہے‘ کراچی روشنیوں کا شہر نہیں‘ بلکہ گولیوں کا شہر ہے‘ جہاں پولیس کی گولیاں برستی ہیں‘ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات فروش حنیف کا اڈا پولیس کی سرپرستی میں چلتا ہے‘ سب کو معلوم ہے‘ایم ایل او ڈاکٹر اعجاز احمد نے بتایا کہ مقتول سجاد گولی لگنے کے بعد زندہ حالت میں جناح اسپتال لایا گیاتھا‘ جہاں اس کا ایگزامینیشن کیا گیااورفوری طبی امداد دی گئی‘ تاہم سجاد دورا ن علاج دم توڑ گیا‘ انہوں نے بتایا کہ مقتول سجاد کو 2 گولیاں لگی‘ ایک گولی سر کے دائیں جانب پچھلے حصے سے لگی اور سر کے اوپر سے پار ہوگئی

یہ بھی پڑھیں : ماما پانی ٹھنڈا ہے باہر چلو‘معصوم بیٹی کوماں نے ڈبودیا

سر پر لگنے والی گولی کا داخلی اور خارجی سوراخ موجودہے‘ سرپر لگنے والی گولی کا داخلی سوراخ ایک سینٹی میٹر اور خارجی سوراخ 2 سینٹی میٹر ہے ‘ دائیں بازو میں لگنے والی گولی نے بازو کی ہڈی توڑی اور باہر نکل گئی‘ایم ایل او نے مزید بتایا کہ مقتول سجاد کو سر میں لگنے والی گولی موت کی وجہ بنی ہے‘ سر میں گولی لگنے سے دماغ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی ہے‘ مقتول کے سر پر سیاہ رنگ کے دھبے پر موجود ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے‘ اندازے کے مطابق مقتول سجاد کو 4 سے 5 فٹ کے فاصلے سے گولیاں لگیں‘ زخم سے معلوم ہوتا ہے کہ گولی چھوٹے ہتھیار کی ہے‘ پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول سجاد کی نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی‘ قائد آباد پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ سرکار واقعہ اے ایس آئی احمد یا ر کی مدعیت میں زیر دفعہ 7ATA-353/ 324/302/34 کے تحت درج کرلیا ۔ اے ایس آئی احمد یار نے بتایا کہ اطلاع ملی تھی کہ بلال کالونی وکیل ہوٹل کے قریب 2 افراد نشے کی حالت میں موجود ہیں‘ ان کے پاس اسلحہ بھی ہے۔اس اطلاع پر اے ایس آئی نے سادہ کپڑوں میں ملبوس کانسٹیبل عطاء اللہ ‘ طاہرخان ‘ سمیع اللہ 2 پرائیویٹ موٹر سائیکلوں کو تھانے سے طلب کیا‘ پولیس اہلکاروں نے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیاتو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی‘ جس سے عطاء اللہ ‘ عابد خان اور راہگیر بچہ سجاد زخمی ہوگیا‘ تاہم پولیس نے ایک ملزم شیر زمان کو گرفتار کرلیا‘ جبکہ زخمیوں کو جناح اسپتال پہنچایا گیا‘ جہاں سجاد ہلاک ہوگیا‘ سجاد کی ہلاکت کا معاملہ ابھی چل رہا تھا کہ 16 اپریل کو احسن پولیس گردی کانشانہ بنا

صفورا چورنگی نزد خالد بیکرز کے قریب پولیس کی مبینہ فائرنگ سے رکشے میں سوار 19ماہ کا احسن اوراسکا والد 38سالہ کاشف شیخ زخمی ہوگیا جنہیں قریبی میمن اسپتال منتقل کیا گیا جہاںاحسن کا شف جانبر نہیںہوسکا ، اہلخانہ نے اسپتال میں شور شرابہ شروع کر دیا اور پولیس کے خلاف احتجاج کیا کہ میرے بچے کو پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا ، جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ موٹرسائیکل سوار ملزمان کا تعاقب کررہے تھے اس دوران ملزمان نے فائرنگ کی تو جوابی فائرنگ کرنا پڑی ،دوطرفہ فائرنگ کی زد میں رکشہ آگیا ،مقتول احسن کے چچا نے اسپتال میں بتایا کہ بچے کے والد کی آنکھوں کی بینائی بہت کمزور ہے اور وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ اپنی رہائشگاہ بلاک 8 گل بنگلوزگلستان جوہر جارہے تھے کہ اس دوران راستے میں وہ ایک بیکری کے سامنے روکے اسی دوران گولی کی آواز آئی جس سے میرا بھتیجہ احسن سینے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ بھائی کاشف پائوں میں معمولی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا انہوں نے کہا کہ انکا آبائی تعلق شہداد کوٹ سندھ سے ہے۔ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کومعطل کرکے دو اہلکاروں کوگرفتارکرلیا گیا ہے اور انکا پہلا ابتدائی بیان قلم بندکرلیا گیا، انھوں نے کہا کہ پولیس کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ پبلک مقامات پر فائرنگ نہ کریں تاہم اسکے خلاف ورزی کی گئی ہے

عامر فاروقی نے مزید بتایاکہ واقعے میںملوث چار پولیس اہلکاروں امجد ، خالد ، پیارو اور صمد ذرداری نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ایک موٹر سائیکل سوار ملزمان لوٹ مار کررہے تھے اور اسکی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ کردی اور دو بدو فائرنگ کے نتیجے میں بچہ زد میں آگیا، ایس ایچ او جاوید ابڑو نے بتایا کہ چاروں اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد فائرنگ کرنے والے دو پولیس اہلکاروں صمد اور امجد کو معطل کرنے کے بعد گرفتار کیاگیاہے اور انکے سرکاری اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔ جناح اسپتال میں احسن کاشف کے پوسٹ مارٹم کے بعد ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شیرا ز کے مطابق بچے احسن کاشف کو دائیں جانب سے سینے میں گولی لگی جو کہ بائیں جانب کمر سے پار ہوگئی، بچے کو ایک ہی گولی لگی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شیراز کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے طور پر احسن کوگولی 10 سے15 فٹ کے فاصلے سے لگی‘ وہی گولی والد کو بھی چھو کر گزری گولی کے نشان سے بظاہر چھوٹے ہتھیار کے استعمال کا زخم لگتا ہے‘انہوںنے مزید بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ چند روز بعد جاری کی جائے گی‘آئی جی سندھ کلیم امام نے واقعہ کی تفتیش سی ٹی ڈی کے حوالے کردی تھی‘ واقعہ کے دوسرے روزآئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام اور کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کی دیگر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل کے واقعے پر افسوس ہے۔ امل، نمرہ بیگ اور احسن سمت دیگر واقعات پر افسوس ہے۔سندھ پولیس اپنی غلطی تسلیم کرتی ہے اور معافی مانگتی ہے،پولیس کی بہتری کے لیے آج کا اجلاس بلایا تھا،کراچی پولیس چیف کی مقتول احسن کے اہل خانہ سے ملاقات کی انکے ہمراہ ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر بھی موجودرتھے ،کراچی پولیس چیف کا احسن کے اہل خانہ کو ہر ممکن انصاف کی یقین دہانی کرائی اور اہل خانہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا جو نقصان ہوا اس پر بحیثیت پولیس آفیسر معافی چاہتا ہوں،میں اس ذیادتی کاخود کو زمہ دار سمجھتا ہوں

اس دوران پولیس چیف نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کی آرمی سے تربیت دلا رہے ہیں‘اہلکاروں کو چھوٹے ہتھیار بھی فراہم کیے جاچکے ہیں،انھوں نے کہا کہ متاثرہ فیملی سے رات سے ہی رابطے میں تھا جیسے یہ لوگ چاہیں گے ویسے ہی تفتیشی ٹیم بنا کر تحقیقات کریں گے ہمارا کام مشکل ہے لیکن پوری کوشش کررہے ہیں‘موٹرسائیکل اسکواڈ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کیلئے بنایا ہے‘اہلکاروں سے بڑا ہتھیار اسی لئے واپس لیا تھاکوشش کررہے ہیں پولیس کی اور تربیت کریں کے بھرے بازار میں کیسے مقابلہ کرے‘ انہوں نے کہا کہ میں متاثرہ فیملی کے ساتھ کھڑا ہوں جلدانصاف ہوتا ہوا نظر آئے گاجن افسران سے یہ چاہتے ہیں ان سے تفتیش کروائیں گے۔احسن کی نماز جنازہ گلستان جوہر بلاک 12 میں سندھ بلوچستان سوسائٹی میں واقع اشرف المدارس کے قریب ادا کی گئی‘ نماز جنازہ میں مقتول احسن کے اہل خانہ وعزیز واقارب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شریک ہوئے‘ جس کے بعد مقتول کی میت قریب ہی واقع قبرستان لے جائی گئی‘ جہاں ننھے احسن کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا‘ اس موقع پر رقت انگیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے‘ مقتول کے اہل خانہ اور عزیز واقارب شدت غم سے نڈھال دکھائی دیئے ‘ نماز جنازہ کے بعد مقتول احسن کے دادا حاجی عبدا لغنی شیخ اور رشتے دار ارشد حسین شیخ ایڈ ووکیٹ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے واقعے کے متعلق سچل پولیس کی جانب سے درج کئے گئے مقدمے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیاہے

انہوں نے کہا کہ پولیس کا جانب سے مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں‘ جو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے‘ مقدمے میں 302 اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل ہونا چاہیے تھی‘ مقدمہ ان کے بیان کے مطابق نہیں درج کیاگیا‘ انہوںنے بتایا کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 پولیس اہلکاروں نے براہ راست رکشہ کی طرف فائرنگ کی ‘ جس سے ننھا احسن جاں بحق اور والد زخمی ہوگیا‘ فائرنگ کا واقعہ دہشتگردی ہے‘ انہوںنے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کے اصل حقائق منظر عام پر لانے کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے‘ سچل پولیس نے صفورہ چورنگی کے قریب پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ڈیڑھ سالہ احسن کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 19/211 مقتول کے والد کاشف راجہ شیخ کی مدعیت میں بجرم دفعات 324 اور 34/304 کے تحت موٹر سائیکل سوار نامعلوم شخص کے خلاف درج کرلیا‘ مقتول احسن کے والد نے پولیس کو بیان دیاہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ یونیورسٹی روڈ صفورا چورنگی کے قریب بیکری سے سامان لے کر اپنی رہائش گاہ رکشے میں جانے کے لیے سوار ہوئے تھے کہ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں‘ اس دوران میرے بیٹے کے سینے سے خون نکلنے لگا میں نے رکشہ ڈرائیور سے کہا کہ میمن اسپتال چلو اور سامنے دیکھا تو 2 موٹرسائیکلوں پر سوار 4 پولیس اہلکار فائرنگ کررہے تھے‘ ہم فوری طورپر میمن اسپتال کی ایمر جنسی پہنچے جہاں ڈاکٹروںنے معائنے کے بعد بتایا کہ اان کا بیٹا فوت ہوچکا ہے‘ جس کے بعد انہوںنے اپنے سسر کے موبائل فون پراطلاع کی‘ مقتول کے والد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس کو رپورٹ درج کرانے کیلئے آیاہوں‘ میرا دعویٰ ہے کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم صورت شناس کے خلاف ہے ‘ جن کی غفلت ولاپروائی سے میرا بیٹا احسن فائرنگ سے ہلاک اور مجھے زخمی کرنے کا ہے

یہ بھی پڑھیں : ببلو گروپ کو نالہ نگل گیا

لہٰذا واقعے کی رپورٹ کرتا ہوں کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ سلیم نواز نے بتایا کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ اور دیگر عزیز واقارب ان پر صلح کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں‘ روزانہ ان کے گھر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور گھر کی خواتین سے بھی بات کی جارہی ہے‘ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیںکہ ہم کسی دبائو یا کسی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوںگے‘ ہمارا بچہ جان سے گیا ہے‘ ایسا نہ ہوکہ کل کسی اور ننھے پھول کے ساتھ یہ حادثہ پیش آئے۔ مقتول ڈیڑھ سالہ احسن ‘ کاشف گلستان جوہر بلاک 8 سندھ بلوچستا ن سوسائٹی رہائشی تھا۔ مقتول کے والد کاشف راجہ کپڑے کے تاجر ہیں‘ راجہ کاشف نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق شہداد کوٹ سے ہے ‘ 2016 ء میں وہ کراچی آگئے تھے‘ ان کے 3 بچے ہیں‘ جن میں بڑا بیٹا حسنین کاشف 11 سالہ ‘ دوسرے نمبر پر بیٹی 5 سالہ زارا کاشف اور جاں بحق ڈیڑھ سالہ احسن کاشف سب میں چھوٹا تھا‘ منگل کی شام وہ نماز مغرب قریبی مسجد میں اداکرکے واپس آئے تھے تو بچے ضد کرنے لگے کہ صفورا چورنگی کی بیکری پر جانا ہے‘ وہاں سے سموسے اور رول کھائیںگے اور 10 منٹ بعد نمکو اور پاپڑ خرید کر واپس آنے کیلئے چورنگی پر آئے اور ایک رکشے میں بیٹھ گئے‘ اسی دوران کچھ پولیس والے فائرنگ کرتے نظر آئے ‘ کاشف راجہ کے مطابق فائرنگ کے دوران اس کی بائیں ٹانگ میں کوئی چیز چھوتی ہوئی نکل گئی‘ اس نے دھیان نہیں دیا اور رکشے والے سے کہا کہ چلو جلدی نکلو چلو‘ اسی دوران اس کی بیوی نے کہا کہ اس کی گود میں موجود احسن جھٹکے لے رہا ہے‘ کاشف راجہ کا کہنا تھا کہ میں نے احسن کو گود میں لیاتو اس کے کپڑے گیلے لگے‘ دیکھا توکپڑے خون میں آلودہ تھے‘ میں نے بچے کو اپنے منہ کے قریب کرکے آواز دی کہ احسن بیٹے آنکھیں کھولو‘ اس نے ایک بار آنکھیں کھولیں اور میری داڑھی کو چھوا‘ اس کے بعد اس کا ہاتھ بے جان ہو گیا‘ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ اسے ہوا کیاہے‘ میں نے رکشہ والے کو کہا کہ جلدی سے میمن اسپتال چلو‘ وہاں پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ مرچکا ہے اورجناح اسپتال لے جانے کا کہا ‘ میں نے اپنی ٹانگ دیکھی توگولی چھو کر گزری تھی

معمولی خراش آئی تھی‘ کاشف راجہ کا کہنا تھا کہ ’’مجھے انصاف چاہیے پولیس والے محافظ کے بجائے قاتل بن چکے ہیں‘ ہم پولیس کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں‘ کیونکہ پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچالیتی ہے‘ واقعے کا مقدمہ نمبر 211/19 زیر دفعہ 324/304/34 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہواہے‘ ہمارامطالبہ ہے کہ اس واقعے کی جے آئی ٹی بنائی جائے‘ ورنہ دوتین روزبعد پھر کوئی ایسا واقعہ ہوجائے گا‘ میری بیوی ‘بیٹے کی جدائی سے شدید صدمے کے باعث بیہوش ہورہی ہے‘ اس کا بھی کہنا ہے کہ اس کو انصاف دیاجائے‘ جاں بحق بچے کے رشتے دار ریٹائرڈ ڈی آئی جی مظہر شیخ کا کہنا تھا کہ واقعے کی شفاف تفتیش اور ذمہ داروں کو سزادلوانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں‘ بچے کے چچا سلمان شیخ کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ پولیس کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کے ہاتھوں ایک بچہ مر چکا ہے‘ فائرنگ کرنے والے اہلکار شفٹ ختم کرکے تھانے میں مقابلے کی انٹری کراکے چلے گئے‘ ایک رشتے دار شیراز شیخ کا کہنا تھا کہ اس اطراف میں لگے خفیہ کیمروںکی فوٹیج دھندلی آئی ہے‘ رشتے دار رحیم شاہ کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ گرم ہے تو کہا جارہا ہے کہ انصاف ملے گا‘ دیکھیں گے کہ آگے کیاہوتاہے‘ رشتے دار فدا شیخ کا کہنا تھا کہ دو سال سے شہریوں کی جان لینے والے’’ مقابلے ‘‘ چل رہے ہیں‘ ان کی روک تھام ہونی چاہیے‘ رشتے دار امیر شیخ کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش غیر جانبدار افسران سے کرائی جائے‘ معصوم بچے کی موت پر پورا علاقہ سوگوارہے۔

یونیورسٹی روڈ پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو نے والے بچے کے کیس کی تفتیش سی ٹی ڈی کو منتقل ہونے کے بعد ہی سی ٹی ڈی نے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کردیا۔تفصیلات کے مطابق سچل کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر منگل کی شب مبینہ مقابلے میں جاں بحق ہو نے والے بچے احسن شیخ کے کیس کی تفتیش سی ٹی ڈی کو منتقل ہو تے ہی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی ہدایت پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عبداللہ شیخ نے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے ،ہفتے کوڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے جائے وقوعہ پر سچل پولیس کے ہمراہ معائنہ کیا‘جبکہ انہوں نے مقتول احسن کی رہائش گاہ گلستان جو ہر جاکر والد سے تعزیت بھی کی ‘ڈی آئی جی عبداللہ شیخ نے بتایا کہ علاقہ پولیس نے بیان میں کہا کہ اسٹریٹ کرمنل کے ساتھ مقابلہ ہوا اور 2 فائر کابتایا ‘جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والا خو ل پولیس اہلکار امجد کے پستول کاتھا، پولیس نے بتایا 2فائر ہوئے ایک گولی پولیس اور دوسری ڈاکونے چلائی ،تاہم جائے وقوعہ سے پولیس کے پستول کے علاوہ دوسراکوئی خول نہیں ملا،انہوں نے مزید بتایا کہ اس کیس میں پولیس اہلکاروں کوتفتیش کے لیے ہم حراست میں لیں گے،انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کاموقف ہے کہ پولیس اہلکار آپس میں لڑرہے تھے جو کہ اہم بات ہے ‘انہوں نے کہا کہ بچے کوسینے پرگولی لگی جوکمرسے باہرنکلی ،واقعے کے وقت بچہ احسن والد کاشف کی گودمیں تھا۔

شیر خوا ر محمداحسن ولد کاشف کے قتل کے الزا م میں گرفتار چاروں پولیس اہلکاروں ہیڈ کانسٹیبل پیار علی‘ ہیڈ کانسٹیبل خالد اقبال ‘ کانسٹیبل عبدالصمد اور کانسٹیبل امجد خان کو سی ٹی ڈی پولیس نے سچل انویسٹی گیشن پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا‘ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق چاروں اہلکارو ں سے سی ٹی ڈی تفتیش کرے گی اور گرفتار پولیس اہلکاروں کے بیانات دوبارہ قلمبند کیے جائیں گے‘ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں مقتول محمد احسن کے والد کاشف بھی معمولی زخمی ہوئے تھے اور ان کا بھی ایم ایل او کرایا جائے گا‘ حکام سی ٹی ڈی کے مطابق مقتول کے والد کا ایم ایل کرانے سے گولی کی ڈائریکشن معلوم کرنے میں مدد ملے گی‘ احسن کے والد کی ایم ایل رپورٹ بھی تفتیش میں مدد گار ثابت ہوگی‘ جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی لیے جارہے ہیں‘ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والا واحد خول اہلکار امجد کے اسلحہ سے میچ کرگیاتھا‘ جائے وقوعہ کے اطراف سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے سی ٹی ڈی کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ کسی اور مقام پر اسنیپ چیکنگ میں مصروف ہے‘ عبدالصمد اور امجد میں تلخ کلامی کے بعد عبدالصمد نے چھوٹے پستول سے فائرنگ کی ‘ جبکہ گولی احسن کو لگی‘ امجد علی نے گولی چلانے کا اعتراف بھی کرلیاہے۔جعلی پولیس مقابلے کی آڑ میں معصوم بچے احسن شیخ کی ہلاکت کیس میں غلط بیانی کرنے پر ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے ایس ایچ او سچل جاوید ابڑو کو معطل کردیا ہے پولیس نے بتایا کہ سا بقہ ایس ایچ او نے واقعے کے بعد دعوی کیا تھا کہ جائے واردات پر پولیس مقابلہ ہو ا تھا ،جبکہ کراچی پولیس چیف کی ہدایت پر بننے والی خصوصی تفتیشی ٹیم نے جب تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ ایس ایچ او نے غلط بیانی کی تھی کیونکہ جائے واردات سے نہ تو کوئی مقابلے کا ثبوت ملا ہے اور نہ ہی کوئی عینی شاہد ملا ہے‘جبکہ واقعے کے بعد ایس ایچ او نے میڈیا سے گفتگو میں غلط بیانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ پولیس مقابلہ تھا۔ پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی سے واپس آکر اسے آگاہ کر دیا تھا کہ تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ جائے وقوع پر کسی بچے کو گولی لگی ہے۔

(847 بار دیکھا گیا)

تبصرے