Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

فرزانہ بن گئی نشانہ

حسن رضاشاہ جعفری جمعه 03 مئی 2019
فرزانہ بن گئی نشانہ

کراچی میں ایک بار پھر سے بیویوں کی شوہروں کے ہاتھوں قتل ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا‘ گزشتہ دنوں کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں شوہروں کے ہاتھو ں مختلف وجوہات کی بناء پر قتل ہونے والی تقریباً5 سے زائد وارداتیں ہوئیں‘ جوکہ رجسٹرڈ ہوئیں باقی کچھ واقعات ایسے بھی رونما ہوئے جس کے مقدمات نہیں کروائے گئے‘ معاشرے میں عورتوں پر ہونے والے اس اندوہناک جرم کی روک تھام کیلئے حکومت کو انتہائی ٹھو س اقدامات کرنے کے اشد ضرورت ہے‘ چونکہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد اکثر دیکھا گیاہے کہ مقتولہ کے گھر والے کسی نہ کسی دبائو میں آکر بالآخر صلح کر لیتے ہیں‘ جس سے مقدمہ غیرفعال اور بے اثر ہوجاتا ہے‘ جس سے ملزمان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے‘ کراچی کے علاقے بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن کی حدود میں اسی طرح کی ایک قتل کی واردات ہوئی ‘ جس میں ملزم محمد یوسف نے ایک تیز دھار آلے سے اپنی بیوی فرزانہ کو ذبح کرکے قتل کردیا‘ ملزم نے گرفتار ہونے کے بعد اعتراف جرم کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرنے والی بد چلن عورت تھی‘ پولیس نے واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی سلطان کی مدعیت میں مقدمہ 99/19 بجرم دفعہ 302/34 درج کرکے تفتیش شروع کردی

واقعے کے مطابق 7اپریل اتوار کا دن تھا‘ شام تقریباً 7 بجے کا وقت تھا‘ کراچی کے علاقے محمود آباد نمبر 2 کے رہائشی رکشہ ڈرائیور محمد یوسف ولد غلام فریدنے پے درپے وار کرکے اپنی بیوی کو قتل کردیا‘ مقتولہ سے ملزم کی ایک 5 سالہ بچی تھی‘ جبکہ ملزم کی یہ تیسری شادی تھی ‘ مقتولہ ملزم کی سابقہ بہو تھی‘ مقتولہ نے ملزم محمد یوسف کے بیٹے سے شادی کی تھی‘ جس سے اس کے 3 بچے تھے‘ جس کے بعد ملزم نے مقتول نے اپنے بیٹے سے علیحدگی کرواکر خود اپنی بہو کو بیوی بنا لیا‘ بعد ازاں اس پر بد چلنی کا الزام لگا کر اسے قتل کردیا‘ واقع والے دن اس درندہ صفت انسان نے بچوں کو گھر کے قریب واقع ایک پارک میں بھیج دیا‘ جبکہ خود گھر آگیا‘ جہاں مقتولہ گھر میں سوئی ہوئی تھی‘ ملزم نے گھر میں داخل ہونے کے بعد گھر کو لاک کیا اور مقتولہ کے گلے پر تیز دھار آلہ پھیر دیا‘ جس طرح ایک جانور کو ذبح کیا جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح ملزم نے اپنی اہلیہ کو قتل کیا اس کے بعد بھی اسے تسلی نہ ہوئی تو اس کے پیٹ میں بھی چھریاں ماریں ‘ ابھی ملزم واردات کرکے فارغ ہوا ہی تھاکہ پارک سے بچے بھی گھر آگئے اور اپنی ماں کو چارپائی پر مردہ حالت میں دیکھ کر رونے لگے‘ ملزم نے 15 پر اطلاع دی کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل کردیاہے‘ فلاں ایڈریس پر فوراً آجائو ‘ اطلاع دینے کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا‘ اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور نعش کو تحویل میں لے کر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال روانہ کردیا‘ واقع کی اطلاع اہل محلہ سے کسی نے مقتولہ کے بھائی سلطان کو بذریعہ فون دی کہ تمہاری بہن کے گھر کے باہر پولیس کھڑی ہے

یہ بھی پڑھیں : پریمی جوڑے نے پھانسی لگا لی

لوگ بھی جمع ہیں۔جس کے بعد اطلاع ملتے ہی سلطان بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گیا‘ تو دیکھا کہ اس کی بہن کی نعش خون میں لت پت چارپائی پر پڑی ہے‘ جس کے بعد پولیس کارروائی کرنے کے بعد سلطان نے اپنی بہن کی نعش کو تدفین کیلئے پولیس سے حاصل کیا اور اپنے آبائی علاقے ضلع بہاولپور روانہ ہوگیا‘ دوسری طرف مقتولہ کے بھائی کی نشاندہی پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد یوسف کو علاقے سے گرفتار کرلیا‘ جس نے قتل کا اعتراف بھی کرلیا‘ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملزم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا‘ جس کے بعد ملزم کو جیل روانہ کردیا گیا‘ قتل کے حوالے سے مقتولہ کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ ملزم اکثر میری بہن سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھااور اس پر الزام عائد کیا کہ تمہارے تعلقات غیر مردوں سے ہیں‘ میری بہن گھروں میں کام کرکے اپنی کفالت کیا کرتی تھی‘ جبکہ ملزم رکشہ چلایا کرتا تھا‘ ملزم نے جیل جانے سے پہلے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ غیر مردوں کے ساتھ فون پر ٹاک شاک کرتی تھی‘ واقعہ والے دن میں نے صبح سے پروگرام بنایا ہوا تھا کہ آج کسی بھی طرح اسکو قتل کرنا ہے‘ جس کے لیے اپنے بچوں کو پارک میں بھیجنے کے بعد اپنے گھنائونے جرم کا ارتکاب کیا‘ SIO بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن سعید اللہ نے قومی اخبار کو بتایا کہ دراصل مقتولہ نہیں بلکہ ملزم بد کردار تھا‘ جس نے اپنی پہلی بیوی کو چھوڑا‘ دوسری بیوی کو چھوڑا اب اس تیسری بیوی جوکہ اس کی سابقہ بہو تھی‘ اس کو قتل کیا‘ ملزم بد کردار بد فعل اور جاہل انسان ہے‘ اسے قتل کرنے کے بعد بھی اپنے کئے پر ذرا سی بھی ندامت نہیں ہے‘ اگر اتنا غیر ت مند تھا تو بیوی کو گھر کیوں نہیں بٹھاتاتھا‘ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے‘ تفتیش جاری ہے‘ مقتولہ کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے ‘ ایسے درندہ صفت لوگوں کیلئے قانون کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

(535 بار دیکھا گیا)

تبصرے