Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈائٹ مشروبات سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

ویب ڈیسک جمعه 03 مئی 2019
ڈائٹ مشروبات سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

کراچی … ایک نئی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات، جنہیں لوگ ڈائٹ ڈرنک بھی کہتے ہیں، سے شوگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور یہ موٹاپے کو کنٹرول کرنے میں مدد مشروبات نہیں ہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ ان مشروبات کو چینی نکال کر صحت کے لیے فائدہ مند بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن یہ لوگوں کے اندر زیادہ کھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

محققین نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پوری نیند کے باوجود سستی کیوں ہوتی ہے ؟

محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران امریکا میں 7 ہزار سے زائد بچوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دریافت کیا کہ جو بچے پانی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، وہ کم کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں ڈائٹ مشروبات پینے والے بچے 200 اضافی کیلوریز اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں اور دیگر غذائوں اور مشروبات میں زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے ڈائٹ مشروبات کا استعمال فائدہ مند نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چھاپے سے خبردار کرنے والا طوطا گرفتار

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

(114 بار دیکھا گیا)

تبصرے