Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بہت تکلیف ہوتی ہے

جواد رضا خان جامیؔ بدھ 01 مئی 2019
بہت تکلیف ہوتی ہے

میں دھرتی چیر کے سارے قسم کے پھل اگاتا ہوں

سمندر موڑ دیتا ہوں فلک کو کھینچ لاتا ہوں

پسینہ کی جگہ اپنے جگر کا خوں بہاتا ہوں

مگر جب اپنی خدمت کا صلہ گالی میں پاتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

مشقت سے مری یہ مصر کے اہرام واقف ہیں

مری ہمت سے تیرے شہر کے سب گام واقف ہیں

مگر احوال سے بس میرے صبح و شام واقف ہیں

میں اپنے بھوکے بچوں سے نگاہیں جب چراتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

مری محنت نے تیرے گھر لگایا ڈھیر دولت کا

مرے حصے میں اک روٹی کا ٹکڑا ساری محنت کا

تجھے مہنگا نہ پڑ جائے گھٹانا میری اجرت کا

میں چھالوں سے بھرے ہاتھوں میں جب سکے دباتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

محل تیرا مرے گندے لبادے سے دمکتا ہے

مرے عرقِ بدن سے تیرا سارا گھر چمکتا ہے

کہانی میری سن سن کر ترا بچہ بہلتا ہے

ترا گھر دور سے جب اپنے بچے کو دکھاتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

تری تعمیر میں نے کی مری تعمیر ادھوری ہے

مرے ہاتھوں میں اک لقمہ تری روٹی تو پوری ہے

مرا بیمار ہے بیٹا مرا جانا ضروری ہے

ضرورت پر بھی جب ہنگامِ رخصت میں نہ پاتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

زمانے بھر میں بڑھتی ہے اگر اجناس کی قیمت

تو بڑھ کر کیوں نہیں ملتی مرے احساس کی قیمت

لگاتا کیوں نہیں کوئی ہماری پیاس کی قیمت

میں سوکھے ہونٹ لے کر جب ندی سے لوٹ جاتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

مرے دم سے زمینیں ہیں تری سر سبز و تابندہ

بھلا تو کیا بنا لیتا اگر ہوتا نہ کارندہ

مصائب میں بھی رہ لیتا ہے تو مزدور ہی زندہ

حقائق تلخ ہیں جامی یہ جب پردہ اٹھاتا ہوں

“بہت تکلیف ہوتی ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے”

 

(جواد رضا خان جامی)

(370 بار دیکھا گیا)

تبصرے