Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پوری نیند کے باوجود سستی کیوں ہوتی ہے ؟

ویب ڈیسک پیر 29 اپریل 2019
پوری نیند کے باوجود سستی کیوں ہوتی ہے ؟

کراچی … کیا آپ دن بھر میں پوری نیند لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود سستی اور تھکن کا احساس برقرار رہتا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو ماہرین نے اس کی وجہ معلوم کر لی ہے۔ سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی لوگ اس مسئلے کا شکار ہیں کہ نیند پوری لینے کے باوجود وہ خود کو مکمل طور پر فعال اور متحرک محسوس نہیں کرتے اور پورا دن سستی کا شکار رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھکن کا شکار اکثر لوگ ورزش نہیں کرتے اور زیادہ تر وقت خود کو فعال اور متحرک رکھنے کیلئے چائے، کافی یا ایسے مشروب استعمال کرتے ہیں جن میں کیفین شامل ہوتی ہے، جسم میں کیفین کی مقدار دماغ میں پائے جانے والے ایک نیورو ٹرانسمٹر ایڈنوسین کو بلاک کر دیتی ہے جس کے باعث ہر وقت تھکن اور سستی کا احساس رہتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحرک رہنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دن کی شروعات ورزش سے کی جائے کیونکہ ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہی جسم میں موجود کیفین ضایع نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں : چھاپے سے خبردار کرنے والا طوطا گرفتار

رپورٹ کے مطابق، سات گھنٹے کی پوری نیند لینے والے لوگ ایسے لوگوںکے مقابلے میں بہت سست ہوتے ہیں جو ورزش تو کرتے ہیں لیکن سات گھنٹے نیند نہیں لیتے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایڈنوسین بلاک ہو جائے تو بے خوابی اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔

(201 بار دیکھا گیا)

تبصرے