Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 16  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شوہر نے بیوی کو پھانسی لگا دی

حسن رضاشاہ جعفری جمعه 26 اپریل 2019
شوہر نے بیوی کو پھانسی لگا دی

رپورٹ :سید حسن رضا شاہ جعفری
کراچی کے علاقے گلشن معمار میں شوہر نے بیوی کو مبینہ طورپر اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر گلے میں رسی ڈال کر قتل کردیا‘ مقتولہ شمع ایک بچے کی ماں تھی‘ پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور 2 دیوروں کو گرفتار کرکے واقع کی تفتیش کا آغاز کردیا‘ واقعے کے مطابق 25 فروری شام 6 بجے کا وقت تھا‘ گلشن معمار پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک لڑکی کی نعش ملی ہے‘ اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور نعش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا‘ ابتدائی طورپر لڑکی کے شوہر فیصل اور ان کے گھروالوں نے بتایا کہ لڑکی ذہنی مریضہ تھی‘ جس کا علاج چل رہا تھا پہلے بھی ماضی میں مقتولہ مرنے کی کوشش کرچکی ہے

مقتولہ نے خو د کشی کی ہے ‘ پولیس نے پوسٹ مارٹم اور کارروائی کے بعد نعش مقتولہ کے ورثاء کے حوالے کردی‘ جسے لے کر وہ تدفین کے لیے اپنے آبائی علاقے لاڑکانہ شہید اد کوٹ چلے گئے‘ واقعے کے 4 دن بعد جب مقتولہ کے اہل خانہ واپس کراچی پہنچے تو مقتولہ کے بھائی کا مران علی نے مقتولہ کے قتل کا مقدمہ مقتولہ کے شوہر فیصل خان اس کے بھائی بخت زادہ ‘ نعیم خان اور سلیم خان کے خلاف مقدمہ نمبر50/19 بجرم دفعہ 302/34 درج کروادیا‘ مقتولہ کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ میں بلال کالونی کو رنگی میں رہائش پذیر ہوںاور پیشے کے اعتبار سے ڈرائیونگ کرتا ہوں‘ قریب 17 ماہ پہلے میری بہن شمع کی شادی فیصل ولد جمعہ خان سے ہوئی تھی‘ میری بہن کی ایک بیٹی بھی ہے‘ میری بہن کی شادی گھر والوں کی مرضی سے طے پائی تھی‘ چونکہ ملزم ہمارا پڑوسی رہ چکا ہے ۔ لہٰذا ہمارا دیکھا بھالا تھاتو ہم نے اپنی بہن سے اس کا نکاح کروا دیا‘ لیکن شادی کے چند روز بعد ہی ملزم اور ا س کے گھر والوں کا رویہ بالکل بدل گیا اور وہ لوگ ہم سے سیدھے طریقے سے بات بھی نہیں کرتے تھے

نہ ہی ہماری بہن سے ہمارے گھروالوں کو ملنے دیتے تھے‘ کبھی کبھار ‘ فیصل بہن کو ملوانے ہمارے گھر لاتا تھا‘ لیکن فورا ہی اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا‘ جس کی وجہ سے ہمارے گھر والے بہت پریشان رہتے تھے کہ اچانک یہ لوگ کیو ں اتنا بدل گئے ہیں‘ پوچھنے کے باوجود بہن نے ہمیں کبھی نہیں بتایا کہ اس کے ساتھ مزید کیا ظلم ہورہاہے‘ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا ہنستا بستا گھر برباد ہوجائے ہے یا اس کی وجہ سے ہم لوگ پریشان ہوں‘ کچھ عرصہ بعد تو صورتحال اس تک آپہنچی کہ ملزم فیصل نہ ہماری بہن کو ہم سے ملنے دیتا اور زیادہ اسرار کرنے پر ہمیں او ر ہمارے گھر والوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاںبھی دیتاتھا‘ واقعے والے دن 24 فروری کو میں اپنی بہن کے گھر گلشن معمار کراچی آیا تھا‘ میں نے فیصل اور اس کے گھر والوں سے کہا کہ مجھے اپنی بہن سے ملوائو جس پر انہوںنے مجھے گھر پر گرائونڈ والی منزل پر بٹھایا اور خود اوپر چلے گئے‘ تھوڑ ی دیر کے بعد اوپر سے شور شرابے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں

یہ بھی پڑھیں : پریمی جوڑے نے پھانسی لگا لی

قریب 6 بجے کا وقت ہوگا کہ فیصل اوپر والی منزل سے نیچے آیا اور مجھے کہنے لگا کہ ہم نے آپ کی بہن کو مار دیاہے اس کی نعش اوپر پڑی ہوئی ہے یہ سنتے ہی میں او پر والی منزل پر گیاتو نعش کمرے میں پڑی ہوئی تھی‘ جس کے بعد ملزم نے پولیس کو فون کرکے بلا لیا اور پولیس کو بیان دیا کہ مقتولہ میری بہن نے خود کشی کرلی ہے‘ جس کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نعش کو اپنے قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا‘ جہاں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد پولیس نے نعش کو تدفین کی غرض سے ہمارے حوالے کردیا ‘ جس کو لے کر میں اپنے آبائی علاقے چلا گیا بعد ازاں تدفین کے بعد جب میں کراچی واپس آیا تو گھروالوں کے صلح مشورے کے بعد میں نے واقع کا مقدمہ درج کروایا‘ جس میں ملزمان کو نامزد کیاہے‘ واقعے کے حوالے سے مقتولہ کے بھائی کامران علی اور چاچا غلام رسول نے قومی اخبار کو بتایا کہ ہمارے بہن کے ساتھ ظلم ہوا ہے‘ ملزمان ظالم اور سفاک ہیں

جنہوں نے بے دردی سے ہماری بہن کو قتل کیا ہے‘ پولیس ہمارے ساتھ بالکل تعاون نہیں کررہی ‘ پولیس ملزمان کی مکمل سرپرستی کررہی ہے اور پارٹی کا کردار ادا کررہی ہے ‘ پولیس ملزمان کے کہنے پر واقع کو لین دین اور میری بہن کو مریضہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے‘ ہم غریب لوگ ہیں‘ جبکہ ملزمان پیسے والے ہیںاور سیاسی اثرو ر سوخ رکھنے والے ہیں‘ ملزمان ہمیں بھی دبائو میں لانے کی کوشش کررہے ہیںکہ ہم مفاہمت کرلیں اور صلاح کرلیں‘ لیکن ہمیں انصاف دیا جائے ‘ مفرور ملزم سلیم کو فوراً گرفتار کیا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے‘ واقعے کے حوالے سے تھانہ گلشن معمار کے تفتیشی آفیسر مجید لغاری نے قومی اخبار کو بتایا کہ دونوں پارٹیاں کورنگی بلال کالونی میں پڑوسی رہ چکے ہیں‘ جبکہ قریب ڈیڑھ سال پہلے دونوں میاں بیوی کی پسند کی شادی ہوئی تھی‘ جس سے 5 ماہ کی ایک بچی بھی ہے‘ ملزم پٹھان فیملی سے ہے ‘ جبکہ مقتولہ سندھی کھوسو فیملی سے ہیں‘ ملزم سریے وغیرہ کاکام کرتا ہے

سچل کے علاقے میں دکان ہے ‘ جبکہ آبا ئی تعلق سوات سے ہے ‘ مقتولہ کے گھر والوں کا ملزم کے ساتھ کوئی سریے وغیر ہ کا لین دین بھی تھا‘ جنہوں نے ملزم کے 2 لاکھ 80 ہزا ر روپے دینے تھے‘ دوسری طرف لڑکی کا بھائی ایک بیان میں یہ بھی بتا چکا ہے کہ میری بہن ذہنی مریضہ تھی ‘ جس کا علاج بھی چل رہا تھا‘ پولیس کو گھر سے کچھ دوائیاں بھی ملی ہیں‘ جن کی جانکاری ہم حاصل کررہے ہیں‘ آیا یہ کس مرض کیلئے ہیں‘ جبکہ مقتولہ کا بھائی اپنے گھر والوں کے دبائو میں آکر اب اپنے اس بیان سے مکر رہا ہے ‘ پولیس کسی بھی بے گناہ کو کسی کی ایماء پر یا خواہش پر بھینٹ نہیں چڑھا سکتی ‘ مقتولہ کے گھروالوں کے کہنے پر نامزد ملزمان کو گرفتارکرکے تفتیش شروع کردی ہے‘ اصل حقائق اور تحقیقات کی روشنی میں واقع کی اصل وجوہات دیکھ رہی ہے‘ انشاء اللہ جلد حقائق سامنے آجائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(490 بار دیکھا گیا)

تبصرے