Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 17 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رنگیلا ماموں بھانجی مار ڈالی

حاجی عیدو خان جیلانی جمعه 19 اپریل 2019
رنگیلا ماموں بھانجی مار ڈالی

سانگھڑ ضلع تعلقہ سنجھورو یوسی جعفر خان لغاری گائوں ٹھارو خان لغاری بیگ کے رہائشی زمیندار امجد بیگ کی 13 سالہ بیٹی مریم لغاری کو مبینہ طورپر سگے ماموں حمایت علی لغاری نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا‘ مریم کے جسم سے زائد خون نکلنے کی وجہ سے 13 سالہ مریم نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی‘ حیدرآباد پولیس نے ملزم حمایت علی لغاری کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا‘ واقعہ کی تحقیقات ڈی ایس پی حیدرآباد اور تھانہ انچارج حیدرآباد تحقیقات کرنے میں مصروف ‘ ہلاک ہونے والی 13 سالہ مریم لغاری کو آہو ں اور سسکیوں کے ساتھ اپنے آبائی گائوں سانگھڑ کے نواحی گائوں ٹھاروخان لغاری میں سپردخاک کردیاگیا

لغاری برادری کے سماجی ورکر معشوق علی بیگ نے ہمارے نمائندہ قومی اخبار حاجی عیدو خان جیلانی کو واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ کچھ روز قبل جعفر خان لغاری کے زمیندار امجد لغاری بیگ اپنی بیوی ‘بچوں اور 13 سالہ مریم لغاری کو حیدرآباد بھٹائی ٹائون قاسم آباد زین ٹاور کے فلیٹ نمبر5 میں رہائشی سگے ماموں حمایت علی بیگ کے پاس لیکر گیاہوا تھا‘ دوچار روز کے بعد دوسرے بچوں کو امجد علی لغاری واپس گائوں لے آیا اور فلیٹ پر اپنی گھر والی اور 13 سالہ مریم کو اپنے ماموں کے پاس چھوڑ آیا اور 2 روز کے بعد مریم کی والدہ میر پورخاص سے اپنی دوسری بیٹیوں کے پاس چلی گئی اور اپنی سگی بیٹی 13 سالہ مریم لغاری کو اس کے ماموں حمایت علی کی خدمت کیلئے حیدرآبادفلیٹ پر چھوڑ آئی ‘ حمایت علی کی 2 شادیاں بتائی جاتی ہیں اور مریم اپنے سگے ماموں کے پاس کھانابنانے اور ان کی خدمت کیلئے رہ گئی

واقعہ والی رات بتایا جاتاہے کہ رات کی تاریکی میں مبینہ طورپر سگے ماموں حمایت علی لغاری نے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے مریم لغاری کے ساتھ زیادتی کی ‘ ساری رات مریم کا خون بند نہیں ہوا اور بے ہوشی کی حالت میں مریم کی حالت بگڑ گئی‘ جس پر صبح کے وقت حمایت علی لغاری اپنی بھانجی کو لے کر قریبی اسپتال لے کر آگیا‘ جہاں پر ڈاکٹروں نے جواب دے دیااور کہاکہ لال بتی اسپتال حیدرآباد سینٹر لے جائو‘ جہاں پر حمایت علی اکیلا بے ہوش مریم کولال بتی اسپتال لے کر آگیااور گھر مریم کے والد امجد کو فون کیا کہ مریم کی طبیعت خراب ہوگئی ہے‘مگر حیدرآباد لال بتی اسپتال میں پہنچتے ہی تھوڑی دیر بعد مریم فوت چوچکی تھی‘ جس پر بغیر اطلاع اورپوسٹ مارٹم کے بغیر ہی حمایت علی فوت ہونے والی مریم کی نعش لے کر گائوں ٹھارو خان سانگھڑ امجد لغاری کے پاس روانہ ہوگیااور حمایت علی لغاری کو فون کیا کہ مریم کا انتقال ہوگیاہے

یہ بھی پڑھیں : پریمی جوڑے نے پھانسی لگا لی

میں نعش لے کر آرہا ہوں‘ صبح کے وقت حیدرآباد فلیٹ میں واقعہ کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی‘ کچھ رشتہ دار اسپتال لال بتی پہنچے جہاں بتایا گیا کہ مریم فوت ہوگئی اور بغیر بتائے مریم کی نعش لڑکی کے ماموں حما یت علی لے گیا‘ جس پر رشتہ داروںنے فوت ہونے والی لڑکی کے والد امجد کو اطلاع دی اور حیدرآباد پولیس کو رشتہ داروں اور اسپتال سے اطلاع ملنے پر حیدرآباد پولیس نے حیدرآباد سٹی بھٹائی ٹائون فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا‘ جہاں پر ہلاک ہلاک ہونے والی لڑکی مریم کی شلوار اور حمایت علی کی خون میں بھری ہوئی شلوار پولیس کو دستیاب ہوئی ‘ جس پر حیدرآباد پولیس نے سانگھڑ پہنچنے والی گاڑی میں حمایت علی اپنی بھانجی کی نعش لے کر جارہا تھاکہ گاڑی اور نعش سمیت گرفتار کرلیا گیا اور حیدرآباد نعش کو بھٹائی ٹائون قاسم آباد پولیس کے حوالے کردیاگیا

نعش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد نعش ورثہ کے حوالے کردی گئی ‘ واقعہ کی اطلاع سانگھڑ کے نواحی گائوں ٹھارو خان میں پہنچنے پر کہرام مچ گیااور رات کی تاریکی میں ہلاک ہونے والی بچی کی میت کو ورثہ نے آبائی قبرستان ٹھارو خان بیگ میںتدفین کردی گئی‘ مزید بتایا جاتاہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر ڈاکٹر بتائیں گے کہ 13 سالہ مریم لغاری بیگ کے ماموں حمایت علی لغاری حیدرآباد پولیس حراست میں ہے‘ حیدرآباد پولیس مبینہ طورپر ملزم حمایت علی لغاری سے پوچھ گچھ کررہی ہے‘

مزید معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والی مریم لغاری کے والد امجد لغاری کا کہنا ہے کہ میرا فیصلہ اللہ کے حوالے ہے ‘میرا اللہ بہتر کرے گا‘ پورے علاقے میں اس واقعہ پر سخت مذمت کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ‘ ایک حوا کی بیٹی کی عزت طار طار ہوگئی‘ نہ آسمان ‘ نہ زمین پھٹی ‘ کیا ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ہمارے معاشرے میں ختم کرنے کیلئے سخت سے سخت قانون نافذ کیاجائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

(540 بار دیکھا گیا)

تبصرے