Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ببلو گروپ کو نالہ نگل گیا

ویب ڈیسک جمعه 19 اپریل 2019
ببلو گروپ کو نالہ نگل گیا

9 اپریل کی شام 7 بجے نارتھ ناظم آباد سے متصل کچی آبادی نصرت بھٹو کالونی‘ قلندریہ چوک سے منگھوپیر جانے والے راستے پر میانوالی موڑ پر رینجرز چوکی کے قریب شور مچا کہ نالے میں 3 بچے ڈوب گئے ہیں۔ ڈوبنے والے ایک بچے نواب کا بھائی اللہ دتہ اپنے چھوٹے بھائی کو تلاش کرنے نالے میں اُترا‘ تھوڑی دیر میں اُس نے بچائو بچائو کی آوازیں لگائیں اور وہ بے ہوش ہوکر گر پڑا‘ اللہ دتہ کو بچانے اس کا کزن درویش اور پھر سہیل گئے تو اس کی بھی حالت خراب ہوگئی‘ باہر موجود اس کے ساتھی عامر نے رسی پھینک کر تینوں کو نالے سے باہر نکالا‘ اُس وقت تک عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور 3 بچوں کے نالے میں گرنے کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

رینجرز چوکی پر متعین جوانوں نے ایمبولینس اور ریسکیو ٹیم کو بھی طلب کرلیا۔ ایدھی شعبہ بحری خدمت کے رضا کار اور سٹی گورنمنٹ کی مشینری بھی پہنچ گئی تھی‘ بچے کب نالے میں گرے کسی کو نہیں معلوم تھا۔ میانوالی موڑ پر سڑک کے ایک جانب نالے کو سڑک کے دوسری جانب والے نالے سے ملانے کے لئے 2بڑے پائپ ڈالے گئے تھے جن میں سے بچہ تو گزر سکتا تھا کسی بڑے کا گزرنا ممکن نہیں تھا۔ نالے کے ساتھ ہی کباڑخانہ اور موٹر میکینک کی دکان تھی‘ نالے میں بچوں کی تلاش میں جانے والے نوجوان اللہ دتہ کو ہوش آیا تو اس نے بتایا کہ سڑک کے نیچے نالے سے زہریلی گیس کی بُو آرہی تھی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوا تھا اور اس کے رشتے داروں کی حالت بھی خراب ہوئی تھی۔

گندے پانی کی 2 سیوریج لائنوں میں سے ایک سیوریج لائن بند بھی تھی۔ سٹی گورنمنٹ کی ٹیم نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے پمپنگ مشین طلب کرلی تھی۔ پمپنگ مشین سے نالے کی لائن میں پریشر دیا گیا تو لائن میں پھنسا ہوا ایک بچہ رینجرز چوکی طرف نالے سے نظر آیا جس کو ایدھی کے رضاکاروں نے نکال لیا۔ اس طرح دیگر 2 بچے بھی نالے کی طرف نظر آئے تو بانسوں کی مدد سے لائن میں پھنسے بچوں کو باہر نکال لیا گیا۔ موقع پر موجود اللہ دتہ نے اپنے بھائی 10 سالہ نواب کی نعش تو شناخت کرلی لیکن دیگر 2 بچوں کی نعشیں شناخت نہ ہوسکیں‘ 3 بچوں کی موت کی خبر میڈیا پر شہ سرخیوں میں نشر ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھیں : رنگیلا ماموں بھانجی مار ڈالی

عباسی شہید اسپتال میں دوسرے بچے کی شناخت اختر اور تیسرے بچے کو ببلو کے نام سے شناخت کرلیا گیا‘ معلوم ہوا کہ تینوں بچے آپس میں گہرے دوست تھے‘ کچرا چن کر کباڑی کو فروخت کرتے تھے‘ بچوں کا گروپ ببلو گینگ کے نام سے مشہور تھا۔ نالے کے کنارے پر پاپی خان نامی کباڑی کا گودام ہے جہاں کچرے کے بورے موجود ہوتے ہیں۔پاپی اور اس کے دیگر 2 بھائی بچوں سے کچرا خریدتے تھے‘ 10 سالہ نواب نالے کے قریب گلی میں رہائش پذیر تھا‘ اس کا آبائی تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور سے تھا‘ وہ ایک گھر کے مکان میں اپنے معذور والد کوڑے خان اور 6 بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا‘ اس کے 2 بڑے بھائی مزدوری کرتے تھے‘ وہ کچرا چنتا تھا‘ 10 سالہ نواب کی ذمے داری تھی کہ شام کو وہ سبزی لے کر گھر جائے گا، وہ صبح سے ہی حصول رزق کے لئے گھر سے نکل جاتا تھا‘ اس کا چھوٹا بھائی وہاب بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا‘ بدھ کے دن شام کو وہاب تو گھر چلا گیا لیکن نواب واپس نہیں گیا۔ معصوم وہاب بھی ڈرا اور سہما ہوا تھا‘ ان کا معذور والد کوڑے خان ایک روزقبل ہی راجن پور گیا تھا۔

وہاب سے جب اس کی ماں نے سختی سے نواب کے بارے میں پوچھا تو اُس نے روتے ہوئے بتایا کہ نواب بھائی اب نہیں آئے گا‘ اس کی ماں کو تشویش ہوئی‘ اُس نے وہاب کو پانی پلایا اور اس کو دلاسہ دیا تو اس نے بتایا کہ آپ سبزی کسی اور سے منگوالو‘ نواب بھائی نہیں آئے گا‘ اسی اثناء میں ا س کا بڑا بھائی اللہ دتہ بھی گھر پہنچ گیا‘ اس نے معصوم بھائی سے پیار سے پوچھا تو دوپہر کو ہم نالے کے قریب کباڑ خانے کے سامنے کھیل رہے تھے نواب کی چپل پانی میں گری نواب چپل نکالنے پائپ میں گیا اس کی چیخ کی آواز سن کر اس کے دوست اختر اور ببلو بھی لائن میں گئے تھے‘ میں بھی اس کے پیچھے گیا‘ لیکن میرا دم گھٹنے لگاتو میں باہر آگیا‘ نواب نے مجھ سے کہا تھا کہ اماں کو بتا دینا میں چپل لینے جارہا ہوں‘ سبزی کسی اور سے منگوا لینا بچوں کو نالے میں گرے ہوئے 5 گھنٹے سے زائد کا وقت ہوگیاتھا‘ اللہ دتہ دوڑتا ہوا اپنے بھائی کی بتائی ہوئی جگہ پر نالے کے پاس گیا‘ اس نے نواب کو آواز دی‘ لیکن کوئی جواب نہیں ملا‘ نالے دونوں طرف بچے نہیں تھے

رینجرز چیک پوسٹ پر متعین رینجرز کے جوانوں نے بتایا کہ بچے دوپہر ایک بجے تک چوکی کے قریب کھیل رہے تھے‘ اللہ دتہ سے جب رہا نہیں گیا تو وہ اپنے بھائی کو تلاش کرنے نالے میں اترا تھا‘ جہاں وہ بھی بے ہوش ہوگیا‘مکینوںنے بتایا کہ کچرا چننے والے ٹنوں بچوں کی جوڑی بہت مضبوط تھی‘ وہ ساتھ گھومتے ‘ ساتھ کھاتے ‘ ساتھ کھیلتے تھے‘علاقہ مکینوں کو دوسرے 2 بچوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا‘ بعد میں معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والا اختر کٹی پہاڑی ‘ گجر شٹرنگ والے کے گھر کے قریب رہتا تھا‘ جبکہ تیسرے بچے کا نام تو معلوم نہیں تھا‘ یہ معلوم تھا کہ وہ ببلوکے نام سے مشہور تھا‘ وہ بھی قریبی آبادی میں رہتا تھا‘ 3 بچوں کی ہلاکت پر علاقے میں صف ماتم بچھ گئی تھی‘ معصوم نواب کے معذور والد کوڑے خان کو بچے کی ہلاکت کی اطلاع ملی تو وہ راجن پور سے کراچی کے لیے روانہ ہوگیا

یہ بھی پڑھیں : حیدرآباد میں امریکی آئل تیار

کوڑے خان نے قومی اخبار کو بتایا کہ ہمیں کسی سے شکایت نہیں ‘ اللہ کو یہی منظور تھا‘ میرا بیٹا بہت محنتی تھااور چھوٹی سی عمر میں گھر کی ذمہ داری اٹھا لی تھی‘ کوڑے خان نے بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ ابا میں تیری ٹانگوں کا علاج کرائوں گا ‘ وہ میرا شیر تھا‘ یہ کہتے ہوئے معذور کوڑے خان رونے لگا‘ اس نے بتایا کہ ہمیں نواب کے نالے میں گرنے کی اطلاع بہت دیر سے ملی‘ بچے 5 گھنٹے تک نالے میں پھنسے رہے‘ کسی نے انہیں نالے میں جاتے نہیں دیکھا‘ میرے چھوٹے بیٹے نے دیکھا تو تھا‘ لیکن ڈر کے مارے کسی کو نہیں بتایا، انہوںنے کہا رینجرز نے ہماری بہت مدد کی‘ معصوم نواب کی نماز جنازہ بلال مسجد میانوالی کالونی میں ادا کی گئی اور محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا

جس نالے میں بچے گرے ہیں وہ نصرت بھٹو کالونی منگھوپیر سے ہوتا ہوا نارتھ ناظم آبا د ‘ شاد مان ٹائون کے بڑے نالے سے ملتاہے‘ نالے میں بچے گرنے کا یہ پہلا واقعہ رونما نہیں ہواتھا‘گجرنالے میں گزشتہ سال 19 بچے گر کر ہلاک ہوئے ۔اورنگی ٹائون کے نالے میں 6 بچے ڈوب کر ہلاک ہوئے‘ شہر میں نالوں کی صفائی کا کام تعطل کا شکار ہے‘ جبکہ نالوں کے اوپر اور اطراف میں تجاوزات کی بھرمار سے پوری آبادیاں‘ بلڈنگیں اور مارکیٹس نالوں پر قائم ہیں‘ سپریم کورٹ کی جانب سے سٹی گورنمنٹ کو ہدایات کے باوجود نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ نہیں کیا گیا

گزشتہ سال کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ مظہر علی خان کی قیادت میں عدالت کے حکم پر گجر نالے ‘منظور کالونی نالے کے اطراف میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا‘ 3 ہزار سے زائد تجاوزات مسمار کی گئیں‘ اس آپریشن کی پاداش میں ڈائریکٹر لینڈ کاتبادلہ کردیا گیا‘ جس کے بعد نالوں پر پختہ تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوگیا‘منظور کالونی کے نالے پر تو مارکیٹ‘ ڈینٹر کی دکانیں اور کباڑخانے کھل گئے ہیں‘ نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالے بچوںکی جان لینے لگے ہیں۔

(214 بار دیکھا گیا)

تبصرے