Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 16  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خاکروب نے بیوی مار دی

حسن رضاشاہ جعفری جمعه 05 اپریل 2019
خاکروب نے بیوی مار دی

کراچی کے علاقہ محمودآباد تھانے کی حدود میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے پانی کے ٹینک میں پھینک دیااور فرار ہوگیا‘ محمود آباد پولیس نے 24 گھنٹے میں قتل کامعمہ حل کرتے ہوئے آلہ قتل برآمد کرلیا‘ ملزم عرفان مسیح نے قتل کا ا عتراف کرلیا‘ واقعے کے مطابق 3 مارچ کو رات ساڑھے 8 بجے کا وقت تھا کراچی کے علاقے محمود آباد تھانے کی حدود اعظم بستی میں قتل کی ایک واردات ہوئی ‘ جہاں عرفان مسیح نامی شخص جوکہ خاکروب کا کام کرتا تھا‘ اعظم بستی کا رہائشی تھا‘ جس نے معمولی گھریلو تلخ کلامی کی بناپر اپنی بیوی 22 سالہ ندا کو قتل کردیااور نعش کو اپنے گھر کے نیچے والے فلورمیں گرائونڈ میں واقع خالی مکان میں موجود پانی کے ٹینک میں پھینک دیا‘ ملزم ایک نجی ادارے میں خاکروب کا کام کرتا تھا‘ جس کی طرف سے آنے والے دنوں میں ملزم کا کراچی کے باہر کے علاقے میں کہیں تبادلہ متوقع تھا‘ ابتدائی بیان میں ملزم نے پولیس کو بتایاکہ واقع والے روز رات میں گھر پرموجود تھا‘ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا تبادلہ پشاور میں ہوگیاہے ‘ 5 تاریخ کو میں چلاجائوں گا‘ اگر تمہیں میری ماں کے ساتھ رہنا ہے تو بتا دو میں تمہیں وہاں چھوڑ دیتا ہوں‘ اگر اکیلے رہنا ہے تو یہاں پر رہتی رہو‘ جس پر وہ دونوں صورتوں میں راضی نہ ہوئی اور اسی بات کو لے کر تلخ کلامی ہوگئی ‘ جس پر ہمارا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا‘ جو کہ بعد ازاں ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگیا

جس پر میں نے اسے مارنا شروع کردیااور اپنے ہاتھ سے اس کی گردن پکڑ لی اور اس کا گلا دبا دیا‘ جس سے اس کا سانس رک گئی‘ میرا مقصد اس کو جان سے مارنے کا ہر گزنہیں تھا‘ لیکن اس کے مرجانے کے بعد میں گھبرا گیااور اس کی نعش میں نے نیچے والے گھر میں واقع پانی کے ٹینک میں پھینک دی اور اپنا سامان لے کر اپنی کمپنی میں چلا آیا‘ جس کے بعد دوسرے روز مجھے پولیس نے گرفتار کرلیا‘ واقعے کے حوالے سے مقتولہ کے والد خالد نے قومی اخبار کو بتایا کہ میری بچی کی شادی ہماری مرضی کے بغیر ہوئی تھی‘ ملزم ہمارے محلے میں رہتا تھااور جس ادارے میں وہ کام کرتاہے‘ میں بھی اسی ادارے میں ملازم ہوں‘ ملزم کی میری بیٹی کے ساتھ پسند کی شادی ہوئی تھی‘ جس کے بعد وہ اس کے ساتھ چلی گئی تھی اور گھروالوں سے اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا‘ شادی کے تقریباً 3 ماہ کے بعد میری بیٹی کی ساس ہمارے گھر آئی اور ہم سے رابطہ کیااور ہمیں بتایا کہ تمہاری بیٹی کی طبیعت خراب ہے اور وہ فلاں نجی اسپتال میں زیر علاج ہے جاکر اس سے مل لو ‘ اس پہلی ملاقات کے بعد سے ہم نے اس سے ملنا جلناشروع کردیا‘ لیکن زیادہ تر فون پر بات ہوا کرتی تھی‘ واقعے سے قریب 2 سے 3 دن پہلے سے ہم اپنی بچی سے ملنے کے لیے اسے فون کررہے تھے‘ لیکن اس کا موبائل نمبر بند جارہا تھا‘ جس پر ہمیں تشویش ہوئی اور ہم اس کے گھر چلے گئے‘ لیکن وہاں پر بھی تالا لگا ہوا تھا‘ جس مکان میں ہماری بیٹی رہتی تھی وہ 3 منزلوں پر مشتمل تھا‘ جو کہ مالک مکان نے الگ الگ کرائے پر دیئے ہوئے تھے‘ میری بیٹی پہلی منزل پر رہتی تھی‘ جبکہ نیچے کا مکان خالی تھا اور میری بیٹی کی منزل سے اوپر والی منزل پر ایک اور کرائے دار رہتے تھے‘ جن سے میں نے بچی کا پوچھا تو انہوںنے بتایا کہ کل سے تالا لگا ہوا ہے‘ آپ اپنا موبائل نمبر دے دیں‘ جب آپ کی بچی آئے گی تو میں آپ کو بتا دوں گی‘ جس پر ہم اپنی بچی کی پڑوسن سے رابطے میں آگئے تھے

یہ بھی پڑھیں : منشیات فروشوں کی شامت

جس دن نعش ملی تھی‘ اس دن جب ہم وہاں تھے اور اس سے پوچھاتو اس نے بتایاکہ میں کام سے شام میں واپس آئی تو گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا‘ جبکہ گھر میں نیچے پانی کے ٹینک سے نعش ملی تھی‘ جس پر ہم نے فوری طورپر پولیس سے رابطہ کیا‘ پولیس کے بتانے پر ہم جناح اسپتال پہنچے اور اپنی بچی کی شناخت کرلیااورملزم کے حوالے سے پولیس کو معلومات فراہم کیں‘ پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعش تدفین کی غرض سے ہمارے حوالے کردی‘ جسے ہم نے ڈیفنس ویو قبرستان میں سپردخاک کیا‘ بعد ازاں بیٹی کے قتل کا مقدمہ 71/19 بجرم دفعہ 302 درج کروایا‘ جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی‘ واقعے کے حوالے سے تھانہ محمود آباد کے SIOیامین گجر نے قومی اخبار کوبتایا کہ جس مکان سے نعش ملی ‘ وہ مکان ایک 2 ماہ سے خالی تھا‘ جس میں ایک نیا کرائے دار آیا تھا‘ وہ گھر کی صفائی ستھرائی کروارہا تھا‘ شفٹ ہونے کے لیے پانی ٹینکوں میں نہ آنے کی وجہ سے پلمبر کو بلایااور گھر کی صفائی پانی ٹینک کی صفائی کا کرنے کو کہا‘ جب مزدور نے پانی کا ٹینک کھولا تولڑکی کی نعش اندر تیر رہی تھیں‘ پہلے تو وہ سمجھا کہ کوئی مصنوعی گڑیا وغیرہ ہے

لیکن جب روشنی کی تو معلوم ہوا کہ نعش کسی لڑکی کی ہے‘ جس پر انہوںنے فوری طورپر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد ہم نے فوری جائے وقوعہ پر پہنچ کر نعش کو پولیس کارروائی کیلئے اسپتال منتقل کردیا‘ پولیس افسرنے بتایا کہ مقتولہ اور ملزم دونوں مسیح فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ جنکی پسند کی شادی 2015 ء میں ہوئی تھی‘ جس کے بعد یہ مسلمان ہوگئے تھے‘ ملزم پہلے سے شادی شدہ اور 3 بچوںکا باپ ہے‘ جس کی پہلی بیوی اس کی ماں کے ساتھ رہتی ہے ‘ دونوں اعظم بستی کے رہائشی ہیں‘ جبکہ شادی کے بعد سے ملزم بیوی کے ہمراہ علیحدہ رہ رہا تھا‘ ملزم سو ئپر کا کام کرتا ہے‘ ملزم اکثر بیوی سے جھگڑتا رہتا تھا‘ جس نے پولیس کو بتایا کہ مجھے اس پر شک تھا کہ اس کا چال چلن ٹھیک نہیں ہے‘ وہ غیر لڑکوں سے فون پر ٹاک شاک کرتی ہے‘ اکثر گھر میں اس بات کو لے کر بھی لڑائی ہوتی تھی‘ واقعے والے دن جب میں نے اس سے اپنی ماں کے ساتھ رہنے کے لیے کہا تو ہماری تلخ کلامی ہوگئی ‘ جس کے بعد نوبت لڑائی پر آگئی اور میںنے اسے مارا جس سے اس کی موت واقع ہوئی‘ پولیس کے مطابق واقع کے بعد لڑکی کی گھر والوں کی نشاندہی پر جب نجی ادارے میں پولیس نے رابطہ کیاتو انہوںنے ملزم کے کام کرنے کی اور وہاں ہونے کی تصدیق کی‘ جس کے بعد پولیس نے اسے کراچی سے ہی گرفتار کرلیا‘ قانون کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی‘ ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیاہے‘ جبکہ ملزم کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد ہواہے ۔

(261 بار دیکھا گیا)

تبصرے